| 90136 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔(اللہ رب العزت جنت الفردوس میں ہمیں اکٹھا فرمائے۔ آمین) ورثاء میں ہماری والدہ، ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں۔ سب بہن بھائی شادی شدہ ہیں۔ والد صاحب کا ایک پینتالیس گز کا مکان ہے جس میں والدہ اور دو بھائی رہتے ہیں، ایک چھوٹا فلیٹ ہے، کچھ نقدی ہے اور ضرورت کی چیزیں (کپڑے، گھڑی، موبائل، چپلیں وغیرہ) ہیں۔ س1۔ مندرجہ بالا چیزوں کی شرعی لحاظ سے تقسیم ترکہ کس طرح ہوگی واضح فرمادیں؟ س2۔ والدہ نے بتایا کہ والد صاحب نے فلیٹ کے لئے زبانی کہا تھا کہ یہ تمھارا ہے۔ کیا اس فلیٹ کی وراثت میں تقسیم ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کے والد نے انتقال کے وقت جو جائیداد منقولہ و غیر منقولہ اورنقد رقم یا قابل وصول قرض وغیرہ چھوڑا ہے وہ سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ اگر ان کے ذمے کسی کا واجب الاداء قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔
شرعی اعتبار سےمورِث کی طرف سے وارث کے لیے وصیت معتبر نہیں، کیونکہ شریعت نے وارث کے لیے میراث میں حصہ مقرر فرما دیا ہے، اس لیے شریعت نے وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں کیا، البتہ اگر وارث کے لیے کی گئی وصیت کو جتنے بالغ ورثاء نافذ قرار دیں تو ان کے حصے کی حد تک وصیت پر عمل درست ہوگا ۔
نیز اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں سے فیصدی اعتبار سے میت کی بیوی کو% 12.5 اور ميت كےہر ایک بیٹے کو 19.44% اور میت کی ہر ایک بیٹی کو9.73% ملے گا۔ یاد رہے کہ غیر منقولہ واستعمالی اشیاء جیسے کپڑے، گھڑی، موبائل، چپلیں وغیرہ کو باہمی رضامندی سے آپس میں تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں چاہیے تھوڑا بہت قیمت میں فرق بھی ہو۔ تا ہم اگر اس طرح سب ورثہ تیار نہ ہوں تو ان کی قیمت لگا کر جو خریدنا چاہے اسے دے دیا جائے اور قیمت ورثہ کے درمیان وراثتی تناسب سے تقسیم کر لیں۔
|
ورثہ |
زوجہ |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹا |
بیٹی |
بیٹی |
بیٹی |
کل حصص |
|
عددی حصہ |
9 |
14 |
14 |
14 |
7 |
7 |
7 |
72 |
|
فیصدی حصہ |
%12.5 |
19.44% |
19.44% |
19.44% |
9.73% |
9.73% |
9.73% |
100% |
حوالہ جات
قال الله تعالي:يوصيكم الله في اولادكم للذكر مثل حظ الانثيين.…… النساء: (11
فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْم بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَآ اَوْ دَیْنٍ…..)النساء:12)
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 90):
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار (6/ 655):
(ولا لوارثه وقاتله مباشرة) (إلا بإجازة ورثته) لقوله عليه الصلاة والسلام «لا وصية لوارث إلا أن يجيزها الورثة» يعني عند وجود وارث آخر كما يفيده آخر الحديث وسنحققه (وهم كبار) عقلاء فلم تجز إجازة صغير ومجنون وإجازة المريض كابتداء وصية ولو أجاز البعض ورد البعض جاز على المجيز بقدر حصته.
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 /ذیقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


