| 90290 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
محترم مفتی صاحب! درج ذیل مسئلہ میں شرعی رہنمائی مطلوب ہے۔
ایک شخص کا انتقال ہوگیا،اس کی دو بیویاں تھیں ،پہلی بیوی کو اس نے پہلے طلاق دے دی تھی اور اس سے چھ اولاد :دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔(پہلی بیوی کا انتقال پہلے ہوچکا ہے)دوسری بیوی موجود ہے، اس سے کوئی اولاد نہیں۔
1: دوسری بیوی سے نکاح سے پہلے ہی یہ بات طے ہوئی تھی کہ مہر کے علاوہ شوہر اپنا آدھا مکان دوسری بیوی کو دے گا۔ اورزندگی بھر اس مکان میں دوسری بیوی ہی رہی،البتہ پہلی بیوی کے بچے اس میں نہیں رہے۔
سوال:باقی آدھے میں دوسری بیوی کو بطور وارث بھی حصہ ملے گا یا نہیں؟
2: مرحوم کے پاس وفات کےوقت تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار روپے موجود تھے۔جو انہوں نے کسی خفیہ جگہ پر رکھے تھے اور انتقال سے دو تین دن پہلے اپنی دوسری بیوی سے کہا تھا کہ "یہ پیسے میرے بعد تمہارے کام آئیں گے اور اس کا تذکرہ میرے بچوں سے نہیں کرنا۔"(یاد رہے مرحوم کا انتقال اچانک ہوا ،کسی بیماری میں نہیں ہوا۔)
سوال:یہ رقم دوسری بیوی کی ملکیت ہوگی یا مرحوم کی وراثت میں شامل ہوگی؟
اگر وراثت میں شامل ہوگی تو اس کی تقسیم کیسے ہوگی ؟
تنقیح :سائل نے فون پربتایا کہ دوسری بیوی مذکورہ رقم کے بارے میں کہتی ہےکہ شوہر نے مجھے کہا تھا کہ "یہ پیسے میرے بعد تمہارے کام آئیں گے اور اس کا تذکرہ میرے بچوں سے نہیں کرنا"،اور کبھی کہتی ہے کہ شوہر نے مجھے کہا تھا کہ "یہ پیسے کام آئیں گے "۔ نیز تمام ورثاء میں میراث کی تقسیم کس طرح کی جائے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
(۱)مرحوم نےجب اپنی زندگی میں گھر کا دوسرا حصہ اگر الگ کر کے مالکانہ حقوق اور تصرف کے ساتھ دوسری بیوی کو باقاعدہ ہبہ کردیا تھا تو ایسی صورت میں ہبہ مکمل ہواہےاورگھر کایہ حصہ اب دوسری بیوی کی ملکیت ہے جسے مرحوم کے ترکہ میں سے شمار نہیں کیا جائے گا ،لیکن اگر گھر کا وہ حصہ مرحوم نے اپنی زندگی میں باقاعدہ الگ کر کے مالکانہ تصرف کے ساتھ دوسری بیوی کے قبضہ میں نہیں دیا تھا تو ایسی صورت میں وہ پورا گھر مرحوم کی کل میراث کا حصہ ہوگا ۔
واضح رہے کہ میراث کی تقسیم کسی معینہ جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیدادمکان ،دکان، پلاٹ،نقدرقم ،سونا ، چاندی ،زیورات ،کپڑے ،برتن ، اور ہر قسم کا چھوٹا بڑاگھریلوسازوسامان چھوڑا ہو اور مرحوم کاوہ قرض جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ ہوتا ہے،لہذادوسری بیوی باقی ورثاء کی طرح کل ترکہ میں سے بھی اپنا شرعی حصہ لینے کی حقدار ہوگی ۔
کل ترکہ میں سےسب سےپہلےمرحوم کے کفن و دفن کے متوسط مصارف ادا کئے جائیں اور اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحوم کے ترکہ سے منہا نہیں کئے جائیں گے، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم کے ذمہ کوئی واجب الأداء قرضہ ہو تو اس کو ادا کریں ، اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں، سب سےپہلےمرحوم کی میراث ان کی وفات کےوقت موجودورثاء(ایک بیوہ،چاربیٹیوں اور دو بیٹوں )میں تقسیم ہوگی ،جس میں سے بیوہ (ہاجرہ) کو12.5%، مرحوم کی ہر ایک بیٹی کو 10.9375%اور ہرایک بیٹے کو سات (21.875%) فیصدحصہ ملےگا۔
میت کے کل ترکہ میں سے درج ذیل نقشے کے مطابق موجود ورثاءکو ان کے حصے دیئے جائیں۔
مورث (مرحوم) کل ترکہ 100%:
|
نمبر شمار |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوہ (ہاجرہ ) |
8 |
12.5% |
|
2 |
بیٹا (وسیم ) |
14 |
21.875% |
|
3 |
بیٹا(وسیم ) |
14 |
21.875% |
|
4 |
بیٹی (امینہ ) |
7 |
10.9375% |
|
5 |
بیٹی (نادیہ) |
7 |
10.9375% |
|
6 |
بیٹی(سعدیہ ) |
7 |
10.9375% |
|
7 |
بیٹی (میمونہ ) |
7 |
10.9375% |
|
|
|
کل64= |
کل 100%= |
(۲) مرحوم نے زندگی میں اپنی دوسری بیوی کو جورقم ( سوا تین لاکھ روپے) دی تھی اس کے متعلق چونکہ باقاعدہ ہبہ (ہدیہ ) کی تصریح نہیں ہےاور شک کی بنیاد پر ہبہ کو درست نہیں قرار دیا جاسکتا، اس لیے مذکورہ رقم بھی میراث کا حصہ ہو گا ،جسے کل ترکہ میں شمار کرکے مذکورہ بالا نقشہ میں دیے گئے حصص کے مطابق تقسیم کی جائےگی۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (6/ 447):
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط ...ويكفن في مثل ما كان يلبس من الثياب الحلال حال حياته على قدر التركة من غير تقتير ولا تبذير، ...وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث.
الأشباه والنظائر - ابن نجيم(ص50):
قاعدة من شك هل فعل شيئا أم لا؟ فالأصل أنه لم يفعل.
صدام حسین
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
16/ذی القعدہ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


