| 90219 | وقف کے مسائل | وقف کے متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ
ہمارے محلے کا ایک شخص اپنی زندگی میں اپنے پدری حصے میں سے کچھ زمین مدرسہ تعمیر کرنے کے لیے وقف کر چکا تھا۔ اس کی وفات کے بعد مرحوم کے بھتیجے وقف شدہ زمین کے بدلے دوسری جگہ زمین دینے کا کہہ کر وہی زمین اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آیا اس وقف شدہ زمین کا تبادلہ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا وقف کرنے والا خود بھی اپنی وقف شدہ زمین کا تبادلہ کرنے یا اسے واپس لینے کا شرعاً مجاز ہے یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
وقف کے شرعی اصول کے مطابق جب کوئی شخص اپنی زندگی میں کسی جائیداد کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے وقف کر دے تو وہ جائیداد اس کی ملکیت سے نکل کر دائمی طور اللہ تعالی کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، لہٰذا نہ تو واقف کو اسے واپس لینے کا حق رہتا ہے اور نہ ہی اسے فروخت یا تبدیل کرنے کا ااسےختیار ہوتا ہے، لہذاسوال میں مذکور صورت میں مرحوم کے بھتیجوں کا وقف شدہ زمین کے بدلے دوسری زمین لینے کا مطالبہ کرنا درست نہیں، کیونکہ وقف وراثت میں تقسیم نہیں ہوتا اور نہ ہی ورثاء کو اس میں کسی قسم کی ملکیت یا تصرف کا حق حاصل ہوتا ہے، لہٰذا وہ زمین مدرسہ ہی کے لیے وقف رہے گی،مرحوم کے بھتیجوں کا اسے اپنی تحویل میں لیناہرگزجائزنہیں۔
حوالہ جات
فتح القدير - (ج 14 / ص 63)
قال أبو يوسف ( يزول بمجرد القول ) الذي قدمنا صحة الوقف به.
الجوهرة النيرة شرح مختصر القدوري - (ج 3 / ص 439)
( وقال أبو يوسف يزول بمجرد القول ) ؛ لأنه بمنزلة الإعتاق عنده وعليه الفتوى .
تكملة حاشية رد المحتار - (ج 1 / ص 334)
قلت: المفتى به أن الملك يزول بمجرد قوله: وقفت.
الفتاوى الهندية - (ج 19 / ص 217)
ولو كان مسجد في محلة ضاق على أهله ولا يسعهم أن يزيدوا فيه فسألهم بعض الجيران أن يجعلوا ذلك المسجد له ليدخله في داره ويعطيهم مكانه عوضا ما هو خير له فيسع فيه أهل المحلة قال محمد - رحمه الله تعالى - : لا يسعهم ذلك ، كذا في الذخيرة .
وفی الھدایة مع الفتح- (ج 6 / ص 205)
واذا صح الوقف لم یجز بیعہ ولاتملیکہ.
فتح القدير - (ج 14 / ص 123)
والحاصل أن الاستبدال إما عن شرطه الاستبدال وهو مسألة الكتاب أو لا عن شرط ، فإن كان لخروج الوقف عن انتفاع الموقوف عليهم به فينبغي أن لا يختلف فيه كالصورتين المذكورتين لقاضي خان ، وإن كان لا لذلك بل اتفق أنه أمكن أن يؤخذ بثمن الوقف ما هو خير منه مع كونه منتفعا به فينبغي أن لا يجوز ؛ لأن الواجب إبقاء الوقف على ما كان عليه دون زيادة أخرى ، ولأنه لا موجب لتجويزه لأن الموجب في الأول الشرط وفي الثاني الضرورة ، ولا ضرورة في هذا إذ لا تجب الزيادة فيه بل تبقيته كما كان.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
15/11/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


