03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قرض پر گزشتہ سالوں کی زکاۃ کا حکم
90311زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

اگر کسی کو قرض رقم دیا ہو اور اس پر چند سال گزر جائیں  تو کیا ان تمام سالوں کی زکاۃ دینا لازم ہے یا صرف اسی سال کی جس سال قرض واپس کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

گزشتہ سالوں میں آپ کا کل سرمایہ (جس میں قرض کی رقم بھی شامل ہے) ملا کر اگر نصاب زکاۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت) کو پہنچتا ہو تو قرض دینے کے بعد سے اب تک جتنے سال گزرے ہیں سب کی زکاۃ دینا لازم ہے۔ صرف ایک سال کی زکاۃ دینے سے ذمہ فارغ نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

ردالمحتار علی الدرالمختار : (2/302)

(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف؛ (فتجب) زكاتها إذا تم نصابا وحال الحول، لكن لا فورا بل (عند قبض أربعين درهما من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهما يلزمه درهم (و) عند قبض (مائتين منه لغيرها) أي من بدل مال لغير تجارة وهو المتوسط كثمن سائمة وعبيد خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلية كطعام وشراب وأملاك.

ردالمحتار علی الدرالمختار : (2/305)

وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين. اهـ.

زبیر احمد بن شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

17/ذوالقعدہ/1447

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب