| 90776 | خرید و فروخت کے احکام | اموال خبیثہ کے احکام |
سوال
مفتی صاحب! میری فرنیچر کی دکان ہے۔ جب کسٹمر آتا ہے اور کپڑوں کی الماری کے بارے میں پوچھتا ہے کہ اس میں کون سی لکڑی لگی ہوئی ہے، تو اکثر لوگ جھوٹ بولتے ہیں کہ یہ "ملائیشین" لکڑی ہے، جبکہ درحقیقت وہ لکڑی "چینی" (چائنا کی) ہوتی ہے۔ چونکہ اکثر لوگ چینی لکڑی پسند نہیں کرتے، اس لیے دکاندار کسٹمر سے جھوٹ بولتا ہے اور کسٹمر ملائیشین لکڑی کا سن کر الماری خرید لیتا ہے۔ کیا اس جھوٹ اور دھوکے سے حاصل ہونے والی آمدنی حلال ہوگی یا حرام؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جھوٹ اور دھوکے سے حاصل ہونے والی آمدنی ناجائز اور حرام ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں گاہک کو ملائیشین لکڑی بتا کر درحقیقت چینی لکڑی کی الماری بیچنا اور اس پر منافع کمانا شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔ دونوں لکڑیوں کی قیمت کے درمیان جو فرق ہے (یعنی دکاندار نے ملائیشین لکڑی کا نام لے کر جو اضافی نفع کمایا ہے)، وہ رقم خریدار کو واپس کرناواجب ہے ،البتہ اگر خریدار کوواپس کرنا کسی وجہ سے ممکن نہ رہے تو اس کو بغیر نیت ثواب صدقہ کرنا لازم ہوگا، کیونکہ وہ خالص جھوٹ اور دھوکے کے ذریعے کمایا گیا ہے۔ دکاندار پر لازم ہے کہ وہ خریدار کو چیز کی اصل حقیقت اور کوالٹی سچائی کے ساتھ بتائے۔ نیز اس صورت میں خریدار کو مطلوبہ صفت نہ پائے جانے کی وجہ سے 'خیارِ وصف' (واپسی کا اختیار) بھی حاصل ہوگا، یعنی حقیقتِ حال معلوم ہونے پر اگر وہ اس چیز کو لوٹانا چاہے تو لوٹا سکتا ہے۔
حوالہ جات
«مجلة الأحكام العدلية» (ص62):
«الفصل الثاني: في بيان خيار الوصف
(المادة 310) إذا باع مالا بوصف مرغوب فظهر المبيع خاليا عن ذلك الوصف كان المشتري مخيرا إن شاء فسخ البيع وإن شاء أخذه بجميع الثمن المسمى ويسمى هذا خيار الوصف مثلا لو باع بقرة على أنها حلوب فظهرت غير حلوب يكون المشتري مخيرا وكذا لو باع فصا ليلا على أنه ياقوت أحمر فظهر أصفر يخير المشتري.
(المادة 311) خيار الوصف يورث مثلا لو مات المشتري الذي له خيار الوصف فظهر البيع خاليا من ذلك الوصف كان للواصف حق الفسخ.
(المادة 312) : المشتري الذي له خيار الوصف إذا تصرف بالمبيع تصرف الملاك بطل خياره.»
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (5/ 135):
«(ويضم) البائع (إلى رأس المال) (أجر القصار والصبغ) بأي لون كان (والطراز) بالكسر علم الثوب (والفتل وحمل الطعام) وسوق الغنم وأجرة الغسل والخياطة (وكسوته) وطعام المبيع بلا سرف وسقي الزرع والكرم وكسحها وكري المسناة والأنهار وغرس الأشجار وتجصيص الدار (وأجرة السمسار) هو الدال على مكان السلعة وصاحبها (المشروطة في العقد) على ما جزم به في الدرر ورجح في البحر الإطلاق وضابطه كل ما يزيد في المبيع أو في قيمته يضم درر واعتمد العيني وغيره عادة التجار بالضم (ويقول قام علي بكذا ولا يقول اشتريته) لأنه كذب وكذا إذا قوم الموروث ونحوه أو باع برقمه لو صادقا في الرقم فتح.»
رد المحتار، كتاب البيوع، باب خيار الشرط» (7/ 133، ط: مكتبة زكريا ديوبند):
لأن الوصف المرغوب بمنزلة جزء من المبیع فیقابلہ جزء من الثمن حیث کان الوصف مشروطاً فإذا فات یسقط ما یقابلہ کخیار العیب ولیس فی التغریر شییٴ من ذلک بل ھو مجرد خیار لا یقابلہ شییٴ من الثمن مثل خیار الخیانة فی المرابحة .
«مرشد الحيران إلى معرفة أحوال الإنسان» (ص47):
«(مادة 287)
إذا بيع مال بوصف مرغوب فيه فوجد المبيع خالياً عن الوصف الذي رغب المشتري فيه من أجله فله الخيار بين أخذه بكل الثمن المسمى أورده بفسخ البيع.
فإن تصرف فيه تصرف الملاك فلا حق له في رده وإن حدث فيه ما يمنع الرد يقوم المبيع مع الوصف المرغوب وبدونه ويرجع على البائع بقدر التفاوت من الثمن وإن مات قبل خياره انتقل حق طلب الفسخ إلى ورثته»
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/محرم الحرام /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


