| 90329 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
کیا کباڑ ( لنڈے)کا کاروبار جو باہر ممالک سے منگوایا جاتا ہے شرعی لحاظ سے جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہر وہ چیز جس کی اپنی کوئی مالی حیثیت ہو اور شرعاًقابل ِ انتفاع ہو یعنی اس کا استعمال بھی جائز ہو، تو اس کی خرید وفروخت کرنا بھی جائز ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں کباڑ (لنڈے )کا کاروبارجائز ہے، بشرطیکہ اس میں چوری کے مال کی خریدوفروخت نہ ہو ، اور کسی قسم کی غیر شرعی اشیاء کا کاروبار نہ ہو،مثلاً آلات ِمعصیت یعنی گانے بجانے کے آلات وغیرہ کا کام نہ کیا جائے۔
حوالہ جات
قال تعالى: أحل الله البيع وحرم الربوا......
وفی الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص394):
وشرعا: (مبادلة شئ مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم.
حاشية ابن عابدين (4/ 502):
قوله: مرغوب فيه) أي ما من شأنه أن ترغب إليه النفس وهو المال؛ ولذا احترز به الشارح عن التراب والميتة والدم فإنها ليست بمال، فرجع إلى قول الكنز والملتقى: مبادلة المال بالمال؛ ولذا فسر الشارح كلام الملتقى في شرحه بقوله: أي تمليك شيء مرغوب فيه بشيء مرغوب فيه،
صدام حسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23 /ذی القعدہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


