| 90344 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
ایک مسئلہ پوچھنا تھا کہ میرے نانا کا انتقال سن 1993 کے اندر ہو گیا تھا ان کی گولڈ جیولری یعنی سنا ر کی دکان تھی یہاں وہ خود بیٹھ کر اپنے ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے یہ دکان 1960 سے قائم ہے 1985 کے اندر ایک ماموں نے نانا کے ساتھ دکان میں بیٹھنا شروع کیا اور سنار کا کام سیکھنا شروع کیا نانا کے انتقال کے بعد ایک اور چھوٹے مامو ں بڑے ماموں کے ساتھ آکر دکان میں بیٹھ گئے پھر دونوں نے مل کر دکان کو سنبھالا اور کام لے کے بڑھایا۔نانا کے انتقال کے وقت دکان پر کوئی قرضہ نہیں تھا اب نانا کی وراثت تقسیم ہونی ہے بڑے والے ماموں کہتے ہیں کہ میرے نانا دکان ان کے نام کر گئے تھے اور انہیں مالک بنا دیا تھا جبکہ اس بات کا علم نہ تو دوسرے کسی بہن بھائی کو ہے اور نہ ہی میری نانی اماں کو تھا جبکہ حقیقت میں دکان میری نانی کے نام پر ہے۔ اس میں آپ سے چند سوالات معلوم کرنے تھے (۱) ایک تو یہ دریافت کرنا ہے کہ آیا دکان بڑے ماموں کی ہے کیا وہ وراثت میں نہیں آئے گی؟ (۲) دوسری بات یہ کہ اس کے بعد اس دکان سے برابر میں ایک دکان خرید کر اس کو ساتھ ملا دیا گیا اور ایک مکان اور خریدا گیا یعنی کہ جتنی پراپرٹیز بنائی گئی ایک گھر بنایا گیا ایک دکان بنائی گئی کیا وہ نانا کی وراثت میں آئے گی یا ان دونوں ماموں کی یہ پراپرٹیز کہلائیں گی۔مامو کا کہنا ہے کہ یہ پراپرٹی ہم نے بنائی ہے تو اس لیے ہماری کہلائیں گی جبکہ اسی دکان سے جو نانا کی تھی اس پیسے سے یہ پراپرٹیز بنائی گئی ہے (3) مامو اس وراثت میں سے قرضہ بھی کاٹ رہے ہیں یہ قرضہ نانا کے انتقال کے بعد سونے والی دکان پر ہوا ہے تو کیا یہ قرضہ کاٹنا درست ہوگا تمام وارثوں کے حصے میں سے کیا شریعت یہ قرضہ کاٹنے کی اجازت دیتی ہے ؟(4) نانا کی پراپرٹی کی ویلیو اور جتنی بھی چیزیں نانا نے اپنی وراثت میں چھوڑی ہیں آیا وہ دکان ہو یا مکان ہو ان کی ویلیو ابھی کے حساب سے یعنی موجودہ قیمت کے حساب سے لگے گی یا پہلے جو قیمت بن گئی تھی اس کے حساب سے لگے گی؟
ورثہ میں 5 مامو ںاور 8 بیٹیاں(خالا) شامل ہیں تین بیٹیوں کا انتقال نانا کے انتقال کے بعد ہوا ہے البتہ اس میں سے ایک بڑی کی وفات نانی کی زندگی میں ہواہے میری نانی کا انتقال سن 2007 میں ہو گیا تھا اپ سے تفصیلی فتوی دریافت ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس کاروبار کا مالک باپ خود ہو اور بیٹے اس کے ماتحت رہ کر کام میں ہاتھ بٹاتے ہوں، اس کا اصل مالک باپ ہی کہلائے گا۔ والد کے انتقال کے بعد وہ کاروبار تمام ورثہ کے درمیان شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
۱۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ دکان اور اس میں موجود سرمایہ صرف والد کی ملکیت ہے، جس میں ان کی وفات کے بعد تمام ورثہ اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک ہوں گے۔
۲۔ سائل کے بیان کے مطابق اگر بھائیوں نے نانا کی دکان کے سرمائے سے دوسری دکان اور مکان خریدا ہے، تو یہ تمام چیزیں بھی ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گی۔
۳۔ اگر واقعی نانا کے انتقال کے بعد مشترک ترکہ والی دکان پر ہی قرض آیاہے، تو وہ قرضہ کل ترکے سے منہاکیا جائے گا۔
۴۔ نانا کی دکان اور جائیداد کی موجودہ قیمت (یعنی جس وقت تقسیم ہورہی ہے) کے حساب سے ہر وارث کو اس کا شرعی حصہ دیا جائے گا۔
ترکہ کی تقسیم ر درج ذیل طریقےسےہوگی :
کل ترکے میں سے ہر بیٹے کو %9.72 اور ہر بیٹی کو %4.86 حصہ ملے گا۔ جو تین بیٹیاں والد کی وفات کے بعد انتقال کر گئی ہیں، ان کا حصہ ان کے ورثہ کو دیا جائے گا۔ میت کی والدہ (نانی) کا حصہ %12.5 ہوگا۔ چونکہ نانی بھی فوت ہو چکی ہیں، لہٰذا ان کا حصہ صرف ان ورثہ میں تقسیم ہوگا جو ان کی وفات کے وقت حیات تھے۔ جو بڑی بیٹی اپنی والدہ کی زندگی میں ہی انتقال کر گئی تھی، اسے والدہ کے ترکے سے حصہ نہیں ملے گا۔
اگر ہر میت کے ورثہ کی تعداد اور ان کی تاریخِ وفات لکھ دی جائے، تو ہر وارث کا حصہ تفصیل سے بیان کردیاجائےگا ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی:إِنَّ ٱلَّذِينَ يَأكُلُونَ أَموَٰلَ ٱليَتَٰمَىٰ ظُلمًا إِنَّمَا يَأكُلُونَ فِي بُطُونِهِم نَارٗاۖ وَسَيَصلَونَ سَعِيرٗا ١٠ يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُمۖ لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوقَ ٱثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَت وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصفُۚ﴾ [النساء: 10-11]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي :(4/ 325)
وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها، ثم هذا في غير الابن مع أبيه؛ لما في القنية الأب وابنه يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيء فالكسب كله للأب إن كان الابن في عياله لكونه معينا له ألا ترى لو غرس شجرة تكون للأب.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (4/ 325)
وفي الخانية: زوج بنيه الخمسة في داره وكلهم في عياله واختلفوا في المتاع فهو للأب وللبنين الثياب التي عليهم لا غير، فإن قالوا هم أو امرأته بعد موته: إن هذا استفدناه بعد موته فالقول لهم، وإن أقروا أنه كان يوم موته فهو ميراث من الأب.
الفتاوى الهندية ط: دار الفكر بيروت (2/ 301):
شركة ملك وهي أن يتملك رجلان شيئا من غير عقد الشركة بينهما... وشركة الملك نوعان: شركة جبر، وشركة اختيار فشركة الجبر أن يختلط المالان لرجلين بغير اختيار المالكين خلطا لا يمكن التمييز بينهما حقيقة بأن كان الجنس واحدا أو يمكن التمييز بضرب كلفة ومشقة نحو أن تختلط الحنطة بالشعير أو يرثا مالا ... وحكمها وقوع الزيادة على الشركة بقدر الملك، ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام ط: دار الجيل (3/ 34):
لو أجر أحد الشريكين المال المشترك لآخر بلا إذن الشريك وقبض الأجرة ،فيعطى شريكه الآخر حصة من بدل الإيجار ويردها إليه، ويشارك الشريك الآخر المؤجر في بدل الإيجار بنسبة حصته في المال المشترك.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19/ذوالقعدہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


