| 90627 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
علمائے کرام سے اس مسئلہ کےبارےمیں شرعی رہنمائی درکار ہے۔پچیس ایکڑ سات گھنٹے(ایک ایکڑمیں 40گھنٹےہوتےہیں ) زمین ہے ورثہ میں پانچ بیٹے تین بیٹیاں تھیں ،پانچ بیٹوں میں سے والد کے انتقال کے بعد تین کا بھی انتقال ہو چکا ہے ۔
تنقیح:سائل نے فون پربتایاکہ صرف اپنے پانچ بھائیوں اور تین بہنوں کےحصوں کو تقسیم کرناچاہتاہے۔فوت شدہ بھائیوں کےورثہ پھرخود آپس میں تقسیم کرلیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحوم نے انتقال کے وقت منقولہ و غیر منقولہ جو کچھ چھوڑا ہےاور اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان کا ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلےان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطور احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گاکہ اگر ان کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ ان تمام اخراجات کے بعد جو کچھ بچ جائےاس کو ورثہ میں شرعی حصص کےمطابق تقسیم کیاجائے۔لہذا صورت مسئولہ میں پوری زمین کو 13برابر حصوں میں تقسیم کرکےہربھائی کو دو حصے اورہربہن کوایک حصہ دیاجائےگا۔
ملاحظہ:جو تین بیٹے والد کےبعد فو ت ہوگئے ان کوملنےوالا حصہ ان کے ورثہ کو ملےگا۔
آسانی کے لیے نقشہ میں ہر وارث کا حصہ درج ہیں۔
|
نمبر شمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
|
1 |
بیٹا |
2 |
|
2 |
بیٹا |
2 |
|
3 |
بیٹا |
2 |
|
4 |
بیٹا |
2 |
|
5 |
بیٹا |
2 |
|
6 |
بیٹی |
1 |
|
7 |
بیٹی |
1 |
|
8 |
بیٹی |
1 |
|
|
کل مجموعہ |
13 |
حوالہ جات
قال اللہ تعالي:يُوصِيكُمُ ٱللَّهُ فِيٓ أَولَٰدِكُمۖ لِلذَّكَرِ مِثلُ حَظِّ ٱلأُنثَيَينِۚ فَإِن كُنَّ نِسَآءٗ فَوقَ ٱثنَتَينِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَۖ وَإِن كَانَت وَٰحِدَةٗ فَلَهَا ٱلنِّصفُۚ﴾ [النساء: 11]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (6/775)
ثم شرع في العصبة بغيره فقال (ويصير عصبة بغيره البنات بالابن وبنات الابن بابن الابن) وإن سفلوا (والأخوات) لأبوين أو لأب (بأخيهن) فهن أربع ذوات النصف والثلثين يصرن عصبة بإخوتهن.
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/ذوالحجہ/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


