03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سات سالہ بچے کی پرورش
90561طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

والدین کے مابین طلاق کے وقت لڑکے کی عمر دو سال تھی۔ اب اس کی عمر سات سال ہے۔ اس دوران لڑکا والدہ کے پاس رہا اور والد طے شدہ نفقہ باقاعدگی سے ادا کرتا رہا ہے اور اب بھی کر رہا ہے۔ کچھ عرصے سے لڑکے نے والد سے ہفتہ وار ملنا شروع کیا ہے۔ اب لڑکا والدہ کے پاس ہی رہے گا یا وہ والد کے پاس جائے گا؟                                                   

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

    واضح رہے کہ لڑکا جب سات سال کا ہو جائے تو شرعاً اس کی پرورش کا حقدار والد ہی ہوتا ہے۔ چونکہ  صورت   مسئولہ میں بیٹا سات سال کا ہوچکاہے، اس لیے بلوغت تک اس کی پرورش،تربیت اور اسے اپنے پاس رکھنے کا حق والد کو حاصل ہے،البتہ اگروالدخوشی سےاسےاس کی  والدہ کےپاس چھوڑتاہےتو اس میں بھی حرج نہیں ۔بلوغت کے بعد اگر وہ سمجھدار ہو تو اسے اختیار ہوگا کہ والدین میں سے جس کے پاس رہنا چاہےرہ سکتاہے۔باقی بچہ کسی کےپاس بھی رہےعرف  اوراپنی حیثیت کےمطابق اسےپاکٹ منی (جیب خرچہ)باپ دےدیاکرےیاماں کو دیےگئےخرچےمیں پاکٹ منی کاتعین کردے۔

حوالہ جات

   حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي: (3/ 566)

 (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. ولو اختلفا في سنه، فإن أكل وشرب ولبس واستنجى وحده دفع إليه ولو جبرا وإلا لا (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.

            حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي:(3/ 567)

 (قوله: ولا خيار للولد عندنا) أي إذا بلغ السن الذي ينزع من الأم يأخذه الأب، ولا خيار للصغيروأفاده بقوله (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها .....(والغلام إذا عقل واستغنى برأيه ليس للأب ضمه إلى نفسه) إلا إذا لم يكن مأمونا على نفسه فله ضمه لدفع فتنة، أو عار. وتأديبه إذا وقع منه شيء، ولا نفقة عليه إلا أن يتبرع بحر.   

رشيدخان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

04/ذوالحجہ/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب