03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منشی کا ڈرائیور کے ساتھ کمیشن کا معاہدہ
90088اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں عُلمائے کرام اس مسئلہ میں کہ:کوئٹہ میں زید کی ایک کمپنی ہے۔ یہاں لوکل ٹوڈی (کوئٹہ ٹو مسلم باغ)، اسپیشل ٹوڈی (کوئٹہ سے ہر جگہ) اور چابی پر ٹوڈی گاڑیاں دستیاب ہیں۔ پانچ لوگوں نے اپنی گاڑیاں ڈرائیونگ پر پانچ لوگوں کو دی ہیں کہ اس مذکورہ کمپنی میں چلائیں۔وضاحت نمبر 1:ایک گاڑی دن میں ایک ہی چکر لگاتی ہے، تو 5 گاڑیوں کے 5 چکر ہوگئے۔ اب ظاہر بات ہے کہ سواریوں کی تلاش کے لیے زید کو منشی کی ضرورت ہے، پس جاوید کو 15 ہزار ماہانہ تنخواہ پر منشی رکھا گیا۔ وہ سارا دن یہی کام کرتا ہے کہ سواری تلاش کرے یا مال کا لوڈ تلاش کرے (اسی کام پر اس کو اجرت ملتی ہے)۔ لیکن چونکہ 15 ہزار ماہانہ بہت کم رقم ہے، اس وجہ سے زید نے مزدور (جاوید) کے ساتھ بوقتِ عقد تین معاہدے کیے(1)آپ 15 ہزار تنخواہ کے ساتھ ساتھ ہر ڈرائیور سے فی چکر (یعنی فی یوم) 100 روپے کمیشن لے لیا کریں۔(2)اگر تم نے کسی ڈرائیور کے لیے اسپیشل (مثلاً کوئٹہ سے لاہور کا) لوڈ تلاش کیا تو اس پر بھی آپ مذکورہ ڈرائیور سے الگ 1000 یا 2000 روپے کمیشن لے سکتے ہو۔(3)بعض لوگ اس منشی کو فون کرکے چابی پر گاڑی مانگتے ہیں (چابی پر گاڑی کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً تین دن کے لیے مجھے گاڑی دے دو، چلاؤں گا میں خود، ڈرائیور کی ضرورت نہیں)، اس پر بھی آپ مذکورہ ڈرائیور سے فی یوم 500 یا 1000 روپے کمیشن لے سکتے ہو۔وضاحت نمبر2:ڈرائیور سے جس صورت میں بھی جتنا بھی کمیشن لیا جاتا ہے، وہ یہ کمیشن گاڑی کے مالک سے (مہینے کے آخر میں حساب کرتے وقت) پورا پورا وصول کرتا ہے۔وضاحت نمبر 3:کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈرائیور حضرات خود لوڈ تلاش کرتے ہیں یا سواری از خود آجاتی ہے (نہ کہ منشی کے تلاش کرنے سے)، اس لوڈ پر بھی منشی حسبِ معاہدہ اپنا (یومیہ 100 روپے) کمیشن لیتا ہے، جبکہ ایسی لوڈ میں منشی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔وضاحت نمبر 4:کبھی کبھار کوئی گاہک اس منشی سے فون کرکے چابی پر گاڑی مانگتا ہے تو منشی اپنی کمپنی کے علاوہ کسی دوسری کمپنی کے ڈرائیور سے رابطہ کرکے گاڑی دلواتا ہے اور اس ڈرائیور سے بھی کمیشن لیتا ہے۔ کبھی تو وہ دوسری کمپنی کا ڈرائیور خود آواز لگاتا ہے کہ جو مجھے سواری فراہم کرے گا میں اس کو کمیشن دوں گا (جیسا کہ جعالہ میں ہوتا ہے)، پھر یہ والا منشی اس کو سواری فراہم کرکے کمیشن لیتا ہے۔آخری وضاحت:معاہدے میں مذکورہ تینوں باتوں کا ڈرائیوروں، گاڑی کے مالکوں، منشی اور سیٹھ (زید) سب کو پتا بھی ہے اور سب راضی بھی ہیں۔

کیا یہ معاملہ درست ہے؟ کوئی شق اگر خلافِ شریعت ہے تو اس کا متبادل بھی تحریر فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً۔

کیا فرماتے ہیں عُلمائے کرام اس مسئلہ میں کہ:کوئٹہ میں زید کی ایک کمپنی ہے۔ یہاں لوکل ٹوڈی (کوئٹہ ٹو مسلم باغ)، اسپیشل ٹوڈی (کوئٹہ سے ہر جگہ) اور چابی پر ٹوڈی گاڑیاں دستیاب ہیں۔ پانچ لوگوں نے اپنی گاڑیاں ڈرائیونگ پر پانچ لوگوں کو دی ہیں کہ اس مذکورہ کمپنی میں چلائیں۔وضاحت نمبر 1:ایک گاڑی دن میں ایک ہی چکر لگاتی ہے، تو 5 گاڑیوں کے 5 چکر ہوگئے۔ اب ظاہر بات ہے کہ سواریوں کی تلاش کے لیے زید کو منشی کی ضرورت ہے، پس جاوید کو 15 ہزار ماہانہ تنخواہ پر منشی رکھا گیا۔ وہ سارا دن یہی کام کرتا ہے کہ سواری تلاش کرے یا مال کا لوڈ تلاش کرے (اسی کام پر اس کو اجرت ملتی ہے)۔ لیکن چونکہ 15 ہزار ماہانہ بہت کم رقم ہے، اس وجہ سے زید نے مزدور (جاوید) کے ساتھ بوقتِ عقد تین معاہدے کیے(1)آپ 15 ہزار تنخواہ کے ساتھ ساتھ ہر ڈرائیور سے فی چکر (یعنی فی یوم) 100 روپے کمیشن لے لیا کریں۔(2)اگر تم نے کسی ڈرائیور کے لیے اسپیشل (مثلاً کوئٹہ سے لاہور کا) لوڈ تلاش کیا تو اس پر بھی آپ مذکورہ ڈرائیور سے الگ 1000 یا 2000 روپے کمیشن لے سکتے ہو۔(3)بعض لوگ اس منشی کو فون کرکے چابی پر گاڑی مانگتے ہیں (چابی پر گاڑی کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً تین دن کے لیے مجھے گاڑی دے دو، چلاؤں گا میں خود، ڈرائیور کی ضرورت نہیں)، اس پر بھی آپ مذکورہ ڈرائیور سے فی یوم 500 یا 1000 روپے کمیشن لے سکتے ہو۔وضاحت نمبر2:ڈرائیور سے جس صورت میں بھی جتنا بھی کمیشن لیا جاتا ہے، وہ یہ کمیشن گاڑی کے مالک سے (مہینے کے آخر میں حساب کرتے وقت) پورا پورا وصول کرتا ہے۔وضاحت نمبر 3:کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ ڈرائیور حضرات خود لوڈ تلاش کرتے ہیں یا سواری از خود آجاتی ہے (نہ کہ منشی کے تلاش کرنے سے)، اس لوڈ پر بھی منشی حسبِ معاہدہ اپنا (یومیہ 100 روپے) کمیشن لیتا ہے، جبکہ ایسی لوڈ میں منشی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔وضاحت نمبر 4:کبھی کبھار کوئی گاہک اس منشی سے فون کرکے چابی پر گاڑی مانگتا ہے تو منشی اپنی کمپنی کے علاوہ کسی دوسری کمپنی کے ڈرائیور سے رابطہ کرکے گاڑی دلواتا ہے اور اس ڈرائیور سے بھی کمیشن لیتا ہے۔ کبھی تو وہ دوسری کمپنی کا ڈرائیور خود آواز لگاتا ہے کہ جو مجھے سواری فراہم کرے گا میں اس کو کمیشن دوں گا (جیسا کہ جعالہ میں ہوتا ہے)، پھر یہ والا منشی اس کو سواری فراہم کرکے کمیشن لیتا ہے۔آخری وضاحت:معاہدے میں مذکورہ تینوں باتوں کا ڈرائیوروں، گاڑی کے مالکوں، منشی اور سیٹھ (زید) سب کو پتا بھی ہے اور سب راضی بھی ہیں۔

کیا یہ معاملہ درست ہے؟ کوئی شق اگر خلافِ شریعت ہے تو اس کا متبادل بھی تحریر فرما دیں۔جزاکم اللہ خیراً۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 جاوید کے ساتھ زید کا جو معاہدہ ہے وہ اجیرِ خاص کا معاہدہ ہے، اجرت کے دو حصے طے ہوئے ہیں : ایک متعین یعنی پندرہ ہزار اور ایک متغیر یعنی فی چکر 100 روپے ۔ جبکہ جاوید کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ  ڈرائیوروں کے ساتھ اسپیشل لوڈ یا چابی پر گاڑی مانگنے کی صورت میں  آپس میں طے شدہ کمیشن لے سکتاہے ، پس جاوید کا زید کے ساتھ اور ڈرائیور کے ساتھ  ہونے والا معاملہ  درست ہے ۔چونکہ   پہلا معاملہ نظام سنبھالنے اور نگرانی کی اجرت ہے، لہذا جس صورت میں جاوید کا کوئی عملی دخل نہ بھی ہو، تو جاوید کے لیےسو روپے فی چکرکی  اجرت لینا جائز ہوگا۔اوردوسرا معاملہ کمیشن کاہے ، لہذا اس میں اگر جاوید کوئی کام دلوانے میں کردار ادا کرے گا تو اس کا کمیشن لینا درست ہے، اگر  اس کا کوئی کردار نہ ہوا تو کمیشن کا مطالبہ درست نہ ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 47)

قال في البزازية: إجارة السمسار والمنادي والحمامي والصكاك وما لا يقدر فيه الوقت ولا العمل تجوز لما كان للناس به حاجة ويطيب الأجر المأخوذ لو قدر أجر المثل وذكر أصلا يستخرج منه كثير من المسائل فراجعه في نوع المتفرقات والأجرة على المعاصي

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63)

قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة.

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 243)

قال: "والأجير الخاص الذي يستحق الأجرة بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل كمن استؤجر شهرا للخدمة أو لرعي الغنم" وإنما سمي أجير وحد؛ لأنه لا يمكنه أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه في المدة صارت مستحقة له والأجر مقابل بالمنافع، ولهذا يبقى الأجر مستحقا، وإن نقض العمل.

المعايير الشرعية (852)

/٤ الأجير الخاص، وهو من يعمل لجهة واحدة وتحت إشرافها، لا يحق له في الوقت المستأجر عليه أن يعمل لغيرها إلا بإذنها.الأجير المشترك، وهو من يعمل لأكثر من جهة، دون التقيد بالعمل في وقت بعينه لمستأجر معين، يحق له أن يعمل لمن يشاء.

المعايير الشرعية (855)

يجب أن تكون الأجرة  معلومة علما ينتفي معه التنازع ... و يجوز أن تكون بمبلغ ثابت أو متغير قائم على طريقة معلومة للطرفين.

امداداللہ بن مفتی شہیداللہ 

تخصص فی الافتاء ، جامعۃ الرشید کراچی

ذیقعدہ/2/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

امداد الله بن مفتی شہيد الله

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب