03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
استنجا کے بعد نجاست کے شک اور وسوسے کا حکم
90304پاکی کے مسائلاستنجاء کا بیان

سوال

دوسرا سوال یہ ہے  کہ کبھی کبھار استنجاء کرتے دوران جب پانی بہاؤ ں تو کچھ  چھینٹیں پچھلی شرمگاہ کو لگ جاتی ہیں ، اگر دھونا دشوار ہو تو کیا گیلے ہاتھ سے تین بار صفائی کرنے سے پاکی حاصل ہو جائے گی، اگر ہر بار ہاتھ دھویا جائے؟

اسی طرح اگر جسم پریا کپڑے پر ناپاکی لگی ہو ،لیکن اس کا علم نہ ہو، یعنی دکھائی نہ دیتا ہو یا کسی اور سبب کی وجہ سے اس کا علم نہ ہو پائے (جیسے ابھی میرے ساتھ مسئلہ ہے  کہ میں شک کی بیماری کو ختم کرنے کے لیے اس کی طرف دھیان نہ دوں اور اصل میں لگی ہوئی ہو نجاست)  تو کیا اس صورت میں نجاست کا علم نہ ہونے کی وجہ سے عبادات وغیرہ جائز ہے  یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر یقین ہو کہ پچھلی شرمگاہ کو نجاست لگی ہے، تو اسے دھونا ضروری ہے۔ لیکن اگر صرف شک ہو کہ نجاست لگی ہے یا نہیں، تو اس شک پر توجہ نہ دیں۔

جب تک نجاست کا پکا یقین نہ ہو، صرف وسوسے کی وجہ سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے صفائی کا خیال رکھیں، مگر بار بار شک میں نہ پڑیں اور اطمینان کے ساتھ نماز ادا کریں۔                                   

حوالہ جات

و في الهندية(1/56):

النجاسة إن كانت غليظةً وهي أكثر من قدر الدرهم فغسلها فريضة والصلاة بها باطلة. وإن كانت مقدار درهم فغسلها واجب والصلاة معها جائزة. وإن كانت أقل من الدرهم فغسلها سنة.وإن كانت خفيفة فإنها لا تمنع جواز الصلاة حتى تفحش. كذا في المضمرات.

  و فی رد المحتار(1/151):

 :تحت قوله : و لو شك إلخ). في التتارخانية : من شكّ في إنائه أو في ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة أو لا، فهو طاهر ما لم يستيقن.

احسان اللہ گل محمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

15/11/7144ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب