| 90028 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میری بیٹی جس کا نام کائنات ہے،اس کاشوہر شراب پیتاہے،رات 3 بجےان کی لڑائی ہوئی،میں جاتی ہوں،میرےسامنےمیرادامادنشےکی حالت میں میری بیٹی کودودفعہ طلاق دیتاہے،پھر3 مہینےکےبعد رات 3 بجےلڑائی ہوئی،مجھےمیری بیٹی فون کرتی ہےکہ مجھےمیرےشوہرنےتیسری بار طلاق دیدی ہے،جب میں اس کےپاس گئی توبیٹی نےبتایاکہ میرےشوہرنےلڑائی میں سارےگھرکاسامان توڑدیاہے،مجھےماراہےاور جاتےہوئےمجھےبولاہےکہ تم اب میری طرف سےآزاد ہو،جہاں مرضی جاؤ،مجھےپوچھنا یہ ہےکہ کیاتیسری بار آزاد کالفظ بولنےسےطلاق ہوجاتی ہے،مجھےفتوی چاہیے،مہربانی کرکےراہنمائی فرمائیں۔
واضح رہےکہ نشےکی حالت میں دوطلاق ہوئی اوراس کےبعد آزاد کالفظ بولاہے۔
تنقیح: لڑکی کی والدہ نےوضاحت کی ہےکہ دوطلاق کےبعد میاں بیوی ساتھ رہ رہےتھے،پہلی دو طلاق کےبعد علیحدگی نہیں ہوئی تھی،رجوع ہوچکاتھا،اس کےبعد آزادکالفظ بولاگیاہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں مذکورہ جملہ " تم اب میری طرف سےآزاد ہو،جہاں مرضی جاو" طلاق کے باب میں کنائی جملہ شمارہوتاہے، اس جملے کے ذریعہ طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب شوہر کی نیت طلاق دینے کی ہو یا اگر عورت بار بار طلاق کا مطالبہ کر رہی ہو اور شوہر اس کے مطالبے کے جواب میں یہ جملہ کہے، یا شوہر غصے کی حالت میں اس جملے کو کہے، تو ان صورتوں میں بیوی کو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
اور آخری دونوں صورتوں میں اگر شوہر یہ دعوی کرے کہ اس کی نیت طلاق دینے کی نہیں تھی، تو قضاء شوہر کا یہ دعوی معتبر نہیں ہو گا۔
سوال میں ذکر کر دہ صورت میں شدید غصےکی حالت میں یہ الفاظ کہےگئےہیں،لہذا بیوی پراس لفظ سےایک طلاق بائنہ واقع ہوگئی ہے۔
چونکہ نشہ کی حالت میں بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے،اس لیےآزاد کےلفظ سےپہلےجودوطلاق رجعی نشہ کی حالت میں دی گئی ہیں،وہ واقع ہوگئی تھی،اس کےبعدجب آزادکالفظ کہاتوچونکہ آزاد کےلفظ سےطلاق بائن واقع ہوئی، اوردوطلاق رجعی کےبعد بائنہ طلاق واقع ہونےکی وجہ سےتین طلاق مغلظہ واقع ہوچکی ہیں۔
لہذا شوہرکو یہ مسئلہ بتایاجائےاور میاں بیوی کےدرمیان جلد علیحدگی کروائی جائے۔دوبارہ ساتھ رہناہوتوحلالہ شرعیہ ضروری ہوگا۔حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ مطلقہ عورت عدت گزارنے کےبعدکسی اورمردسےباقاعدہ غیرمشروط نکاح کرےاورپھرہمبستری کےبعدکسی وجہ سے دوسراشوہر طلاق دیدے یااس کاانتقال ہوجائے توپہلی صورت میں عدت طلاق اوردوسری صورت میں عدت وفات گزارنے کے بعدسابقہ شوہر سے نئے مہراورگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کیاجاسکتاہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار" 3/296: "
(كنایتہ [الطلاق]) عند الفقهاء (مالم يوضع له) أي الطلاق، (واحتمله وغيره (ف) الكنایات (لاتطلق بها) قضاء إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب. فالحالات ثلاث: رضا، وغضب، ومذاكرة، والكتابات ثلاث: ما يحتمل الرد، أو ما يصلح للسب، أو لا ولا ، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال ۔۔والقول له. (وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع، وإلا لا، (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو، لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية؛ لأنها أقوى،لكونها ظاهرة، والنية باطنة۔
" رد المحتار: (11/179)"
والحاصل أن الأول ما يحتمل الرد يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني ما يصلح للسب) في حالة الرضا والغضب فقط، ويقع في حالة المذاكرة بلانية، والثالث [مالاًيحتمل الرد، وما لا يحتمل السب ) يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلانية"
"ردالمحتار" 2/456
:قال فی التنویر ویقع طلا ق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدا اومکرہااوھازلااوسفیہااوسکران وفی الشرح تحت قولہ عاقل ولوتقدیرابدائع لیدخل السکران ۔
"الدر المختار للحصفكي" 3 / 259:(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران ۔۔۔۔۔۔(أو سكران) ولو بنبيذ أو حشيش أو أفيون أو بنج زجرا به يفتى۔
"رد المحتار" 10 / 472:
وصرح في البدائع وغيرها بعدم وقوع الطلاق بأكله معللا بأن زوال عقله لم يكن بسبب هو معصية ۔والحق التفصيل ، وهو إن كان للتداوي لم يقع لعدم المعصية ، وإن للهو وإدخال الآفة قصدا فينبغي أن لا يتردد في الوقوع ۔وفي تصحيح القدوري عن الجواهر : وفي هذا الزمان إذا سكر من البنج والأفيون يقع زجرا ، وعليه الفتوى ، وتمامه في النهر ( قوله زجرا ) أشار به إلى التفصيل المذكور ، فإنه إذا كان للتداوي لا يزجر عنه لعدم قصد المعصية۔
"الفتاوی الھندیۃ” ج 1/377:
والطلاق البائن یلحق الطلاق الصریح بأن قال انت طالق ثم قال لہاانت بائن طلقہ اخری ولایلحق البائن البائن۔
"ھدایۃ " 2 /378:
وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ الخ لاتحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحاصحیحاویدخل بہاثم یطلقہاأویموت عنہا۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
24/شوال 1447ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


