03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
رضاعی بھانجی کےساتھ نکاح کاحکم
90154رضاعت کے مسائلمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت جس کا نام فاطمہ ہے اس کی دو بیٹیاں ہیں ایک کا نام ہے عائشہ جبکہ دوسری کا نام ہے صدیقہ، عائشہ کی اولاد درج ذیل ہیں:

احتشام،عروج (لڑکی)،انعام،اکرام۔

جبکہ صدیقہ کی اولاد یہ ہیں:

انوشا (لڑکی)،نجف،مومنہ (لڑکی)،السہ (لڑکی)۔

اب مذکورہ بالا افراد میں سے عائشہ خاتون کی دو اولاد احتشام اور عروج نے اپنی نانی فاطمہ کا دودھ پیا ہے، جبکہ اسی عائشہ خاتون کے دو بیٹوں انعام اور اکرام نے اپنی نانی فاطمہ کا دودھ نہیں پیا ہے، اسی طرح  صدیقہ کی دو اولاد انوشا اور نجف نے اپنی نانی فاطمہ کا دوھ پیا ہے، جبکہ اسی صدیقہ کی دو بیٹیاں مومنہ اور السہ نے اپنی نانی فاطمہ کا دودھ نہیں پیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا احتشام  اور مومنہ کا آپس میں نکاح درست ہے، یا احتشام مومنہ کا رضاعی ماموں ہونے کی وجہ سے یہ نکاح درست نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ  میں احتشام  نانی (فاطمہ )کادودھ پینے کی وجہ سےصدیقہ (خالہ)کا رضاعی بھائی اور اس کی بچیوں کارضاعی ماموں بن گیاہے۔لہذا احتشام کاصدیقہ کی بیٹیوں سےنکاح درست نہیں ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (3/ 213)

(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان ... (إلا أم أخيه وأخته) استثناء منقطع لأن حرمة من ذكر بالمصاهرة لا بالنسب فلم يكن الحديث متنا ولا لما استثناه الفقهاء فلا تخصيص بالعقل كما قيل، فإن حرمة أم أخته وأخيه نسبا لكونها أمه أو موطوءة أبيه وهذا المعنى مفقود في الرضاع.

  الهداية في شرح بداية المبتدي: (1/ 217)

قال: " ويحرم من الرضاع ما يحرم من النسب " للحديث الذي روينا " إلا أم أخته من الرضاع فإنه يجوز أن يتزوجها ولا يجوز أن يتزوج أم أخته من النسب" لأنها تكون أمه أو موطوءة أبيه بخلاف الرضاع.

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

08/ذوالقعده/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب