03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا  بیوی کا حق صرف عید کے دو سوٹ اور کھانا ہے؟
90263نان نفقہ کے مسائلبیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل

سوال

میرے شوہر کا کہنا ہے کہ بیوی کا حق صرف عید کے کپڑے اور کھانا ہے۔ اگر ان سے اپنے حق کی بات کرو یا ہاتھ خرچ مانگو تو وہ کہتے ہیں: "میں نے مفتی سے معلوم کیا ہے کہ بیوی کا حق عید کے دو سوٹ اور کھانا ہے۔" 24 سال میں انہوں نے مجھے کبھی بھی ہاتھ خرچ نہیں دیا  ۔کیا ان کی یہ بات درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میاں بیوی میں سےہر ایک کے دوسرے پر  ضابطے کے علاوہ رابطے کےبھی حقوق عائد ہوتے ہیں،جن کی ادائیگی کے سلسلے میں دل میں خوفِ خدا کے ساتھ ساتھ خود ان رشتوں کے حقوق کاڈر رکھنے کا حکم دیاگیا،اور آدمی کے بہترین ہونے کے لیے اس کے خود اپنے گھروالوں کے نزدیک بہترین ہونے کو ایک معیار قرار دیا گیا ہے۔نیز اپنے گھر والوں پر ثواب کی نیت سے خرچ کرنا صدقہ ( کی طرح باعثِ اجر)  ہے۔

شریعت میں بنیادی طور پر شوہر کے ذمے بیوی کےنان نفقہ(روٹی،کپڑا اور مکان) کا انتظام واجب ہے،اسی  لیے  شرعاً وعرفاً دونوں اعتبار سے بیوی کا حق صرف عید کے دو سوٹ اور کھانانہیں،بلکہ اگر شوہر بیوی کے کھانے، پینے، پہننے اور رہائش کی تمام ضروریات خود پوری کرنے کا اس طور پر اہتمام نہیں کرتا  کہ  بیوی کواس کی ضروریات زندگی سے متعلق پیسوں  کی ضرورت باقی نہ رہے ،اور   عام طور پر اتنا زیادہ اہتمام مشکل بھی  ہے،تو شوہر کو چاہیے کہ ہر مہینے بیوی کو اس کی ضرورت کے مطابق کچھ نہ کچھ جیب خرچ بھی دے دیا کرے،جسے وہ اپنی مرضی کے مطابق بوقتِ  ضرورت خرچ کرسکے،جبکہ بیوی کے ذمے بھی لازم ہے کہ اپنے شوہر کی جائز امور میں خوش دلی سے اطاعت و فرمانبرداری کرے،اور استطاعت سے زیادہ کا مطالبہ کرکے اسے اس حوالے سے تنگ نہ کرے۔ (ازتبویب:77718)  

حوالہ جات

تفسير البيضاوي = أنوار التنزيل وأسرار التأويل (2/ 58):    

ياأيها الناس اتقوا ربكم الذي خلقكم من نفس واحدة وخلق منها زوجها وبث منهما رجالا كثيرا و نساء، واتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام، إن الله كان عليكم رقيبا (1)...والأرحام بالنصب عطف على محل الجار والمجرور،كقولك: مررت بزيد وعمرا، أو على الله أي: اتقوا الله واتقوا الأرحام، فصلوها ولا تقطعوها. وقرأ حمزة بالجر عطفا على الضمير المجرور، وهو ضعيف ؛لأنه كبعض الكلمة. وقرئ بالرفع على أنه مبتدأ محذوف الخبر، تقديره :والأرحام كذلك، أي مما يتقى أو يتساءل به.وقد نبه سبحانه وتعالى إذ قرن الأرحام باسمه الكريم على أن صلتها بمكان منه.وعنه عليه الصلاة والسلام «الرحم معلقة بالعرش تقول: ألا من وصلني وصله الله، ومن قطعني قطعه الله» .

سنن الترمذي ت شاكر (5/ 709):

عن عائشة، قالت: قال رسول الله ﷺ: «خيركم خيركم لأهله وأنا خيركم لأهلي، وإذا مات صاحبكم فدعوه» هذا حديث حسن صحيح.

فتح الباري لابن حجر (9/ 498):

عن عدي بن ثابت، قال: سمعت عبد الله بن يزيد الأنصاري، عن أبي مسعود الأنصاري، فقلت: عن النبي؟ فقال: عن النبي ﷺ قال: «إذا أنفق المسلم نفقة على أهله، وهو يحتسبها، كانت له صدقة»...والمراد بالاحتساب القصد إلى طلب الأجر،والمراد بالصدقة الثواب، وإطلاقها عليه مجاز، وقرينته الإجماع على جواز الإنفاق على الزوجة الهاشمية مثلا، وهو من مجاز التشبيه، والمراد به أصل الثواب لا في كميته ولا كيفيته، ويستفاد منه أن الأجر لا يحصل بالعمل إلا مقرونا بالنية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 571):   

باب النفقة،هي لغة: ما ينفقه الإنسان على عياله.وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) .بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته... (قوله:وشرعا هي الطعام إلخ) كذا فسرها محمد بالثلاثة لما سأله هشام عنها،كما في البحر عن الخلاصة (قوله وعرفا) أي في العرف الطارئ في لسان أهل الشرع هي الطعام فقط،ولذا يعطفون عليه الكسوة والسكنى والعطف يقتضي المغايرة رحمتي، وعبارة المتون كالكنز والملتقى وغيرهما على هذا.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

15/ذولقعدۃ /1447ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب