03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نقصان کے پیشِ نظر قبضہ سے قبل شیئرز بیچنے اور اس سے حاصل شدہ نفع کا حکم
90152خرید و فروخت کے احکامشئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل

سوال

اگر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز خریدنے کے بعد نقصان ہو رہا ہو تو مزید نقصان سے بچنے کے لیے سی ڈی سی اکاؤنٹ میں شیئرز آنے سے پہلے اگر شیئرز بیچ دیے گئے تو اس بیع کا کیا حکم ہے اور اس بیع کی صورت میں اصل راس المال حلال رہے گا ، اور اگر پرافٹ میں بیچا تو کیا وہ پرافٹ حلال ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی چیز کی بیع کے جائز اور صحیح ہونے  کے لیے شرعاً ضروری ہے کہ وه بیچنے والے  کی ملکیت کے ساتھ ساتھ اس کے قبضے میں بھی ہو۔ اگر قبضہ کرنے سے پہلے بیع  کی جائے تو ایسی بیع  فاسد اور ناجائز ہے۔    اور شیئرز میں قبضہ،عرفی اور قانونی طور پر تب ہی مانا جاتا ہے  ،  جب وہ سی ڈی سی   اکاؤنٹ میں منتقل  ہو جائیں۔

 لہذا صورت مسئولہ میں اگر شیئرز کو سی ڈی سی  اکاؤنٹ میں آنے سے پہلے بیچا ہے، تو یہ شیئرز پر قبضہ کرنے سے پہلے بیع ہوگی ، اگرچہ نقصان کے ڈر سے ہی کی ہو۔  ایسی بیع  فاسد اور ناجائز ہے۔

اگرشیئرزنفع  میں بیچے ہیں  تو حاصل شده منافع  حلال نہیں ، بلکہ ثواب کی نیت کيے بغیر ہی غریبوں اور مساکین کو صدقہ کر دئیے جائیں ۔ البتہ اصل رقم  یعنی راس المال حلال ہو  گا۔

حوالہ جات

وفي الدر المختار (5/ 148):

وفي المواهب: وفسد بيع المنقول قبل قبضه.

وفي البحر الرائق (5/ 268):

قبض كل شيء وتسليمه يكون بحسب ما يليق به.

وفي فقه البيوع (375-374/1):

قبضُ كلّ شيءٍ يكون بحسبه في عرف ذلك الشّيء، كما تقرّر في الفقه. وإنّ عُرفَ البورصة والمتعاملين فيها، أنّهم لا يعتبرون الأسهمَ مُسلّمةً إلى المشتري إلّا عند التّسليم الفعليّ الّذي يقع في موعده، ويُسمّونه تسليماً (Delivery)، وإنّ هذا الاصطلاحَ فيه تصريحٌ بأنّ المشتريَ إنّما يتسلّم الأسهمَ عند ذلك، لا قبله، والتّسلّم هو القبض..... والحاصلُ من هذه الدّراسة: أنّ مَن اشترى سهماً، فإنّه لا يجوز له شرعاً أن يبيعه قبل التّسليم الفعليّ الّذي يتمُّ في موعده.

وفي فقه البيوع (1018/2):

مثاله: اشترى ثوباً شراءً صحيحاً بمئة، ثمّ باعه بيعاً فاسداً بمئة وعشرة، فالواجبُ عليه أن يفسخ البيع ويرُدّ الثّمن........ أمّا إذا امتنع ردُّ الثّمن لسببٍ من الأسباب، مثل: أن يكون المشتري قد غاب، فوجب عليه أن يتصدّق بالعشرة التي ربحها في بيع الثوبِ الفاسد.

محمد طيب جاويد بن محمد جاويد اختر

دار الافتاء، جامعۃ الرشید

08/ذو القعدہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طیب جاوید بن محمد جاوید اختر

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب