03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدین، شوہر اور تین بیٹیوں کے درمیان تقسیم میراث
90449میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

گزارش ہے کہ میری حقیقی بہن (مسمات آمنہ) کا انتقال ہو چکا ہے۔ وہ اپنے پیچھے مذکورہ ورثہ چھوڑ گئی ہیں: والدین (حقیقی ماں اور باپ)،تین بیٹیاں (جن کی عمریں بالترتیب 6، 4 اور 2 سال ہیں) اور شوہر (احسان اللہ)۔

کیس کے اہم حقائق درج ذیل ہیں:

مرحومہ کی شادی اپریل 2018 میں ہوئی تھی۔ 8 سالہ ازدواجی زندگی میں شوہر کے مسلسل تشدد کی وجہ سے دو بڑے جرگے ہوئے، جن میں سے ایک مقامی جرگے نے ملزم پر تشدد ثابت ہونے پر 2 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا، جس کا ملزم نے تحریری اعتراف کیا مگر بعد میں اس کی خلاف ورزی کی۔

ملزم نے فیملی کورٹ پشاور میں جنوری 2026 میں تصفیہ کیا کہ وہ تشدد نہیں کرے گا اور خلاف ورزی پر 10 لاکھ روپے ہرجانہ دے گا، مگر اس نے یہ وعدہ بھی توڑا اور مرحومہ کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتا رہا۔

مرحومہ ان 8 سالوں میں مختلف مواقع پر تقریباً 4 سال اپنے والدین کے گھر رہی، جس کا نان و نفقہ شوہر نے ادا نہیں کیا۔

مرحومہ کے انتقال سے قبل ملزم نے اسے ازدواجی حقوق سے محروم رکھا اور اس سے تین ناجائز مطالبات کیے (شوہر نے مرحومہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے  والد کی جائیداد سے حصہ الگ کرکے اسے حوالہ کسر دے،  مہر معاف کرے اور دوسری شادی کی اجازت دے) ۔

دریافت طلب امور:

1. مرحومہ کے ترکے میں ان کا حق مہر (6 تولہ سونا)، نکاح نامہ کی شق نمبر 16 کے مطابق شوہر کی آبائی جائیداد میں سے اس کا بننے والا حصہ ( مکان میں طے شدہ حصہ )، جہیز کا سامان اور سونے کے ذاتی زیورات شامل ہیں۔ شرعی طور پر والدین، تینوں بیٹیوں اور شوہر کا ان چیزوں میں کتنا کتنا حصہ بنتا ہے؟

2. کیا وہ 4 سال کا نان و نفقہ (بیوی اور بیٹیوں کا) جو شوہر نے ادا نہیں کیا، اب ملزم کے ذمہ قرض ہے؟      

3- کیا وہ 2 لاکھ روپے جرمانہ (جو جرگے نے عائد کیا تھا) اور 10 لاکھ روپے ہرجانہ (جو فیملی کورٹ کے تصفیہ میں طے تھا)، اب مرحومہ کے ترکے کا حصہ شمار ہوں گے تاکہ وہ یتیم بچیوں کی پرورش پر خرچ کیے جا سکیں؟

4- ملزم کے تشدد کی وجہ سے والدین نے مرحومہ کے طویل نفسیاتی اور جسمانی علاج پر جو پیسے خرچ کیے، کیا وہ شرعی طور پر ملزم سے واپس لینے کا حق رکھتے ہیں؟

تنقیح :

سائل نے مزید بتایا کہ شوہر کے تشدد اور اذیتوں کے نتیجے میں مرحومہ اس حد تک نفسیاتی مریض بن گئی کہ نوبت خودکشی تک آ گئی۔ سائل نے بطور ثبوت میڈیکل رپورٹس اور پولیس میں شوہر کے ظلم کے خلاف مرحومہ کی طرف سے دی گئی درخواستیں بھی بھیجیں۔

09 اکتوبر 2020 کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق مرحومہ کے دائیں ہاتھ پر سوجن بتائی گئی ہے، مزید بتایا گیا ہے کہ جسم پر کوئی اور زخم نہیں ہیں، تاہم چہرے اور جسم کے دیگر مختلف حصوں پر خراشیں یا نیل موجود ہیںاور مریضہ کو دائیں ہاتھ، کلائی، ریڑھ کی ہڈی اور کھوپڑی کے ایکسرے تجویز کیے گئے ہیں اور مریضہ کی حالت نارمل بتائی گئی ہے۔

مذکورہ واقعہ کے بعد 10 اکتوبر 2020 کو مرحومہ نے شوہر احسان اللہ کے خلاف تھانے میں روزنامچہ کا اندراج کیا، جس میں لکھا ہے کہ ان کا شوہر احسان اللہ معمولی باتوں پر روزانہ تشدد کا نشانہ بناتا ہے،  حالیہ واقعہ میں شوہر نے اسے بری طرح پیٹا، جس کی وجہ سے اس کی آنکھوں، چہرے، کمر اور بازوؤں پر نیل پڑے اور چوٹیں آئیں۔

25 اکتوبر 2020 کی Al Teaching Institute, Peshawar کی رپورٹ کے مطابق مرحومہ کی ناک پر ایک سنٹی میٹر کا زخم اور سر کے پچھلے حصے پر سوجن کا ذکر ہے اور یہ بھی مذکور ہے کہ مریضہ کو پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔ اسی تاریخ کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پشاور میں بھی رپورٹ تیار کروائی گئی ہے اور اس میں بھی یہی باتیں مذکور ہیں اور دونوں رپورٹس میں لکھا گیا ہے کہ مریضہ ہوش و حواس میں تھی اور جس آلے کے ذریعے زخم لگایا گیا ہے وہ کند آلہ ہے۔ رپورٹ میں مریضہ کے لیے سر کی چوٹ کی نوعیت جاننے کے لیے کھوپڑی کا ایکسرے، سینے کا ایکسرے، اور پیٹ میں درد کی شکایت کی وجہ سے پیٹ کا الٹرا ساؤنڈ تجویز کیا گیا ہے۔

23 مارچ 2026 کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور کی رپورٹ کے مطابق مرحومہ پر کسی کند آلے کے ذریعے تشدد ہوا ہے، جس کی وجہ سے دائیں کولہے، کولہے کے پچھلے حصے اور دائیں بازو پر نیل اور سوجن کے علامات بتائے گئے اور لکھا گیا ہے کہ چوٹ کا دورانیہ تقریباً ایک ہفتہ ہے اور مریضہ کی حالت نارمل تھی۔

اسی واقعہ کے بعد میڈیکل رپورٹ ساتھ لے کر مرحومہ نے پولیس میں شوہر کے خلاف اپنی جان کے تحفظ کے لیے درخواست دی، جس میں ذکر ہے کہ شوہر نشے کی حالت میں گھر آیا اور بحث و تکرار کے بعد اسے لاتوں اور مکوں سے نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے درخواست گزار کے سر، کمر اور جسم کے دیگر حصوں پر نیل پڑ گئے اور خون بھی بہا۔

نیز سائل نے ایک بیانِ حلفی بھی ساتھ بھیجا ہے، جس پر چار گواہان (احمد اللہ ولد عبداللہ جان، حمد اکبر ولد عبدالقدوس، خان محمد، خیال محمد) کے دستخط کے ساتھ نوٹری پبلک (Notary Public) کی مہر اور دستخط بھی ثبت ہیں۔ اس بیان حلفی میں مرحومہ کے والد حلفاً بیان کرتے ہیں کہ احسان اللہ نے ان کی بیٹی بی بی آمنہ پر شدید تشدد کیا، جس کے باعث وہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہو گئی۔ مرحومہ کے علاج پر مختلف اوقات میں ہونے والے خرچ کا تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے، جن کا مجموعہ 250000 روپے بنتا ہے۔ مرحومہ کے والد نے اس بیانِ حلفی میں یہ بھی لکھا ہے کہ 2021 میں فریقین کے درمیان جرگے کے ذریعے فیصلہ ہوا کہ آئندہ مشران ذمہ دار ہوں گےاگر احسان اللہ نے دوبارہ تشدد کیا اور یہ ثابت ہوا تو وہ دو لاکھ روپے جرمانہ ادا کرے گا۔ سائل نے لکھا ہے کہ وہ یہ بیان بطور ثبوت پیش کر رہا ہے۔ان تمام واقعات کی میڈیکل رپورٹس اور تھانے میں جمع کردہ درخواستیں اور حلفی بیان  کی فوٹو کاپیاں منسلک ہیں۔سائل نے یہ بھی بتایا کہ مرحومہ ازخود میکے نہیں آتی تھی بلکہ ہر بار شوہر تشدد کرکے خود چھوڑ جاتا تھا، تاکہ ہم ان کا علاج معالجہ کرتے رہیں، ساتھ نکاح نامے کی تصویر بھی بھیجی جس کی شق نمبر 20 میں لکھا ہے کہ ناچاقی کی صورت میں شوہر (احسان اللہ) اپنی بیوی کو نان نفقہ کے مد میں ماہانہ پانچ ہزار روپے ادا کرے گا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1- مرحومہ کا کل ترکہ باپ، ماں، شوہر اور تین بیٹیوں کے درمیان درج ذیل کے حساب سے تقسیم ہوگا۔

مرحومہ کے کل ترکہ میں سے سب سے پہلے ان کے تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد  اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیاجائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیروارث کےحق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کی جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے اس میں سے مرحومہ کے والد کو 13.33%  ، والدہ کو13.33%، شوہر کو 20%اور ہر ایک بیٹی کو 17.78%ملے گا۔

درج ذیل نقشے میں ہر وارث کا فیصدی اور عددی حصہ بھی لکھا ہوا ہے۔

نمبر شمار

ورثہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

والد

             6

13.33%

2

والدہ

6

13.33%

3

شوہر

9

20%

4

بیٹی

8

17.78%

5

بیٹی

8

17.78%

6

بیٹی

8

17.78%

 

مجموعہ

45

100%

 

 

 

 

 

 

 

 

2-مرحومہ کے اس تمام عرصہ کا نان نفقہ جس میں شوہر اسے مار  پیٹ کر خود والدین کے گھر چھوڑ جاتا تھا، حسب نکاح نامہ (شق نمبر 20) ماہانہ مبلغ پانچ ہزار روپے شوہر پر ادا کرنا لازم ہے۔

3- مرحومہ کی بیٹیوں کی گزشتہ 4  سالوں کا نان نفقہ کی ادائیگی شوہر کے ذمہ لازم نہیں ہے۔ تاہم اخلاقی طور پر جس حد تک گنجائش ہو ادائیگی کرنی چاہیے۔

4- جرگہ اور کورٹ کے تصفیہ میں مقرر کردہ جرمانہ مرحومہ کے میراث میں شامل نہیں ہوگا۔

5- مرحومہ کے باپ نے مرحومہ کے علاج پر جو رقم خرچ کی ہے وہ شوہر کے ذمہ واجب نہیں ہے۔ تاہم شوہر کو اخلاقی طور پر جس حد تک ممکن ہو ادائیگی کرنی چاہیے۔

6-  یاد رہے شوہر کے تشدد کی وجہ سے اگر نفسیاتی نقصان کو قانونی طریقے سے ثابت کیا جاسکے تو ہرجانہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے، ورنہ اس احتمال کی وجہ سے شوہر کسی ادائیگی کا پابند نہیں ہے۔

حوالہ جات

ردالمحتار علی الدرالمختار : (3/594)

(قوله والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة.

البحر الرائق : (4/195)

وأطلق في عدم وجوب النفقة للناشزة فشمل ما إذا كانت النفقة مفروضة فإن النشوز يسقطها أيضا إلا إذا استدانت فإن المستدانة لا يسقطها النشوز على أصح الروايتين كالموت لا يسقطها أيضا۔

ردالمحتار علی الدرالمختار : (3/594)

ثم اعلم أن المراد بالنفقة نفقة الزوجة، بخلاف نفقة القريب فإنها لا تصير دينا ولو بعد القضاء والرضا، حتى لو مضت مدة بعدهما تسقط۔

الأصل للإمام محمد بن الحسن الشیبانی:(10/580)

أبو عبد الله محمد بن أبي حفص قال: أخبرنا أبي قال: أخبرنا محمد بن الحسن عن أبي يوسف عن عبيد الله بن أبي حميد عن أبي بكر الهذلي عن أبي مليح بن أسامة عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه كتب إلى أبي موسى الأشعري أن الصلح جائز بين المسلمين إلا صلح حرم حلالا أو أحل حراما. وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد.

الفتاوی الھندیۃ : (2/167)

ومعنى ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.

البحر الرائق : (5/44)

ولم يذكر محمد ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال وقد قيل روي عن أبي يوسف أن التعزير من السلطان بأخذ المال جائز كذا في الظهيرية وفي الخلاصة سمعت عن ثقة أن ‌التعزير ‌بأخذ ‌المال إن رأى القاضي ذلك أو الوالي جاز ومن جملة ذلك رجل لا يحضر الجماعة يجوز تعزيره بأخذ المال اهـ... وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال...

شرح القواعد الفقھیۃ : (425)

" المواعيد " التي تصدر من الإنسان فيما يمكن ويصح التزامه له شرعا إذا صدرت منه " بصور التعليق " أي أن كانت مصحوبة بأدوات التعليق الدالة على الحمل أو المنع " تكون لازمة " لحاجة الناس إليها.

وإذا صدرت بغير صورة التعليق لا تكون لازمة لعدم وجود ما يدل على الحمل والمنع، بل تكون مجرد وعد وهو لا يجب الوفاء به قضاء.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

23/ذوالقعدہ/1447

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب