| 90305 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ میری شادی کو چار سال ہو گئے ہیں میں نے شادی سے پہلے اپنے والدین سے کہا تھاکہ میں یہاں شادی نہیں کرنا چاہتا لیکن انہوں نے میری شادی زبردستی کروا دی تو اب تک میں اپنی بیوی کے ساتھ چلتا رہا لیکن جب بھی میں اپنی بیوی کے ساتھ سوتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں زنا کر رہا ہوں اور میں ہاتھ سے کام کرتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے ثواب کیا ہے اب آپ مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ شیطانی وسوسے کا شکار ہیں ،موجودہ کیفیت پر دلی ندامت کے ساتھ توبہ کریں اور حلال بیوی کی نعمت کی حد تک محدود رہیں جب نکاح صحیح طریقے سے ہواہے تو شریعت میں بیوی کے ساتھ ازدواجی تعلق قائم کرنا حلال ہے۔
نیز مشت زنی کرنا ناجائز اور گناہ کا کام ہے،احادیث میں اس فعل بد پر وعید وارد ہوئی ہے۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات لوگ ایسے ہیں جن سے اللہ تعالٰی قیامت کے دن نہ گفتگو فرمائیں گے اور نہ ان کی طرف نظرکرم فرمائیں گے اُن میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے ۔
حوالہ جات
و في سورة المؤمنون(6/23):
والذين هم لفروجهم حافظون. إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين.
وفي الدرالمختار (2/399):
كذا الاستمناء بالكف وإن كره تحريما لحديث "ناكح اليد ملعون".
و تحته في الشامية:
ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى "والذين هم لفروجهم حافظون" [المؤمنون: 5] وقال: فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم.
شعب الإيمان (7/ 329):
عن أنس بن مالك، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " سبعة لاينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة، ولايزكيهم، ولايجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه: الناكح يده، والفاعل والمفعول به، والمدمن بالخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوه، والناكح حليلة جاره.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
15/11/7144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


