| 90033 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
والدمرزا محمد کمال بیگ2006 میں فوت ہوئے، پھر والدہ نازک جہاں 2012 میں فوت ہوگئی،ان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں،ایک بیٹے کا انتقال 2025 میں ہوگیاہے،سوگواران میں بیوہ،اور ایک بیٹا (adopted) ہے،اپنا نہیں ہے۔جائیداد میں ایک مکان جہاں رہائش پذیر ہیں اور ایک پلاٹ ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1۔ والدمرزا محمد کمال بیگمرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مال کو 96 حصوں میں تقسیم کیا جائے،جن میں سے بیوی کو12 حصے، ہر بیٹے کو 14 حصے،ہربیٹی کو7 حصے دیے جائیں،یعنی بیوی کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد جو بچ جائے وہ اس طرح تقسیم کیاجائے کہ ہر بیٹے کو دوحصے اور ہر بیٹی کو ایک حصہ مل جائے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
12 |
12.5 |
2 |
بیٹا |
14 |
14.5833 |
3 |
بیٹا |
14 |
14.5833 |
4 |
بیٹا |
14 |
14.5833 |
5 |
بیٹا |
14 |
14.5833 |
6 |
بیٹی |
7 |
7.2916 |
7 |
بیٹی |
7 |
7.2916 |
8 |
بیٹی |
7 |
7.2916 |
9 |
بیٹی |
7 |
7.2916 |
2۔والد کی اس وراثت میں سے آپ کی والدہ نازک جہاں کو آٹھواں حصہ(12.5 فیصد)ملاتھا،ان کے انتقال کے بعد یہ بھی بچوں میں تقسیم ہوگا،اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ والدہ نازک جہاں نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحومہ کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحومہ کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مال کو 12 حصوں میں تقسیم کیا جائے،جن میں سےہر بیٹے کو 2 حصے،ہربیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ(12.5 فیصد میں سے) |
1 |
بیٹا |
2 |
2.0833 |
2 |
بیٹا |
2 |
2.0833 |
3 |
بیٹا |
2 |
2.0833 |
4 |
بیٹا |
2 |
2.0833 |
5 |
بیٹی |
1 |
1.0416 |
6 |
بیٹی |
1 |
1.0416 |
7 |
بیٹی |
1 |
1.0416 |
8 |
بیٹی |
1 |
1.0416 |
3۔جس بیٹے کا انتقال ہوا ہے،اس کو والدسے ملنے والا حصہ(14.5833) اور والدہ سے ملنے والا حصہ (2.0833) جمع کیا جائے گا،جن کا مجموعہ (16.6666) بنتا ہے،یہ اس کے ورثہ میں تقسیم ہو گا۔اس کے ورثہ میں بیوی،تین بھائی اور چار بہنیں ہیں،لے پالک بیٹے کو حصہ نہیں ملے گا، تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ بھائی نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ مال کو 40 حصوں میں تقسیم کیا جائے،جن میں سے بیوی کو10 حصے، ہر بھائی کو 6 حصے،ہربہن کو3 حصے دیے جائیں۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ(16.6666) میں سے |
1 |
بیوی |
10 |
4.1666 |
2 |
بھائی |
6 |
2.4999 |
3 |
بھائی |
6 |
2.4999 |
4 |
بھائی |
6 |
2.4999 |
5 |
بہن |
3 |
1.2499 |
6 |
بہن |
3 |
1.2499 |
7 |
بہن |
3 |
1.2499 |
8 |
بہن |
3 |
1.2499 |
4۔والد،والدہ اور بھائی کے انتقال کے بعد ان کاحصہ ورثہ میں تقسیم کیا گیا، ہر ایک کا انفرادی حصہ بیان ہواہے،اب مجموعی طور پر اس مکان اور پلاٹ میں سب کا حصہ اس حساب سے بن رہا ہے۔
|
نمبر |
وارث |
فیصدی حصہ |
1 |
بیٹے کی بیوہ |
4.1666 |
2 |
بیٹا |
19.1662 |
3 |
بیٹا |
19.1662 |
4 |
بیٹا |
19.1662 |
5 |
بیٹی |
9.5831 |
6 |
بیٹی |
9.5831 |
7 |
بیٹی |
9.5831 |
8 |
بیٹی |
9.5831 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
25/ شوال 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


