| 90059 | قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ عام طور پر رکوع کی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ ایک ایسے مجموعے کا نام ہے جو ہم معنی اور ہم موضوع آیات پر مشتمل ہوتا ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ سورہ واقعہ کا پہلار کوع آیت نمبر 38 پر ختم ہو جاتا ہے ، حالانکہ آیت نمبر 40 پر ختم ہونا چاہیے تھا۔ اس کا جواب تفصیل کے ساتھ مع حوالہ جات چاہیے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ رکوع کی تقسیم راجح قول کے مطابق غیر توقیفی ہے اور عہدنبوی میں اس کا ثبوت نہیں ملتا ، اور بعد میں متعین طور پر اس کی تاریخ معلوم نہیں اورقرآنی رکوعات کی تعداد میں اختلاف بھی منقول ہے، لہذا جس طرح ممکن ہے کہ رکوعات کی علامت لگانے میں اختلاف ہوا ہے ۔(حاشیہ علوم القرآن از عثمانی : ص۱۹۸)اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ بعض رکوعات کی علامت لگانے کے موقع میں اختلاف یا اس کی نقل میں تسامح اور غلطی واقع ہو ئی ہو،لہذا جہاں واضح طور پر رکوع کی علامت بے موقع لگی ہو توتلاوت میں علامت کے بجائے معنی کی رعایت کو ترجیح دینی چاہئے اور جہاں دونوں احتمال درست ہوں تو ایسے موقع پر کسی بھی موقع کی رعایت کی جاسکتی ہے ۔
حوالہ جات
۔۔۔۔۔۔
نواب الدین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۶ شوال۱۴۴۷ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نواب الدین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


