| 90209 | جائز و ناجائزامور کا بیان | بچوں وغیرہ کے نام رکھنے سے متعلق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ ایک کمپنی "سلام" کے نام سے چھالیا (چھالیہ/سپاری) کا کاروبار کر رہی ہے،دریافت طلب امر یہ ہے کہ: کیا "سلام" جیسے بابرکت اور اسلامی شعار والے لفظ کو ایک تجارتی کمپنی (خصوصاً چھالیا کے کاروبار) کے نام کے طور پر استعمال کرنا شرعاً درست ہے؟کیا اس میں کسی قسم کی بے ادبی یا کراہت کا پہلو تو نہیں پایا جاتا؟ براہ کرم اس بارے میں رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اللہ تعالیٰ کے وہ صفاتی نام جن کا اطلاق غیر اللہ پر بھی کیا جا سکتا ہے ان کے بارے میں اصولی حکم یہ ہے کہ اگر اس نام کی بے حرمتی اور بے ادبی کا اندیشہ نہ ہو تو اس نام کا شرعاً کسی جائز کاروبار اور کسی دکان وغیرہ کے لیے استعمال کرنا جائز اور درست ہے، لیکن جہاں تک اس نام کو اپنی پروڈکٹ کی تشہیر کےلیے ڈبوں اور لفافوں وغیرہ پر پرنٹ کروانے کا تعلق ہے تو اس میں چونکہ عام طور پر ادب کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، بلکہ استعمال کرنے کے بعد عام طور پر ایسے شاپروں اور لفافوں وغیرہ کو ڈسٹ بین یا راستے وغیرہ میں پھینک دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس پر گردوغبار کے علاوہ کبھی نجاست بھی پڑ جاتی ہے، جس میں اس نام کی واضح طور پر بے حرمتی اور اس کا تقدس پامال ہوتا ہے، خصوصاً جبکہ وہ نام قرآن کریم میں بھی مذکور ہو، اس لیے ایسے مقدس ناموں کو ڈبوں اور لفافوں وغیرہ پرنٹ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔
لفظ سلام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے ہے، لہذا فی نفسہ کاروبار کا یہ نام رکھنا اگرچہ جائز ہے، لیکن اس کو لفافوں پر پرنٹ کروانا درست نہیں، خصوصاً جبكہ یہ چھالیہ کے کاروبار کا نام رکھا گیا ہو، جس کا کرنا مضر صحت ہونے کی وجہ سے شرعاً واخلاقاً مناسب نہیں، اس لیےلفظِ"سلام" کو ایسے کاروبار کی تشہیر کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
الفتوحات الربانية على الأذكار النواوية(باب النهي عن التسمية بالأسماء المكروهة، ج:6، ص:109/113، ط:دارالكتب العلمية،بيروت) :
في شرح المصابيح: ما نهى الشارع عن التسمية به، منه ما كان النهي لكون ذلك لايليق إلا باللهِ تعالى كملك الأملاك، ومنه ما نهى عن التسمية به لكونه خاصاً برسول الله -صلى الله عليه وسلم- كأبي القاسم لأنه ما يقسم بين العباد ما أعطاهم الله ومنه ما نهى عن التسمية به لغيره تفاؤلاً لصاحبه كحزن. فسماه صلى الله عليه وسلم سهلاً الحديث ومنه ما نهى عن التسمية به لغيره كبرة فغيره صلى الله عليه وسلم ... واعلم أن التسمية بهذا الاسم حرام وكذا التسمية بأسمائه تعالى المختصة به كالرحمن والرحيم والملك والقدوس وخالق الخلق ونحوها."
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/417) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله وجاز التسمية بعلي إلخ) الذي في التتارخانية عن السراجية التسمية باسم يوجد في كتاب الله تعالى كالعلي والكبير والرشيد والبديع جائزة إلخ، ومثله في المنح عنها وظاهره الجواز ولو معرفا بأل.
(قوله لكن التسمية إلخ) قال أبو الليث: لا أحب للعجم أن يسموا عبد الرحمن وعبد الرحيم؛ لأنهم لا يعرفون تفسيره، ويسمونه بالتصغير تتارخانية وهذا مشتهر في زماننا، حيث ينادون من اسمه عبد الرحيم وعبد الكريم أو عبد العزيز مثلا فيقولون: رحيم وكريم وعزيز بتشديد ياء التصغير ومن اسمه عبد القادر قويدر وهذا مع قصده كفر. ففي المنية: من ألحق أداة التصغير في آخر اسم عبد العزيز أو نحوه مما أضيف إلى واحد من الأسماء الحسنى إن قال ذلك عمدا كفر وإن لم يدر ما يقول ولا قصد له لم يحكم بكفره ومن سمع منه ذلك يحق عليه أن يعلمه اهـ.
كشاف القناع عن متن الإقناع (3/ 26) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
(ويحرم) التسمية (بملك الأملاك ونحوه) مما يوازي أسماء الله كسلطان السلاطين، وشاهنشاه لما روى أحمد «اشتد غضب الله على رجل تسمى ملك الأملاك لا ملك إلا الله». (و) يحرم أيضا التسمية (بما لا يليق إلا بالله كقدوس، والبر وخالق ورحمن) ؛ لأن معنى ذلك لا يليق بغيره تعالى. (ولا يكره) أن يسمى (بجبريل) ونحوه من أسماء الملائكة (وياسين) قلت: ومثله طه، خلافا لمالك فقد كره التسمية بهما.
وقال ابن القيم في التحفة ومما يمنع التسمية بأسماء القرآن، وسوره مثل طه ويس، وحم وقد نص مالك على كراهة التسمية ب يس ذكره السهيلي وأما ما يذكره العوام من أن يس وطه من أسماء النبي - صلى الله عليه وسلم - فغير صحيح ليس ذلك في حديث صحيح ولا حسن ولا مرسل ولا أثر عن صاحب وإنما هذه الحروف مثل الم وحم والر ونحوها اه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/ذوالقعدة1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


