| 90245 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
میں ایک زمیندار ہوں اور مالی استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے اپنی فصلوں کے اخراجات کے لیے قرض لینا چاہتا ہوں۔ جس کے لیے ہمارے ہاں درج ذیل طریقہ کار ہے:
فصل کی تیاری میں 8 سے 9 ماہ لگتے ہیں جس دوران کھاد، سپرے اور دیگر اخراجات پر لاکھوں روپے لاگت آتی ہے۔ کسان یہ رقم مقامی "کمپنی/اڈے" سے ادھار لیتا ہے اور مقامی کمپنی منڈی کے بڑے "آڑھتی" سے قرض لیتی ہے۔ اس قرض کے لین دین میں درج ذیل معاملات ہوتے ہیں:
- آڑھتی اور کمپنی کا معاملہ: آڑھتی اس شرط پر کمپنی کو قرض دیتا ہے کہ سیزن میں کمپنی سارا مال منڈی میں اسی کے پاس فروخت کے لیے بھیجے گی، تاکہ آڑھتی کو مال فروخت کرنے پر اپنا کمیشن مل سکے۔
- کمپنی اور کسان کا معاملہ: کمپنی کسان کو اس لیے قرض دیتی ہے کہ سیزن میں کسان اپنی فصل صرف اسی کمپنی کے ذریعےمنڈی بھیجے گا، تاکہ کمپنی اس پر اپنا کمیشن کما سکے۔
- پابندی: بعض کمپنیاں کسان پر سختی سے پابندی لگاتی ہیں کہ سارا لین دین صرف انہی کے ساتھ کرے گا۔ اگر کسان کسی اورکمپنی کے ذریعے اپنا مال منڈی بھیجتا ہےتو قرض دینے والی کمپنی ناراض ہوتی ہےاورکسان سے فورا قرض کی واپسی کا مطالبہ کر دیتی ہے۔ بعض کمپنیاں اگرچہ زبان سے یہ شرط نہیں لگاتیں، لیکن علاقے کے عرف و رواج میں یہ بات طے شدہ ہے کہ جس سے قرض لیا جائے، مال لازما اسی کو دیا جاتا ہے۔
برائے کرم رہنمائی فرمائے کہ شرعا ان کمپنیوں سے قرض لینا جائز ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ معاملے میں کمپنی اور آڑھتی قرض دینے کے ساتھ زمیندار پر اپنا مال انہی کے ذریعےمنڈی بھیجنے کی لازمی شرط لگا کر کمیشن کی صورت میں نفع کماتی ہے اور اسلام میں وہ قرض جس میں قرض دینے والا شرط لگا کر کوئی اضافی فائدہ وصول کرے سودی فائدہ ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے۔ وہ شرط چاہے صراحۃ ًلگائی جائے یا معروف ہو دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔لہذا صورت مسؤلہ میں قرض دے کر کمیشن کا نفع اٹھانا حرام ہے۔
البتہ زمینداروں کی یہ ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے کہ فصل حاصل ہونے تک ان کے پاس ایک معقول رقم خرچوں کے لیے موجود رہے، آپﷺ کے زمانے میں بھی اس طرح کے سودی قرضوں کا رواج تھا۔ اس کے متبادل کے طور پر آپﷺ نے سلم کو بہترین حل قرار دیا ہے۔
سلم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ کمپنی یا آڑھتی زمیندار کو قرض دینے کی بجائے ان سے خرید و فروخت کا معاملہ کرے، یعنی کمپنی زمیندار سے متوقع پیداوار کو دیکھتے ہوئے ایک متعین مقدار سستے داموں میں خرید لے اور ابھی سے زمیندار کو پیسہ دے۔ یہ طریقہ شرعی اصولوں کے مطابق ہونے کی وجہ سے نہ صرف جائز بلکہ یقینا برکت والا بھی ہے۔
مروجہ طریقہ کا ر سے بھی یہی مقصد ہوتا ہے کہ زمیندار کو پیسہ مل جائے اور کمپنی یا آڑھتی کو کمیشن مل جائے، سلم کے جائز طریقے کو اپنانے سے زمیندار کو ایڈوانس رقم اور کمپنی / آڑھتی کو نفع مل جاتا ہے۔ گویا دونوں طریقوں سے ایک جیسے فوائد حاصل ہوسکتے ہیں، تاہم ایک حرام ہے اور دوسرا حلال۔
سلم سے لوگ عموما دو وجوہات کی بنا پر کتراتے ہیں:
- کمپنی / آڑھتی یہ سمجھتے ہیں کہ پیشگی خریداری کرنے کی صورت میں شاید فصل کی تمام تر ذمہ داری ان پر آ جاتی ہے اور اگر فصل کو کھیت یا راستے میں کوئی نقصان پہنچا تو اس کا خسارہ آڑھتی کو برداشت کرنا پڑے گا۔ حالانکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔ جب تک مال منڈی یا جو جگہ متعین ہو وہاں نہ پہنچ جائے، کمپنی یا آڑھتی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ خدانخواستہ اگر مال راستے میں ضائع ہو جائے، تو اس کی ذمہ دار کمپنی یا آڑھتی نہیں ہوگا، بلکہ زمیندار پر لازم ہوگا کہ وہ طے شدہ مال کی مقدار کسی اور زمیندار سے خرید کر کمپنی / آڑھتی کے حوالہ کرے۔ اگر اس دوران پوری مارکیٹ سے مال ختم ہوجائے اور کسی زمیندار کے پاس بھی دستیاب نہ ہو، تو کمپنی / آڑھتی کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ زمیندار کو اگلے سال کی فصل آنے تک مہلت دے یا اپنا دیا ہوا پیسہ واپس لے، پیسہ لینے کی صورت میں صرف اتنی ہی رقم واپس لینی ہوگی جتنی دی تھی، اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہوگا، اس صورت میں کمپنی / آڑھتی کو اس بار نفع نہیں ہوگا، تاہم اگلے سال کا انتظار کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ،کیونکہ مروجہ لین دین میں بھی ایسی ناگہانی صورتحال پیش آنے پر زمیندار کو اگلے سال تک مہلت دی جاتی ہے، لہذا زمیندار کو اگلے سال تک مہلت دی جائے اور سودی لین دین سے خود اور دوسرے مسلمان کو بچایا جائے۔
- سلم کی صورت میں مال کمپنی کے پاس پہنچ جاتا ہے تو فروخت ہونے تک (جس میں عام طور پر ایک دن ہی لگتا ہے) وہ کمپنی یا آڑھتی کی ذمہ داری میں رہتا ہے۔ اگر اس دوران کوئی نقصان ہو جائے تو وہ خود اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ محض اس ایک دن کے خطرے سے بچنے کے لیے لوگ اس شرعی طریقے سے گریز کرتے ہیں۔ حالانکہ عملی طور پر اب بھی ایسا ہوتا ہے کہ جیسے بھی حالات ہوں سامان واپس نہیں کیا جاتا بلکہ آڑھتی اسے جلد از جلد فروخت کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔ اگر وہ اپنے خریدے ہوئے مال کے لیے بھی یہی کوشش کرے تو امید ہے بڑا نقصان نہ ہوگا۔ مزید یہ کہ اگرچہ اس طریقے میں معمولی سا خطرہ ہے لیکن اس میں قرض کے کمیشن کے مقابلے میں زیادہ تجارتی نفع حاصل ہونے کا امکان بھی موجود ہوتا ہے۔
اگر سلم کے تحت کاروبار کرنا مقصد ہو تو کسی معتبر تجربہ کار مفتی کو ساتھ رکھ کر ایک دو دفعہ پورا طریقہ سیکھ لیا جائے، پھر آئندہ خود بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس میں دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی ہے۔
حوالہ جات
ردالمحتار علی الدر المختار:(5/166)
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه۔
تبیین الحقائق :(6/29)
قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا...
المحیط البرھانی :(7/126)
قال محمد رحمه الله في كتاب الصرف: إن أبا حنيفة كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي: هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض عادلية صحاحاً أو ما أشبه ذلك، فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد، فأعطاه المستقرض أجود مما عليه، فلا بأس به۔
فتح القدیر:(7/251)
وفي الفتاوى الصغرى وغيرها: إن كان السفتج مشروطا في القرض فهو حرام، والقرض بهذا الشرط فاسد، ولو لم يكن مشروطا جاز.
مجلۃ الأحکام العدلیۃ : (75)
(المادة 386) يشترط لصحة السلم بيان جنس المبيع ، مثلا: أنه حنطة أو أرز ، أو تمر ونوعه ككونه يسقى من ماء مطر (وهو الذي نسميه في عرفنا بعلا) ، أو بماء النهر والعين وغيرهما (وهو ما يسمى عندنا سقيا) وصفته كالجيد والخسيس وبيان مقدار الثمن والمبيع وزمان تسليمه ومكانه.
(المادة 387) يشترط لصحة بقاء السلم تسليم الثمن في مجلس العقد فإذا تفرق العاقدان قبل تسليم رأس السلم انفسخ العقد.
ردالمحتار علی الدرالمختار : (5/209)
(ويصح فيما أمكن ضبط صفته) كجودته ورداءته (ومعرفة قدره كمكيل وموزون و) خرج بقوله (مثمن) الدراهم والدنانير لأنها أثمان فلم يجز فيها السلم خلافا لمالك (وعددي متقارب كجوز وبيض وفلس) وكمثرى ومشمش وتين (ولبن) بكسر الباء (وآجر بملبن معين) بين صفته ومكان ضربه خلاصة وذرعي كثوب بين قدره طولا وعرضا (وصنعته) كقطن وكتان ومركب منهما (وصفته) كعمل الشام أو مصر أو زيد أو عمرو (ورقته) أو غلظه (ووزنه إن بيع به) فإن الديباج كلما ثقل وزنه زادت قيمته والحرير كلما خف وزنه زادت قيمته فلا بد من بيانه مع الذرع (لا) يصح (في) عددي (متفاوت) هو ما تتفاوت ماليته (كبطيخ وقرع) ودر ورمان فلم يجز عددا بلا مميز وما جاز عدا جاز كيلا ووزنا نهر.
زبیراحمد بن شیرجان
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
14/ذوالقعدہ/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


