03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر ،والدہ ،ایک بیٹا اور بیٹی میں میراث کی تقسیم
90358میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ازراہ کرم مجھے بچوں میں تقسیم کا نصاب بھی صحیح بتادیں ۔ورثاء (شوہر،والدہ ،بیٹی،بیٹا)

میں زیور کی زکٰوۃ ادا نہیں کر سکتا  ، کیونکہ میری  مالی حیثیت  بہتر نہیں  ہے اور   میرا کوئی روزگار بھی نہیں  ہے، میرے گھر کا خرچہ میرے  بھائی اٹھاتے ہیں ۔ اس صورت میں کیا کیا جاسکتا ہے؟ اگر کوئی زکٰوۃ   میری صورت  حال  دیکھ کر بھی بنتی ہے، تو کیا زکٰوۃ  زیور بیچ کر ادا کرنی پڑے گی  ؟  اس مسئلہ کو خاص طور پر آپ تفصیل سے بتائیں ۔

اُمید کرتا ہوں کہ جو کچھ بھی میں نے بتایا ہے حلفا درست ہے ،میں ہر چیز واضح طور پر بتادی ہے، کمی  بیشی کو معاف کردیا جائے۔اب بچوں کی عمریں  ؛لڑکا 20سال  ، لڑکی 21 سال  اور  دونوں کی  پڑھائی  چل   رہی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ میراث کی تقسیم  کسی معینہ جائیداد کے ساتھ خاص نہیں ہوتی،  بلکہ میت نے اپنے انتقال کے وقت اپنی  ملکیت   میں  جو   کچھ  منقولہ   وغیر   منقولہ   مال   و جائیداد:  مکان  ،د کان  ، پلاٹ، نقد رقم ،سونا،چاندی،زیورات،کپڑ ے، برتن  ،  اور ہر قسم   کا  چھوٹا   بڑاگھریلوسازوسامان  چھوڑا  ہو ،اور مرحومہ  کا وہ   قرضہ جس کی ادائیگی کسی شخص یا ادارے کے ذمے واجب ہے، یہ سب میت کا ترکہ  ہوتا ہے ۔لہذاذیل میں اسی کے مطابق  ہرمیت کی وراثت تقسیم کی جائے گی ۔

ترکہ میں سےسب سےپہلےمرحومہ کے کفن و دفن کے متوسط  مصارف  ادا کئے جائیں، اور اگر یہ اخراجات کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان ادا کر دیئے ہوں تو پھر یہ اخراجات مرحومہ کے ترکہ سے منہا نہیں کئے جائیں گے۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی واجب الأداء قرضہ ہو تو اس کو ادا کریں ۔ اس کے بعد دیکھیں کہ اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ترکہ کے ایک تہائی (۳/۱) مال کی حد تک اس وصیت پر عمل کریں۔ اس کے بعد جو مال بچے، اسکے کل مساوی چھتیس (36) حصے کر کے مرحومہ کی والدہ  کو(6)  حصے ،شوہر کو  (9)  حصے ،بیٹے کو  (14) حصے اور بیٹی کو  (7)   حصے دےدیں  باقی  میراث کی تقسیم کا نقشہ درج ذیل  ہے:

مورث مرحومہ (بیوی)کل ترکہ :

نمبر شمار

وارث

عددی حصہ

فیصدی حصہ

رقم

1

والدہ

6

16.666666666%

1,607,139روپے

2

شوہر

9

25%

2,410,707روپے

3

بیٹا

14

38.88888889%

3,749,989روپے

4

بیٹی

7

19.444444444%

1,874,994روپے

5

 

کل 36=

کل 100%=

کل 9,642,829=روپے

حوالہ جات

قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:سورۃ النساء:آیت( 12)

"وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِامْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ".

الفتاوى الهندية (6/ 447)

التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف، كذا في المحيط  ...وأما ما ثبت بالبينة أو بالمعاينة فهو ودين الصحة سواء، كذا في المحيط ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما يبقى بعد الكفن والدين إلا أن تجيز الورثة أكثر من الثلث ثم يقسم الباقي بين الورثة على سهام الميراث۔

صدام حسین 

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی 

24/ذی القعدہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

صدام حسین بن ہدایت شاہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب