03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈراپ شپنگ کا حکم
90346خرید و فروخت کے احکامبغیر دیکھے خریدنے بیچنے کے مسائل

سوال

: محترم مفتی صاحب!

میرا سوال ڈراپ شپنگ کے کاروبار کے متعلق ہے، جو ایک نیا کاروباری ماڈل ہے اور آن لائن پلیٹ فارمز (جیسے eBay) پر کام کرتا ہے۔ طریقہ کار یہ ہے کہ میں کسی پروڈکٹ کو اس کی قیمت اور مکمل تفصیلات کے ساتھ فروخت کے لیے دکھاتا ہوں، ، حالانکہ وہ چیز میرے پاس ابھی موجود نہیں ہوتی۔جب کوئی گاہک آرڈر دیتا ہے اور پیسے ادا کرتا ہے، تو میں وہی پروڈکٹ AliExpress سے خرید کر براہِ راست گاہک کے ایڈریس پر بھیج دیتا ہوں۔اس معاملے میں:میں تمام specifications واضح کرتا ہوں (size, color, material وغیرہ)میں گاہک کو مال 7–10 دن میں پہنچانے کا وعدہ کرتا ہوں۔  کیا 7–10 دن کی delivery کافی ہے یا مخصوص تاریخ ضروری ہے؟

اگر مال خراب ہو یا صحیح نہ پہنچے تو میں refund یا replacement دیتا ہوں کیا یہ کافی ہے یا ذمہ داری واضح طور پر لکھنا ضروری ہے؟براہِ کرم درج ذیل امور پر شرعی رہنمائی فرمائیں:

کیا یہ کاروبار حلال ہے یا نہیں؟

اگر ناجائز ہو تو حرام، مکروہِ تحریمی یا مکروہِ تنزیہی؟

مکروہِ تحریمی گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟

کیا Salam model کے تحت جائز ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو مکمل طریقہ کیا ہے؟

کیا Agent / Wakalah model کے تحت جائز ہو سکتا ہے؟ اگر ہاں تو مکمل طریقہ کیا ہے؟

کیا Maliki یا Hanbali فقہ کی روشنی میں اس نئے کاروباری ماڈل میں گنجائش نکل سکتی ہے؟

مزید کن شرائط کے ذریعے اسے مکمل شرعی بنایا جا سکتا ہے؟

براہِ کرم جواب عنایت فرما دیں۔

جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ ڈراپ شپنگ کا رائج طریقۂ کار شرعا درست نہیں؛ اس میں آرڈر لینے والا شخص ایسی چیز بیچتا ہے جو اس کی ملکیت اور قبضہ میں نہیں ہوتی، اور شرعا کسی چیز کو ملکیت اور قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں ۔

اس کا ایک متبادل جائز طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کے پاس آرڈر آئے تو آپ آرڈر دینے والے کو اس وقت وہ چیز نہ بیچیں، بلکہ اس سے وعدہ کریں کہ میں یہ چیز تمہیں بیچ دوں گا، پھر اس کے بعد آپ وہ چیز سپلائر سے خریدیں؛ تاکہ آپ کی ملکیت آجائے۔ اس کے بعد سپلائر کے علاوہ کسی شخص کو اپنا وکیل بنائیں؛ تاکہ وہ آپ کی طرف سے قبضہ کرے اور آرڈر دینے والے کو بھیج دے۔ مذکورہ بالا دونوں کام یعنی چیز خریدنے اور وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرنے کے بعد یا تو آپ آرڈر دینے والے کے ساتھ دوبارہ  فون، وٹس ایپ یا  ای میل وغیرہ کے ذریعے رابطہ کر کے باقاعدہ زبانی طور پر بیع کرلیں  ، یا پھر جب چیز اس کے پاس پہنچ جائے تو تعاطیاً بیع منعقد ہوجائے گی۔

دوسرا جائز متبادل طریقہ یہ بھی  ہے کہ آپ سپلائر (وہ دوسرا سٹور جس کی مصنوعات آپ اپنے سٹور پر پیش کرتے ہیں) کے وکیل (کمیشن ایجنٹ) کے طور پر کام کریں، اس سے یہ معاہدہ کریں کہ میں آپ کی چیزیں آپ ہی کے لیے اپنے سٹور پر بیچوں گا اور اس پر آپ سے متعین اجرت لوں گا۔  ہر پروڈکٹ پر الگ الگ اجرت مقرر کرنا ضروری نہیں، ایک دفعہ معاہدہ کرنا بھی کافی ہے۔  اجرت میں اصل یہ  ہے کہ لم سم رقم کی شکل میں طے ہو، مثلا ہر پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، یا فلاں پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، فلاں پر بیس روپے ۔ اگر پروڈکٹ کی کل قیمتِ فروخت کا فیصدی حصہ (مثلا ٪10) بطورِ اجرت مقرر کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اس صورت میں چونکہ آپ آرڈر دینے والے کو اپنی چیز نہیں بیچیں گے، بلکہ سپلائر کی چیز بیچیں گے؛ اس لیے مصنوعات سے متعلق ہر قسم کے خطرات (Risks) بھی اسی کے ذمے ہوں گے، الاّ یہ کہ آپ کی طرف سے اصول و قواعد کی خلاف ورزی، زیادتی یا بے احتیاطی کی وجہ سے کوئی نقصان ہو تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ سپلائر سے وکالت (Agency) کا معاہدہ کرتے ہوئے نقصان سے متعلق اس حکمِ شرعی کی صراحت اور وضاحت ضروری ہوگی ؛   تاکہ بعد میں کوئی اختلاف اور تنازع نہ ہو۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (5/ 362):

عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك ".

المبسوط للسرخسي (13/ 14):

قال: ومن اشترى شيئاً فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه ولا يوليه أحداً ولا يشرك فيه؛ لأن التولية تمليك ما ملك بمثل ما ملك، والإشراك تمليك نصفه بمثل ما ملك به.

رد المحتار (6/ 63):

مطلب في أجرة الدلال،   تتمة:  قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل،  وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم.  وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

ماخوذ ازتبویب (84177)

صدام حسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

17/ذی القعدہ 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب