| 90167 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
اگر بیوی کال پر میاں سے طلاق مانگ رہی ہو اور میاں کہے: "میں تمہارا میاں نہیں رہا تم آزاد ہو "، پھر بیوی رونے لگے اور میاں کہے: "تم یہی چاہتی تھی نا؟ میں تمہاری منتیں کر رہا تھا کہ مت مانگو، تم نے کیوں مانگی؟ اب دے دی ہے" یا "اب میں نے آپ کو دے دی ہے"۔نوٹ کریں کہ ان الفاظ سے میاں کی طلاق کی نیت نہیں تھی، بلکہ صرف ڈرانے کے لیے یہ الفاظ کہے تھے۔کیا حکم ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
"میں تمہارا میاں نہیں رہا تم آزاد ہو " یہ الفاظ کنائی طلاق کے ہیں ۔اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے لیے اس طرح کے الفاظ بولتا ہے تو اس سے طلاق ہو جاتی ہے ،بشرطیکہ طلاق کی نیت ہو یا کوئی ایسا قرینہ پایا جائے کہ جس سے واضح ہو کہ طلاق دینا چاہتا تھا ۔
صورتِ مسئولہ میں بیوی کامیاں سے طلاق کا سوال کرنا چونکہ قرائن میں سے ایک قرینہ ہے، لہذا شوہر کےیہ الفاظ کہنے سے ایک طلاق بائن واقع ہوچکی ہے، اگرچہ طلاق کی باقاعدہ نیت نہ بھی ہو ۔اس کے بعد شوہر کے الفاظ "اب دے دی ہے" یا "اب میں نے آپ کو دے دی ہے"بطور تاکید کے ہیں ،ان سے بھی طلاق کے قرائن مضبوط ہورہے ہیں۔بہرحال ایک طلاق بائن واقع ہو کر آپ کا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ اب اگر دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے رہنا چاہتے ہیں تو از سرِنو رضامندی سے دو گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کریں ۔آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية:1/3
لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام۔۔۔۔۔ والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها۔۔۔۔۔ وفي غيرها بائنة وإن نوى ثنتين وتصح نية الثلاث ولا تصح نية الثلاث في قوله اختاري كذا في التبيین.
البحر الرائق شرح کنز الدقائق:3/328
ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاءو فی الھندیۃ أیضا۔۔۔ أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك ۔۔۔۔الخ
حاشية ابن عابدين:3/301,2,
الكنايات (لا تطلق بها) قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب، يصلح سبا، ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له۔۔۔۔(وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقعبالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية لأنها أقوى لكونها ظاهرة.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
08 /ذوالقعدہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


