03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حجِ تمتع و قران میں ترتیبِ رمی، قربانی و حلق کا حکم
90166حج کے احکام ومسائلحج قران اور تمتع کا بیان

سوال

بسم اللہ الرحمن الرحیم استفتاء برائے مسئلہ قربانیِ حج (دمِ تمتع/قران) اور ترتیب محترم مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوں گے۔ عرض یہ ہے کہ حج میں قربانی (دمِ تمتع یا قران) کے متعلق چند اشکالات درپیش ہیں، جن کی وضاحت مطلوب ہے: فقہ حنفی کے مطابق ایامِ نحر میں اعمالِ حج کی ترتیب یہ ہے کہ پہلے رمیِ جمرہ عقبہ کی جائے، پھر قربانی کی جائے، اس کے بعد حلق یا قصر کیا جائے۔ اور اگر اس ترتیب کے خلاف عمل کیا جائے تو دم لازم آتا ہے۔ موجودہ دور میں بالخصوص اس سال یہ صورت حال پیش آئی ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے قربانی کے لیے بینک کے ذریعے اجتماعی نظام قائم کیا گیا ہے، جس میں حجاج کرام سے پہلے ہی قربانی کی رقم وصول کر لی جاتی ہے اور پھر ان کی طرف سے قربانی کر دی جاتی ہے۔ لیکن اس اجتماعی نظام میں: 1. نہ تو انفرادی طور پر ترتیب (رمی، پھر قربانی، پھر حلق) کا لحاظ رکھا جاتا ہے، 2. بلکہ قربانی کے وقت کا بھی تعین حجاج کے لیے واضح نہیں ہوتا۔ مزید برآں، بعض معتبر علماء کرام اور اس شعبہ سے وابستہ باوثوق افراد کی طرف سے یہ معلومات بھی سامنے آئی ہیں کہ: • قربانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ ایامِ نحر (10 تا 12 ذوالحجہ) میں مکمل نہیں ہو پاتیں، • بلکہ بعض اوقات یہ سلسلہ ایامِ حج کے بعد بھی جاری رہتا ہے، • حتیٰ کہ بعض اطلاعات کے مطابق قربانیوں کا عمل بعد کے دنوں میں (ایامِ نحر کے بعد) بھی جاری رہتا ہے۔ اگرچہ بینک کی طرف سے حاجی کو پیغام موصول ہو جاتا ہے کہ اس کی قربانی ہو چکی ہے، لیکن مذکورہ بالا معتبر اطلاعات اس کے خلاف احتمال پیدا کرتی ہیں۔ اسی پس منظر میں درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں: 1. جب حنفیہ کے نزدیک ترتیب (رمی، قربانی، حلق) ضروری ہے، تو بینک کے اس نظام میں ترتیب کے فوت ہونے کی صورت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا ہر حاجی پر دم لازم ہوگا یا دیگر ائمہ کے قول پر عمل کی گنجائش ہے؟ 2. اگر قوی احتمال یا معتبر ذریعے سے یہ معلوم ہو کہ قربانی ایامِ نحر کے اندر نہیں ہوئی، تو کیا ایسی صورت میں بینک کی قربانی پر اکتفا کرنا درست ہوگا یا حاجی پر لازم ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے الگ قربانی کا اہتمام کرے؟ 3. جبکہ اس سال سعودی حکومت کی طرف سے انفرادی طور پر مذبح (slaughterhouse) جانے یا خود قربانی کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی، تو ایسی مجبوری کی حالت میں حاجی کے لیے شرعی حکم کیا ہوگا؟ 4. مذکورہ صورتِ حال میں حنفی حاجی کے لیے شرعاً کیا قابلِ عمل اور محتاط طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ براہ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مفصل اور مدلل جواب مرحمت فرما دیں۔ 

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعی وہی حالات پیش آئیں جو سوال میں مذکور ہیں، یعنی قربانی کے وقت اور ترتیب (رمی، پھر قربانی، پھر حلق یا قصر) کی رعایت عملاً مشکل یا غیر واضح ہو، تو حجاجِ کرام پر لازم ہے کہ حتی الامکان احتیاط سے کام لیتے ہوئے اس ترتیب کی پابندی کی کوشش کریں۔ چنانچہ اگر سعودی حکومت یا متعلقہ ادارے کی جانب سے قربانی کا کوئی وقت متعین کیا گیا ہو تو حجِ تمتع اور قران کرنے والے حضرات اس مقررہ وقت سے پہلے ہرگز حلق یا قصر نہ کریں، بلکہ بہتر یہ ہے کہ اس وقت کے بعد بھی کچھ گھنٹے  تاخیر کریں تاکہ غالب گمان ہو جائے کہ قربانی ادا ہو چکی ہوگی۔ اسی طرح مناسب ہے کہ حاجی متعلقہ ذمہ داران سے رابطے میں رہے، اور جب انہیں قربانی ہو جانے کی اطلاع مل جائے تو اس کے بعد حلق یا قصر کروائے۔

البتہ اگر تمام تر کوشش کے باوجود ترتیب قائم رکھنا ممکن نہ رہے، یا قربانی کے وقت کے بارے میں کسی معتبر ذریعے سے اطمینان حاصل نہ ہو سکے، بلکہ ایسی مجبوری لاحق ہو جائے کہ رمی، ذبح اور حلق میں ترتیب برقرار رکھنا دشوار یا ناممکن ہو، تو ایسی صورت میں شدید ضرورت اور حرج سے بچنے کے لیے فقہائے احناف میں سے صاحبین رحمہما اللہ (امام ابو یوسفؒ اور امام محمدؒ) کے قول پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ یہ قول دیگر ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے بھی موافق ہے۔ لہٰذا ایسی مجبوری کی حالت میں اگر ترتیب قائم نہ رہ سکے تو اس کی وجہ سے دم لازم نہیں ہوگا۔

نیز اگر حکومتی پابندیوں کے باعث حجاج کو مذبح تک رسائی نہ ہو اور کسی بھی معتبر ذریعے سے یہ معلوم کرنا ممکن نہ ہو کہ قربانی کب ہوئی ہے، تو ایسی صورت میں حکومتی و انتظامی نظام پر اعتماد کرتے ہوئے مقررہ وقت کے بعد حلق یا قصر کروانا جائز ہوگا، اور اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

فتح القدير للكمال  (3/ 61):

(ومن أخر الحلق حتى مضت أيام النحر فعليه دم عند أبي حنيفة، وكذا إذا أخر طواف الزيارة) حتى مضت أيام التشريق (فعليه دم عنده وقالا: لا شيء عليه في الوجهين) وكذا الخلاف في تأخير الرمي وفي تقديم نسك على نسك كالحلق قبل الرمي ونحر القارن قبل الرمي والحلق قبل الذبح، لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء ولا يجب مع القضاء شيء آخر.

وله حديث ابن مسعود رضي الله عنه أنه قال: " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " ولأن التأخير عن المكان يوجب الدم فيما هو موقت بالمكان كالإحرام فكذا التأخير عن الزمان فيما هو موقت بالزمان.

(قوله لهما أن ما فات مستدرك بالقضاء إلخ) ولهما أيضا من المنقول ما في الصحيحين «أنه عليه الصلاة والسلام وقف في حجة الوداع فقال رجل: يا رسول الله لم أشعر فحلقت قبل أن أذبح، قال اذبح ولا حرج، وقال آخر: يا رسول الله لم أشعر فنحرت قبل أن أرمي، قال: ارم ولا حرج، فما سئل يومئذ عن شيء قدم ولا أخر إلا قال افعل ولا حرج». والجواب أن نفي الحرج يتحقق بنفي الإثم والفساد فيحمل عليه دون نفي الجزاء، فإن في قول القائل لم أشعر ففعلت ما يفيد أنه ظهر له بعد فعله أنه ممنوع من ذلك، فلذا قدم اعتذاره على سؤاله وإلا لم يسأل أو لم يعتذر.

لكن قد يقال: يحتمل أن الذي ظهر له مخالفة ترتيبه لترتيب رسول الله صلى الله عليه وسلم فظن أن ذلك الترتيب متعين فقدم ذلك الاعتذار وسأل عما يلزمه به، فبين عليه الصلاة والسلام في الجواب عدم تعينه عليه بنفي الحرج، وأن ذلك الترتيب مسنون لا واجب. والحق أنه يحتمل أن يكون كذلك، وأن يكون الذي ظهر له كان هو الواقع إلا أنه عليه الصلاة والسلام عذرهم للجهل وأمرهم أن يتعلموا مناسكهم، وإنما عذرهم بالجهل؛ لأن الحال كان إذ ذاك في ابتدائه، وإذا احتمل كلا منهما فالاحتياط اعتبار التعيين والأخذ به واجب في مقام الاضطراب فيتم الوجه لأبي حنيفة، ويؤيده ما نقل عن ابن مسعود رضي الله عنه " من قدم نسكا على نسك فعليه دم " بل هو دليل مستقل عندنا.

الحجة على أهل المدينة (2/ 371):

اخبرنا محمد عن أبي حنيفة في الرجل يجهل وهو حاج فيحلق رأسه قبل ان يرمي الجمرة انه لا شيء عليه وقال أهل المدينة إذا جهلالرجل فحلق رأسه قبل ان يرمي الجمرة افتدى وقال محمد الحديث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذلك مشهور بين انه سئل يوم النحر عمن حلق رأسه قبل ان يرمي قال ارم ولا حرج فما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء يومئذ قدم ولا اخر الا قال افعل ولا حرج.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (3/ 26):

وهذا عند أبي حنيفة وعندهما لا شيء عليه لحديث الصحيحين «لم أشعر ‌حلقت ‌قبل ‌أن ‌أذبح قال افعل ولا حرج، وقال آخر نحرت قبل أن أرمي قال افعل ولا حرج فما سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن شيء قدم أو أخر إلا قال افعل ولا حرج .

شرح معاني الآثار -  (2/ 238):

‌وتكلم ‌الناس ‌بعد ‌هذا ‌في ‌القارن ‌إذا ‌حلق ‌قبل ‌أن ‌يذبح. فقال أبو حنيفة رحمه الله: «عليه دم» ، وقال زفر رضي الله عنه: «عليه دمان» . وقال أبو يوسف ، ومحمد رحمهما الله لا شيء عليه واحتجا في ذلك بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم للذين سألوه عن ذلك ، على ما قد روينا

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

07  /ذیقعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب