| 90107 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
**معزز مفتیانِ کرام! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ**
ایک اہم مسئلے میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔ چونکہ یہ مسئلہ ایک گاؤں کے علماء کے درمیان زیرِ بحث ہے، اس لیے گزارش ہے کہ حوالہ جات کے ساتھ جواب عنایت فرمایا جائے۔
مسئلہ:ایک شخص، مثلاً **زید**، محکمۂ اوقاف میں درخواست دیتا ہے کہ ہمارے علاقے میں مسجد کی اشد ضرورت ہے، لہٰذا اس کے لیے سرکاری فنڈ منظور کرایا جائے۔ اس سلسلے میں زید کافی محنت اور کوشش کے بعد دس سے پندرہ لاکھ روپے حکومتی خزانے میں جمع کروا کر مسجد کے لیے مخصوص فنڈ منظور کروا لیتا ہے۔ محکمۂ اوقاف مسجد کا نقشہ اور تعمیراتی خاکہ طے کر کے دیتا ہے اور ہدایت دیتا ہے کہ منظور شدہ فنڈ سے اسی نقشے کے مطابق مسجد تعمیر کی جائے۔
اس صورتِ حال کے پیشِ نظر درج ذیل سوالات کے شرعی جوابات مطلوب ہیں:
سوال ۱:فنڈ کی منظوری سے پہلے زید نے جو دس سے پندرہ لاکھ روپے اپنی جیب سے جمع کروائے تھے، کیا انہیں منظور شدہ فنڈ سے واپس وصول کرنا شرعاً جائز ہے؟
سوال ۲:فنڈ کی منظوری کے لیے زید نے جو محنت کی خود بھی اور دوسروں سے سفارش بھی کروائی اس دوران کرایہ، چائے، پانی اور دیگر اخراجات پر جو رقم صرف ہوئی، کیا وہ منظور شدہ فنڈ سے لینا جائز ہے؟
سوال ۳:جب مسجد محکمۂ اوقاف کے نقشے کے مطابق مکمل تعمیر ہو جائے اور فنڈ میں سے کچھ رقم بچ جائے، تو کیا زید کے لیے وہ اضافی رقم ذاتی استعمال میں لانا جائز ہے؟
سوال ۴:اگر زید اور عمر کے درمیان یہ معاہدہ طے پائے کہ *"فنڈ کی منظوری کروانا زید کی ذمہ داری ہے، البتہ مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد بچنے والی اضافی رقم زید کی ملکیت ہوگی"* تو کیا یہ معاہدہ شرعاً جائز ہے اور اضافی رقم زید کے لیے حلال ہے؟
سوال ۵:اگر منظور شدہ فنڈ مسجد کی مکمل تعمیر کے لیے ناکافی ثابت ہو، تو کیا باقی ماندہ تعمیر مکمل کروانا شرعاً زید پر لازم ہوگا؟جزاکم اللہ خیراً و أحسن الجزاء
تنقیح :سائل نے فون پر بتایا کہ مذکورہ مسجد ہماری آبائی مسجد ہے جس کے لیے صراحۃ واقف نے کسی متولی کو متعین نہیں کیا تھا البتہ انتظامی امور ہمارے ماموں(عمرو) سنبھالتے ہے اور اب زید (بھانجہ) کو مسجد کے لیے فنڈ منظور کروانے کی ذمہ داری درج بالاشرائط کے ساتھ دے دی گئی ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فقہاء کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ اگر کسی واقف نے وقف شدہ زمین /مسجد کے انتظامات کے لیے خود متولی کو نامزد نہیں کیا ہو اوروہ وقف ایسی جگہ ہو جہاں مسلمان حاکم یا اس کا کوئی نمائندہ ہی موجود نہیں ہے یا مسلمان حاکم کا نمائندہ قاضی وغیرہ تو ہے لیکن اس کے دائرہ اختیا رمیں امور وقف نہیں آتےتو ایسی صورت حال میں عامۃ المسلمین حاکم مسلمین کے قائم مقام ہوں گےکہ تین یا اس سے زائد دین دار مسلمانوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں اور وقف کے معاملات ان کی مشاورت سے انجام دیتے رہیں ۔
(۱،۲)صورت مسئولہ میں چونکہ مسجد کے انتطامی امورتمام مسجد والوں کی اتفاق رائےسے عمرو ہی سنبھالتا ہے تو ایسی صورت میں عمرو ہی متولی مسجد کہلائے گا ،متولی کی حیثیت وقف کے ملازم کی ہوتی ہے اور شرعا متولی کو یہ اختیار بھی حاصل ہوتا ہے کہ وہ مسجد کے کسی کام کے لیے دوسرےشخص کو معروف اجرت طے کر کے بطور ملازم مقررکرلے۔
جبکہ متولی اس بات کا بھی مجاز ہوتا ہےکہ وہ اس ملازم کو مسجد کےلیے چندہ یا کسی اور کام کے سلسلے میں آنے جانے کے لیےمعروف سفری اخراجا ت مسجد کی فنڈ سے ادا کرے۔ لہذا عمرو کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ زید کو مسجد کی فنڈ کی منظوری کے لیے معروف اجرت طے کرکے بطور ملازم مقرر کرے اوراس کے معروف اخراجات کا کل تخمینہ معلوم کرکے مسجد کی فنڈ سے ادائیگی کرلے۔
البتہ مسجد کےلیے فنڈ کی منظوری سے پہلے زید اگریہ رقم بطور قرض خرچ کرتا رہا اور اس کی یہ نیت تھی کہ بعد میں مسجد کی فنڈ سے وصول کروں گا تو ایسی صورت میں زید کے لیے اپنی رقم مسجد کی فنڈ سے لینا جائز ہےکیونکہ مسجد کے اخراجات کے لیے قرض لیا جاسکتا ہے ۔
اور اگرزید اپنی ذاتی رقم تبرعا خرچ کرتا رہا تو ایسی صورت میں مسجد کی فنڈ سے خرچ شدہ رقم واپس نہیں لے سکتابلکہ اس کی طرف سے تبرع سمجھا جائے گا ۔
(۳) اصل حکم یہی ہے کہ رقم دینے والے نےمسجد کے جس کام کیلئے رقم دی ہے، اْسی کام پر اس کی رقم لگاناضروری ہے ،لہذا مسجد کے لیے منظور شدہ فنڈکو مسجد کی تعمیر ہی میں استعمال کرنا لازم ہےاور زید کو مسجد کی فنڈ سے صرف اپنی خدمات کی اجرت کی حد تک اجرت لینے کاحق حاصل ہے۔
مسجد کاسرمایہ متولی کے پاس امانت ہوتا ہے اس کو اپنے کام میں لانا یا کسی کو قرض دینا درست نہیں ،اس کو صرف مسجد کے کاموں میں خرچ کرنے کا حق حاصل ہے ناحق تصرف کرنے پر ضامن ہوگا۔
(۴)مذکورہ معاہدہ میں چونکہ زید کی اجرت مجہول ہے اس لیے یہ عقد جائز نہیں ،البتہ زید اگر مسجد کے لیے بطور ملازم فنڈ کی منظوری کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہاہے تو عمرو کو چاہیے کہ زید کے لیےاس کے کام کے عوض باقاعدہ کوئی اجرت طے کرلے،اس لیے باقی ماندہ رقم بھی مسجد کی ملکیت ہے، مسجد کےمصالح کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں اس رقم کو استعمال کرناموجب ضمان ہوگا۔
(۵) اگر منظور شدہ فنڈ مسجد کی مکمل تعمیر کے لیے ناکافی ثابت ہو تو زید پر باقی تعمیر مکمل کرنا شرعا لازم تونہیں البتہ مسجد کی تعمیر کے لیے مزید کوشش کرنا باعث اجرو ثواب ہوگا ۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (2 / 461)
مسجد له مستغلات وأوقاف أراد المتولي أن يشتري من غلة الوقف للمسجد دهنا أو حصيرا أو حشيشا أو آجرا أو جصا لفرش المسجد أو حصى قالوا: إن وسع الواقف ذلك للقيم وقال: تفعل ما ترى من مصلحة المسجد كان له أن يشتري للمسجد ما شاء وإن لم يوسع ولكنه وقف لبناء المسجد وعمارة المسجد ليس للقيم أن يشتري ما ذكرنا.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي(4/ 440):
وتفسير الاستدانة كما في الخانية أن لا يكون للواقف غلة فيحتاج إلى القرض والاستدانة، أما إذا كان للوقف غلة فأنفق من مال نفسه لإصلاح الوقف كان له أن يرجع بذلك في غلة الوقف.
«المحيط البرهاني» (6/ 216):
«مجموع النوازل:» سئل شيخ الإسلام عن أهل مسجد اتفقوا على نصب رجل متولياً لمصالح مسجدهم فتولي ذلك باتفاقهم هل يصير متولياً مطلق التصرف في مال المسجد على حسب ما لو قلده القاضي؟ قال: نعم قال: ومشايخنا المتقدمون يجيبون عن هذه المسالة ويقولون: نعم الأفضل أن يكون ذلك بإذن القاضي، ثم اتفق مشايخنا المتأخرون وأستاذنا أن الأفضل أن ينصبوه متولياً ولا يعلموا به القاضي في زماننا، لما عرف من تجميع القضاة في أموال الوقف.
صدام حسین
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲/ذوالقعدہ /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


