| 90541 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیاوالد کی رضامندی کے بغیر اولاد میں سے کوئی شراکت داری کا دعویٰ کرسکتا ہے،جبکہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں کبھی اس بات کا تذکرہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پلاٹ عابد بھائی کے نام کیا؟ نیز جس بھائی نے پلاٹ کے پیسے دیے تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ساری جمع پونجی بابا کو دے دی تھی ،یہ بات 91-1990 ءکی ہے، اور بھائی اپریل 2024 ءمیں بینک سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ کیا یہ جمع پونجی تصور کی جائے گی ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ دو افراد میں باہم کسی بھی معاملہ طے کرنےمیں ہر ایک فریق کا اس معاملہ پر رضامند ہونا ضروری ہے،تاہم شراکت داری کی مختلف اقسام میں سے املاک میں شراکت داری بعض اوقات غیر اختیاری طور پربھی وجودمیں آجاتی ہے،مگراس کےبھی وجود پذیر ہونے کا دعوٰی اس وقت تک ثابت نہیں ہو سکتاجب تک کہ مدعی کا مقابل فریق اس کا اقرار نہ کرے، یا مدعی اس پر گواہ پیش نہ کردے،یا پھر گواہ نہ ہونے کی صورت میں فریقِ مخالف سےقسم لینے پروہ قسم سے انکار نہ کردے،لہٰذا صورت ِ مسئولہ میں آپ کے بھائی کا والد کےساتھ پلاٹ میں شراکت داری کا دعوٰی بھی ان تین صورتوں میں سے کسی ایک کے بغیرقابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔
باقی آپ کے بھائی کا یہ کہنا کہ میں نے ساری جمع پونجی بابا کو دے دی تھی ،تو یہ بات 91-1990 ءتک کی جمع پونجی ہونے اعتبار سے درست ہو سکتی ہےکہ اس وقت تک ان کی یہی جمع پونجی تھی ،جو انہوں نے اپنے والد صاحب کے کہنے پر انہیں دے دی ۔
حوالہ جات
تحفة الفقهاء (3/ 5):
الشركة الأملاك على ضربين :أحدهما ما كان بفعلهما ،مثل أن يشتريا أو يوهب لهما أو يوصى لهما فيقبلا،والآخر بغير فعلهما ،وهو أن يرثا،والحكم في الفصلين واحد، وهو أن الملك مشترك بينهما، و كل واحد منهما في نصيب شريكه كالأجنبي لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذنه.
فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 167):
قال :(وإذا صحت الدعوى سأل المدعى عليه عنها) لينكشف له وجه الحكم ،(فإن اعترف قضي عليه بها)؛لأن الإقرار موجب بنفسه فيأمره بالخروج عنه، (وإن أنكر سأل المدعي البينة) لقوله - عليه الصلاة والسلام - :" ألك بينة؟ فقال لا، فقال: لك يمينه " ،سأل ورتب اليمين على فقد البينة ، فلا بد من السؤال ليمكنه الاستحلاف. قال :(فإن أحضرها قضي بها) لانتفاء التهمة عنها، (وإن عجز عن ذلك وطلب يمين خصمه) استحلفه (عليها)؛ لما روينا، ولا بد من طلبه لأن اليمين حقه؛ ألا يرى أنه كيف أضيف إليه بحرف اللام فلا بد من طلبه...(قال) أي القدوري في مختصره: (وإذا صحت الدعوى) ،أي: وإذا صحت الدعوى بشروطها (سأل) أي: القاضي (المدعى عليه عنها)، أي :عن الدعوى (لينكشف له وجه الحكم)، أي: لينكشف للقاضي وجه الحكم،أي:طريقه إن ثبت حق المدعي، فإن الحكم منه يكون بأحد أمور ثلاثة: البينة والإقرار والنكول.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ذوالحجہ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


