| 90542 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
جو بھائی صاحبان اوپر والے حصے کے پیسوں کا آج کی قیمت کے حساب سے مطالبہ کر رہے ہیں ،(حالانکہ وہ اس میں اتنا لمبا عرصہ رہے بھی ہیں) تو کیا یہ درست ہے ؟
وضاحت: سائل نے اپنے بھائی عابد ....... کے استفتاء میں مذکور ان کی یہ دو باتیں درست ہونے کی تصدیق کی کہ بڑے بھائی ممتاز حسین نے 1997 ء میں اپنا الگ گھر تعمیر کرنے کے لیے قرض لیا، والد صاحب نے ان سے یہی کہا کہ الگ گھر نہ بناؤ، بلکہ دوسری منزل پر اپنے لیے ایک پورشن بنالو ۔اور 2003 ء میں ہمارے (عابد........ کےمتعلقہ ) بینک نے دوسرا گھر بنانے کے لیے قرضہ جاری کیا تو میں نے پھر اپنے لیے الگ گھر بنانے کی خواہش کی، والد صاحب نے پھر کہا کہ الگ گھر نہ بناؤ،بلکہ تم بھی اپنے لئے اوپر چھت پر دوسرا پورشن بنوالو ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سائل کی مذکورہ بالا وضاحت اور شروع میں صورتِ مسئلہ کی تفصیل کےتحت دیے گئے بیان کے مطابق ان کے دو بھائیوں ( ممتاز.............اور عابد.................. ) نے والد صاحب کی اجازت سے اپنے خرچے پر اوپر دو الگ حصے(Portion ) اپنے لیے بنائےتھے ، لہٰذا ان دو حصوں کی عمارت کو والد مرحوم کے ترکہ میں شمار نہیں کیا جائے گا،بلکہ اس کے مالک یہی دو بھائی ہیں،اور وہ اس عمارت کو کسی بھی قیمت پر فروخت کر سکتے ہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 759):
(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها، كالرهن، والعبد الجاني) والمأذون المديون، والمبيع المحبوس بالثمن ،والدار المستأجرة ،وإنما قدمت على التكفين لتعلقها بالمال قبل صيرورته تركة ،(بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير)...(قوله الخالية إلخ) صفة كاشفة؛ لأن تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال ،كما في شروح السراجية.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
2/ذوالحجہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


