| 90292 | نکاح کا بیان | کئی بیویوں میں برابری کا بیان |
سوال
لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میرا ایک مسئلہ ہے جس کے بارے میں شرعی رہنمائی درکار ہے۔ ایک بیوہ عورت ہیں جن کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کے دو بچے ہیں جو جوانی (بالغ ہونے کے قریب) کی عمر میں ہیں۔ میں ان سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میری پہلے سے دو بیویاں موجود ہیں۔ وہ عورت اس بات پر راضی ہیں کہ نکاح خفیہ طور پر کیا جائے اور اسے کسی پر ظاہر نہ کیا جائے، حتیٰ کہ لوگ انہیں ان کے پہلے شوہر کی بیوہ ہی سمجھتے رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر مناسب لگا تو نکاح ظاہر کر دیا جائے گا، ورنہ اسے چھپا کر رکھا جائے گا۔ اس صورتِ حال میں درج ذیل سوالات ہیں: کیا اس طرح خفیہ نکاح کرنا شریعت کے مطابق درست ہے؟ اگر نکاح کو چھپایا جائے تو کیا اس پر کوئی شرعی پابندی یا گناہ ہے؟ اگر نکاح کے ذکر نہ کرنے کی وجہ سے لوگ انہیں ان کے پہلے شوہر کی بیوہ ہی سمجھتے رہیں تو کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا؟ اگر یہ نکاح ہو جاتا ہے تو کیا اس پر میری دونوں موجودہ بیویوں کے وہی حقوق لاگو ہوں گے (یعنی عدل، نان و نفقہ اور دیگر شرعی حقوق)؟ برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاک اللہ خیر
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر نکاح کے وقت شرعی گواہ موجود ہوں تو نکاح صحیح ہے، لیکن نکاح کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ علی الاعلان عام مجمع میں کیا جائے، دو گواہوں کی موجودگی میں لوگوں سے چھپا کر نکاح کرنا خلافِ سنت اور خلاف مصلحت بھی ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔اگر فوری طور پر اظہار کرنا مشکل ہو تو کچھ انتظار کر کے ماحول بنا لیا جائے ،پھر اعلانیہ نکاح کریں ۔چھپ کر نکاح کر نے سے آپ کا ان کے گھر آنا جانا ، بچوں کا پیدا ہونا وغیرہ سےبہت سے معاشرتی مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، لہذا حتی الامکان ایسا نہ کیا جائے۔
اسلام میں دو یا زائد بیویوں کے درمیان رہائش، نفقہ (کھانا، لباس) اور شب باشی (رات گزارنے) میں مکمل عدل و برابری کرنا شوہر پر واجب ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 21):
(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا)……….
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (3/ 199):
ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف) اعلم أن الشهادة شرط في باب النكاح لقوله صلى الله عليه وسلم «لا نكاح إلا بشهود» وهو حجة على مالك رحمه الله في اشتراط الإعلان دون الشهادة.
«المبسوط» للسرخسي (5/ 30):
بلغنا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «لا نكاح إلا بشهود» وبه أخذ علماؤنا رحمهم الله تعالى
سنن أبي داود (4/ 449 ط مع عون المعبود):
حدثنا حيوة بن شريح الحضرمي إمام مسجد حمص ، نا بقية بن الوليد ، عن ضبارة بن مالك الحضرمي ، عن أبيه ، عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير ، عن أبيه ، عن سفيان بن أسيد الحضرمي قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «كبرت خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك به مصدق وأنت له به كاذب.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي (3/ 201):
(يجب) وظاهر الآية أنه فرض نهر (أن يعدل) أي أن لا يجور (فيه) أي في القسم بالتسوية في البيتوتة (وفي الملبوس والمأكول) والصحبة (لا في المجامعة) كالمحبة بل يستحب.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/ذوالقعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


