03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈراپ شپنگ کا حکم     
90277خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

مجھے اپنی e-commerce ویب سائٹ کے مختلف طریقۂ کار کے بارے میں فقہ کے مطابق شرعی رہنمائی درکار ہے۔ میری ویب سائٹ پر مختلف products listed ہیں۔ customer ویب سائٹ پر آ کر product دیکھتا ہے اور آرڈر دیتا ہے۔ درج ذیل مختلف صورتیں ہیں پہلی صورت ویب سائٹ پر “Buy Now” کے بجائے “Request an Order” لکھا ہو۔

  1. پہلی صورت :اگر customer “Request an Order”  دبائے تو کیا یہ صرف order request شمار ہوگی یا اسی وقت شرعاً بیع منعقد ہو جائے گی؟ 
  2. دوسری صورت:اگر ویب سائٹ پر واضح لکھ دیا جائے کہ یہ صرف request ہے اور حتمی فروخت دستیابی اور تصدیق کے بعد ہوگی، تو کیا اس سے حکم میں فرق پڑے گا؟
  3. تیسری صورت:   اگر ویب سائٹ پر کسٹمر کو واضح طور پر بتایا جائے کہ: “یہ صرف order request ہے، حتمی فروخت (sale) دستیابی کی تصدیق کے بعد ہوگی” اور اس کے بعد طریقہ کار یہ ہو کہ: کسٹمر آرڈر (request) دیتا ہے  میں پہلے supplier سے چیز خریدتا ہوں کیش آن ڈیلیوری کی صورت میں۔ چیز میری ملکیت میں آ جاتی ہے پھر میں کسٹمر کو آرڈر confirm کرتا ہوں  اس کے بعد supplier میری طرف سے وہ چیز کسٹمر کو deliver کر دیتا ہے۔ کیا اس صورت میں یہ معاملہ شرعاً جائز ہوگا؟  کیا بیع اسی وقت منعقد ہوگی جب میں confirmation دوں؟  کیا اس طریقہ میں غیر مملوک چیز فروخت کرنے کا اشکال ختم ہو جائے گا؟ کیا supplier کا براہِ راست کسٹمر کو بھیجنا اس حالت میں درست ہوگا؟
  4. چوتھی صورت:فرض کریں کہ میری ویب سائٹ پر جتنی بھی items listed ہیں، ان میں سے ہر item کا ایک ایک sample میرے پاس موجود ہے۔ لیکن جب customer آرڈر دیتا ہے تو ضروری نہیں کہ میں وہی sample بھیجوں، بلکہ supplier سے دوسرا نیا piece کسٹمرکو بھیجا جاتا ہے۔ کیا صرف sample موجود ہونے سے sale جائز ہو جاتی ہے؟  یا یہ ضروری ہے کہ جو specific item فروخت کی جا رہی ہے، وہی میری ملکیت اور قبضے میں ہو؟  اگر sample میرے پاس ہو لیکن customer کو supplier کی طرف سے دوسرا piece بھیجا جائے تو کیا یہ جائز ہوگا؟

 پانچویں صورت: اگر میں ہر product کے 3، 3 pieces پہلے سے خرید کر اپنے پاس stock میں رکھ لوں، اور جب customer آرڈر دے تو انہی میں سے کوئی piece اسے بھیج دوں۔ کیا اس صورت میں online sale شرعاً جائز ہو جائے گی؟ کیا یہ شرط پوری ہو جاتی ہے کہ مبیع میری ملکیت اور قبضے میں ہو؟  کیا اس صورت میں drop shipping کے اشکالات ختم ہو جاتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ڈراپ شپنگ کےذریعےکسی بھی چیز کو بیچنے کے لیےایک صورت تویہ ہے کہ وہ چیز  بیچنے والے اس کے وکیل کے قبضے میں ہو ،  اگر ان دونوں  میں سے  کسی ایک کے قبضے میں بھی نہ ہو تو  اس کوآگےبیچناجائز نہیں ہے۔دوسری صورت یہ ہے کہ بیچنے والا کمپنی  سے یہ معاہدہ کرے کہ میں آپ کے پاس گاہک لاؤں گا وہ جتنے کی خریداری کرے گا اس کا اتنے فیصدمیراکمیشن ہوگا یا یوں بھی طے کر سکتا ہے کہ ایک کاٹن کی فروختگی پر اتنے روپے لوں گا ۔

اب  مذکورہ سوالات کا جواب درج ذیل ہیں:

  1. request an order  بیع نہیں ہےبلکہ بکنگ کراناہے۔اسےوعدہ بیع کہیں گے۔تاہم اس صورت میں بھی پہلے قبضہ کیےبغیربیچنادرست نہ ہوگا۔کمیشن والی صورت درست ہوگی ۔تیسری صورت میں وعدہ بیع کی تصریح کے بعد جب آپ نے آن لائن خریداری کیش آن ڈیلیوری کرلی لیکن اپنے قبضے میں لائے بغیر سیدھا گاہک کے پاس مال بھیج دیا تو بھی یہ بیع قبل القبض ہے جو کہ جائز نہیں ۔بیچنے کے لیے صرف مملوک ہونا کافی نہیں بلکہ قبضہ بھی ضروری ہے ۔
  2. دوسری صورت کابھی یہی حکم ہے۔
  3. چوتھی صورت میں  جو سیمپل آپ کے پاس موجود ہے اس کےبقدر عقدٹھیک ہوگا۔لہذا جو سیمپل آپ کے پاس موجود نہیں  ہے اس کو آگےبیچنا غیرمقبوض (قبضہ سے پہلےبیچنا)کی بیع ہے، جوکہ فاسد ہے۔
  4. پانچویں صورت میں چونکہ جو چیز آپ  کی ملکیت اور قبضے میں ہے وہی آپ کسٹمر کو بھیج رہے ہو اس لیے اس میں شرعا کوئی خرابی نہیں ہے اور یہ صورت جائزہے۔
حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(5/ 180)

‌ومنها) ‌القبض ‌في ‌بيع ‌المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي؛ ولأنه بيع فيه غرر الانفساخ بهلاك المعقود عليه.

  المحيط البرهاني:(7/ 90)

‌لأن ‌البائع ‌لا ‌يصلح ‌وكيلاً عن المشتري في القبض، ألا ترى أنه لو وكله بذلك نصاً لا يصح.

فقہ البیوع:(2/1137)

الوعد و المواعدۃ بالبیع لیس بیعا، ولایترتب علیہ آثار البیع من نقل ملکیۃ البیع و لاجوب الثمن۔ واذا وقع الوعد او المواعدۃ علی شراء شیئ او بیعہ بصیغۃ جازمۃ وجب علی الواعد دیانۃ ان یفی بہ، و یعقد البیع حسب وعدہ،ولکنہ لایجبر علی ذلک قضاء الا فی حالات آتیۃ...

 فقہ البیوع:((1077/2

متى يتم عقد البيع بين المتعاقدين؟ والجواب أنه إن كان المبيع مملوكاً مقبوضاً للبائع، فإن عقد البيع إنما يتم بتبادل الإيجاب والقبول بينهما، أما بالكتابة، أو بالمكالمة الهاتفية حسب ما ذكرناه في مبحث الإيجاب والقبول. أما إذا لم يكن المبيع مملوكاً للبائع، أولم يكن في حيازته، فالكتابة والمكالمة لا تكفيان الإنجاز عقد البيع، لأنه حين يكون بيعاً لما لا يملكه البائع، أو لما هو غير مقبوض له وحيند، فكلام المشترى يعتبر طلباً للبيع، وكلام البائع وعد به و ينعقد البيع إما بإيجاب وقبول بعد ما يتملكه ويقبضه البائع، وإما بالتعاطى وذلك بأن يصل المبيع إلى المشترى، ويُؤدى المشترى الثمن إلى البريد.

 فقہ البیوع:( /21087)

وإن لم يكن المبيع مملوكاً للبائع، أو لم يكن في حيازته، فإن ما يقدم المشترى من طلب المبيع طلب محض، وربما هو في معنى الوعد بالشراء، ولا يعد إيجاباً. فإن رضي البائع بتوفير المبيع، فإنه يقدم إليه وعداً بأنه سبيعه إليه بعد امتلاكه إياه، وينطبق على الوعدين ما قدمنا من أحكام الوعد والمواعدة في البيع العادي وفي عقود التوريد.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/ 63)

مطلب في أجرة الدلال [تتمة]قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

16/ذوالقعده/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب