03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تقسیم ميراث،جرگہ کےذریعےخلع اور مہرکی معافی  کاحکم
90486متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب! میں وراثت کے ایک پیچیدہ مسئلے کے حل کے لیے آپ کو زحمت دے رہا ہوں، امید ہے کہ آپ جواب سے نوازیں گے۔میرے دادا (یاسین) نے میرے والد کی پیدائش کے کئی سال بعد دادی کو طلاق دے دی تھی۔ دادی نے کمال الدین سے شادی کر لی، جس کے بعد میرے والد اپنی والدہ اور سوتیلے باپ کے پاس رہنے لگے اور ان کی خدمت کی۔ جب والد بالغ ہوئے تو کمال الدین نے ان کی خدمت سے خوش ہو کر (یا والدہ کے ایما پر) ایک بنجر زمین انہیں دے دی، جسے ہم 'کاپ' والی زمین کہتے ہیں۔ اس رقبے میں سے قابلِ کاشت زمین تقریباً ایک کنال تھی۔بعد ازاں، والد کی شادی کے لیے میرے نانا سے بات کی گئی تو انہوں نے شرط رکھی کہ وہ حقِ مہر میں زمین لکھوائیں گے۔ چنانچہ شادی ہو گئی اور مہر میں وہی ایک کنال زمین میری والدہ کے نام کر دی گئی۔ شادی کے بعد والدین نے محنت کر کے باقی بنجر زمین کو بھی قابلِ کاشت بنایا، جس سے وہ رقبہ بڑھ کر چھ سات کنال ہو گیا۔ واضح رہے کہ ہمارے والد نے بعد میں ایک اور شادی بھی کی تھی جس سے دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ اس طرح ورثا میں ہم تین بہنیں (ایک سگی اور دو سوتیلی) اور ایک میں (بیٹا) شامل ہیں۔والد صاحب کے انتقال کے کچھ عرصہ بعد دونوں ماؤں نے دوسری شادیاں کر لیں اور زمین دادا کے قبضے میں چلی گئی۔ میں اس وقت چھ سات سال کا تھا۔ بعد میں دادا نے میری شادی ایک کزن سے کر دی اور اس کے حقِ مہر میں اسی سات کنال زمین میں سے ایک کنال (تعین کیے بغیر) لکھ دی۔ میں نے اس شادی کو کبھی قبول نہیں کیا تھا۔ وہ رخصت ہو کر ہمارے گھر تو آ گئی لیکن میرا اس سے کوئی تعلق نہ رہا کیونکہ میں مدرسے میں زیرِ تعلیم تھا۔ چند سال بعد میرے سسر نے دادا سے کہا کہ یا تو لڑکی کو آباد کریں یا فارغ کر دیں۔ دادا کا موقف تھا کہ لڑکی کا چال چلن درست نہیں، اس لیے اسے گھر میں نہیں رکھا جا سکتا۔آخر کار ایک جرگہ ہوا جس میں، میں خود بھی موجود تھا، لیکن میری طرف سے دادا اور اہلیہ کی طرف سے ان کے والد وکیل بنے۔ جرگے نے حقِ مہر کی زمین کی قیمت دس ہزار روپے طے کی اور یہ فیصلہ سنایا کہ چونکہ لڑکی خلع چاہتی ہے، اس لیے وہ مہر کی قیمت کے علاوہ مزید دس ہزار روپے خلع کے عوض دے گی۔ میرے سسر اس فیصلے پر راضی نہ تھے کیونکہ حقِ مہر کی واپسی اور اوپر سے دس ہزار روپے کا مطالبہ ان پر بوجھ تھا، مگر جرگے کی وجہ سے انہیں یہ قبول کرنا پڑا اور انہوں نے کچھ رقم ادا بھی کر دی۔کچھ عرصہ بعد دادا کا انتقال ہو گیا اور زمین چچا (کمال الدین کے بیٹے) کے قبضے میں چلی گئی۔ تقریباً دس سال بعد جب میں باشعور ہوا تو جرگے کے ذریعے وہ زمین واپس حاصل کی اور اس پر مکان تعمیر کیا۔ اس میں رقم میری لگی تھی لیکن جانی تعاون والدہ، بہنوں اور مادری بھائیوں نے بھی کیا۔ اب والد کی وفات کے تقریباً پچاس سال بعد میں یہ زمین تمام ورثا میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں۔

مذکورہ تفصیل کے بعد درج ذیل سوالات کاجواب چاہیے:

1۔ والدہ کے حقِ مہر کی وہ ایک کنال زمین جس کی نشاندہی اب بھی موجود ہے، اس کا تقسیم میں کیا حکم ہوگا؟ والد کی وفات کے بعد جب میں نے والدہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے مرنے کے بعد اپنا حقِ مہر معاف کر دیا تھا۔ کیا محض زبانی معافی سے زمین سے ان کا حق ساقط ہو جاتا ہے یا وہ بدستور وارث رہیں گی؟

2۔ اگر کوئی بہن یا والدہ تقسیم سے پہلے زبانی طور پر اپنا حصہ معاف کرنے یا کسی دوسرے وارث کے حق میں دستبردار ہونے کا کہے تو کیا شرعاً ایسا ہو سکتا ہے؟ یا یہ عمل تقسیم اور قبضے کے بعد ہی ممکن ہے؟

3  ۔ میری سابقہ بیوی کے مہر میں جو زمین دی گئی تھی اور پھر جرگے میں زبردستی قیمت طے کر کے خلع کے ذریعے معاملہ ختم کیا گیا(اگرچہ بعد میں جرگہ کی وجہ سےسسراس پرراضی ہوگئے) اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا سسر کو مجبور کرنا جائز تھا؟ اگر نہیں، تو کیا اب زمین دینی ہوگی یا وہی قیمت کافی ہے؟

4۔ تمام ورثا کے شرعی حصے کیا ہوں گے؟ ورثہ میں میری دو والدہ (جو حیات ہیں)، تین بہنیں، میں (اکلوتا بیٹا) اور میرے دادا (جو والد کی وفات کے وقت حیات تھے مگر اب انتقال کر چکے ہیں) شامل ہیں ۔

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ خلع کا معاملہ بہت قدیم ہے، مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ میں خلع پر راضی تھا، اورلڑکی کےوالد یعنی میراسسر بھی بطور وکیل خلع پر راضی تھے قیمت پر راضی نہیں تھے بعد میں جرگہ کی وجہ سے اس پربھی راضی ہوگئے، اس جرگے کے شرکاء میں سے بھی اب کوئی زندہ نہیں، البتہ ایک خطیب صاحب موجود ہیں جن کا کہنا ہے کہ بہت عرصہ گزرنے کی وجہ سے انہیں مکمل تفصیل یاد نہیں، تاہم یہ یاد ہے کہ اس وقت جرگہ مکمل انصاف  پرفیصلہ کرتےتھے اور تب تک فیصلہ نہیں کرتےتھے جب تک دونوں فریق راضی نہ ہوتے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1- صورتِ مسئولہ میں اگر والدہ نے واقعی کسی دباؤ کے بغیر، دلی رضامندی سے شوہر کی وفات کے بعد اپنا مہر معاف کر دیا تھا، تو شرعاً وہ مہر ساقط ہو چکا ہے۔ اب وہ مہر  والی زمین والد کے ترکہ کا حصہ شمار ہوگی اور تمام ورثہ اس میں شرعی حصوں کے مطابق شریک ہوں گے۔

2-واضح رہے کہ میراث ایک حق ہے جو دیگر حقوق کی طرح محض زبانی طور پر یا تقسیم سے پہلے معاف کرنے سے ختم نہیں ہوتا۔ ترکہ اگر عین (موجود مال یا جائیداد) کی صورت میں ہو، تو جب تک وہ تقسیم نہ ہو جائے اور ہر وارث اپنے حصے پر قبضہ نہ کر لے، تب تک معافی معتبر نہیں ہوتی۔ البتہ ترکے میں اگر دین (قرض) ہو، تو وہ قبضے سے پہلے بھی معاف کرنے سے معاف ہو جائے گا۔

3- صورتِ مسئولہ میں جب شوہر خلع پر راضی تھا اور لڑکی کے والد بھی (بطورِ وکیل) خلع پر رضامند تھے (جس کی علامت یہ ہے کہ وہ اس وقت کچھ عوض ادا بھی کر چکے تھے) اگرچہ ابتدا میں وہ خلع کے مقررہ عوض پر راضی نہیں تھے، مگر جرگہ کی ثالثی پر فریقین نے باہمی رضا مندی ظاہر کر دی، تو شرعاً یہ خلع واقع ہو چکا ہے۔ چونکہ جرگہ کے فیصلے کو فریقین نے قبول کر لیا تھا، اس لیے اب یہ فیصلہ نافذ العمل ہے۔ جرگہ نے جتنا عوض مقرر کیا ہے (یعنی ایک کنال زمین کی اس وقت کی قیمت 10,000 روپے اور اس کے علاوہ مزید 10,000 روپے، جو کل 20,000 روپے بنتے ہیں)اس کی ادائیگی لڑکی (یا اس کے اولیاء) پر لازم ہے۔واضح رہے اگربیوی  کی طرف سےنافرمانی نہ ہو توشوہر کےلیےعوض لیناجائزنہیں۔

4- مذکورہ صورت  میں مرحوم کے کل ترکہ سے دونوں بیواؤں کو 12.50 فیصد (ہر ایک کو 6.25 فیصد) والدیعنی آپ کےدادا کو (جو اس وقت زندہ تھے) 16.66 فیصد حصہ ملے گا، جو بعد میں ان کے ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا۔ ہر بیٹی کو 14.16 فیصد اور ہر بیٹے کو 28.33 فیصد حصہ ملے گا۔

حوالہ جات

{فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي:(3/ 113)

 (وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد كما في البحر.

 [مطلب في حط المهر والإبراء منه] ( قوله وصح حطها ) الحط : الإسقاط كما في المغرب ، وقيد بحطها؛ لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة ، ولو كبيرة توقف على إجازتها ، ولا بد من رضاها.

الفتاوى الهندية : (7 / 236)

للمرأة أن تهب مالها لزوجها من صداق دخل بها زوجها أو لم يدخل وليس لأحد من أوليائها أب ولا غيره الاعتراض عليها ، كذا في شرح الطحاوي .

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 108):

‌وإذا ‌حكم ‌رجلان ‌رجلا ‌فحكم ‌بينهما ورضيا بحكمه جاز" لأن لهما ولاية على أنفسهما فصح تحكيمهما وينفذ حكمه عليهما......"ولكل واحد من المحكمين أن يرجع ما لم يحكم عليهما" لأنه مقلد من جهتهما فلا يحكم إلا برضاهما جميعا "وإذا حكم لزمهما" لصدور حكمه عن ولاية عليهما "وإذا رفع حكمه إلى القاضي فوافق مذهبه أمضاه" لأنه لا فائدة في نقضه ثم في إبرامه على ذلك الوجه "وإن خالفه أبطله" لأن حكمه لا يلزمه لعدم التحكيم منه.

 حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (3/ 445)

 (وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا ولو بأكثر مما أعطاها على الأوجه فتح، وصحح الشمني كراهة الزيادة، وتعبير الملتقى لا بأس به يفيد أنها تنزيهية وبه يحصل التوفيق.

 (قوله: وكره تحريما أخذ الشيء) أي قليلا كان، أو كثيرا.والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا - {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20]- إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث، وتمامه في الفتح، لكن نقل في البحر عن الدر المنثور للسيوطي: أخرج ابن أبي جرير عن ابن زيد في الآية قال: ثم رخص بعد، فقال - {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]- قال فنسخت هذه تلك اهـ وهو يقتضي حل الأخذ مطلقا إذا رضيت اهـ أي سواء كان النشوز منه أو منها، أو منهما. لكن فيه أنه ذكر في البحر أولا عن الفتح أن الآية الأولى فيما إذا كان النشوز منه فقط، والثانية فيما إذا لم يكن منه فلا تعارض بينهما، وأنهما لو تعارضتا فحرمة الأخذ بلا حق ثابتة بالإجماع، وبقوله تعالى - {ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا} [البقرة: 231]- وإمساكها لا لرغبة بل إضرارا لأخذ مالها في مقابلة خلاصها منه مخالف للدليل القطعي فافهم ..... (قوله: ولو منه نشوز أيضا) لأن قوله تعالى - {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]- يدل على الإباحة إذا كان النشوز من الجانبين بعبارة النص، وإذا كان من جانبها فقط بدلالته بالأولى.

الفتاوی الہندیۃ:(3/397)

الحكم فيما بين الخصمين كالقاضي في حق كافة الناس وفي حق غيرهما بمنزلة المصلح. 

  رشيدخان

   دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

02/ذوالحجہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب