| 90161 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
سوال یہ ہے کہ میرا گھر ہے۔ اس کے علاوہ ایک پلاٹ ہے۔ پہلے گھر بنانے کا ارادہ تھا۔ اب ضرورت پڑی تو بیچ کر گاڑی لوں گا۔ کیا اس پر زکوٰۃ دینی ہو گی۔ اگر ہاں تو مارکیٹ ویلیو پر یا قیمت خرید پر؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
رہائش کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔اگرچہ بعد میں ارادہ بیچنے کا ہو جائے۔ پھر جب اسے بیچیں گے تو حاصل ہونے والی رقم اگر زکوٰۃ کی تاریخ کو آپ کے پاس ساری یا بعض موجود ہوئی تو اس پر زکوٰۃ کے احکام لاگو ہوں گے۔اگر زکوٰۃ کی تاریخ سے پہلے گاڑی خرید لی تو اس پر زکوٰۃ نہیں ہوگی۔ یاد رہے کہ زکوٰۃ اشیاء کی قیمت خرید پر نہیں بلکہ مارکیٹ ویلیو پر واجب ہوتی ہے۔
حوالہ جات
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (3/ 1866):
أما العقار الذي يسكنه صاحبه أو يكون مقرا لعمله كمحل للتجارة ومكان للصناعة، فلا زكاة فيه.
الأشباه والنظائر - ابن نجيم (ص19):
وقالوا وتشترط نية التجارة في العروض ولا بد أن تكون مقارنة للتجارة، فلو اشترى شيئا للقنية ناويا أنه إن وجد ربحا باعه لا زكاة عليه….
وعن محمد رحمه الله فيمن اشترى خادما للخدمة، وهو ينوي إن أصاب ربحا باعه لا زكاة عليه.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (2/ 272):
(لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة. والفرق أن التجارة عمل فلا تتم بمجرد النية؛ بخلاف الأول فإنه ترك العمل فيتم بها.
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
07 /ذیقعدہ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


