03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسٹم ڈیوٹی  زیادہ عائد کیے جانے  پر اسمگلنگ ،جھوٹ اور رشوت سے کام چلاناجائز نہیں  
90825جائز و ناجائزامور کا بیانغیبت،جھوٹ اور خیانت کابیان

سوال

پاکستان میں آج کل حکومت نے کاروباری افراد کو ٹیکس اورکسٹم  ڈیوٹی کی مد میں  لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اس صورتِ حال میں اگر کوئی بارڈر سے جائز چیزیں اسمگل کرکے حکومت کوقانونی طور پر ٹیکس نہ دے، لیکن کسٹم افسران کو اپنے تعلقات کی بنا پر نقد رقم دے کر اپنا  کام چلائے اور جھوٹ بولے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ اورکیا اس  کی کمائی حلال تصور ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسٹم ڈیوٹی وہ ٹیکس   ہے جو درآمدات و برآمدات پر حکومت کی جانب سے سرحد پار کرنے والے سامان  پر عائد کیا جاتا ہے،اس کا بنیادی مقصد غیر ملکی اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کر کے ملکی صنعتوں اور مقامی کاروبار کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔کسٹم ڈیوٹی ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور زمینی سرحدوں پر مال کی کاغذی کارروائی اور واگزاری  (Clearing)کے وقت وصول کی جاتی ہے۔اس کا شرعی حکم بھی عام ٹیکس کی طرح ہے کہ اسے واقعی اور جائز مصارف کی خاطر ٹیکس کی سابقہ جواب میں مذکور شرائط کے ساتھ بوقتِ ضرورت اور  بقدرِ ضرورت  عائد کرنے کی گنجائش  ہے۔

جبکہ  اسمگلنگ ملکی و غیر ملکی   مال  کو غیرقانونی طریقےسے چوری چھپے یا کسٹم افسران سے ساز باز کر کےٹیکس ادا کیے  بغیر درآمد و برآمد کرنا ہے،جس میں اپنی جان، مال اور عزت کے ساتھ ملک کو بھی معاشی نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ اور خطرہ  ہے، اس لیے اسمگلنگ   ناجائز اور غیر قانونی عمل ہے ،اسمگل شدہ  مال کی خرید و فروخت اور اس میں تعاون کرنا  جائز  نہیں ، اور  اسمگلر  نے جو ٹیکس ادا نہ کیا ہو وہ اس کے ذمہ حکومت کا قرض ہے ، جس کا ادا کرنا اس کی ذمہ داری ہے،البتہ اسمگل شدہ اشیاء خود حرام نہ  ہوں تو ان کی خرید و فرخت سے حاصل ہونے  والے منافع حلال ہوں گے۔   

لہٰذا  صورتِ مسئولہ کےمطابق اگر حکومت کی طرف سے  کاروباری افراد کو ٹیکس اورکسٹم  ڈیوٹی کی مد میں  لوٹنے کا سلسلہ شروع کیا گیا  ہو تو اس سے  عوام کے لیے  اسمگلنگ،جھوٹ یا کسٹم افسران کو رشوت دے کر  کام چلانے اور اپنے ملک میں مزید  بگاڑ کا حصہ  بننے کا  جوازثابت  نہیں ہوجاتا ،بلکہ ایسی صورت میں صبرو استقامت کے ساتھ اس کی روک تھام کے لیے قانونی دائرے کا اندر رہتے ہوئے اعلیٰ حکام کو ان کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرنا ضروری ہے،نیز حسبِ طاقت نظام کی اصلاح کے لیے  کوشش کرنے  کے ساتھ ساتھ جتنا ناحق اور  ظالمانہ ٹیکس یاکسٹم ڈیوٹی لیا جا رہا ہو،اس سے  ماہرینِ ٹیکس کی مشاورت سے کسی مناسب حیلہ اورتدبیرکے ذریعہ نجات حاصل کرنا جائز ہے، لیکن پھر بھی  اسمگلنگ اور صریح جھوٹ سے کام چلانا جائز نہیں،جبکہ جائز حد سے زائدظالمانہ کسٹم ڈیوٹی سے غیر معمولی مالی نقصان یا تکلیف و مشقت کا سامنا کرنا پڑتا ہو،اور کسی دوسری تدبیر یا  تعریض و توریہ سےبھی  کام نہ چلے ، تو پھرایسی صورت میں  صریح  جھوٹ کےجواز  کےقائل بعض علماء کی تحقیق کے مطابق عمل کر لینے میں امید ہے کہ گناہ نہ ہوگا اور اس طرزِ  عمل کو رخصت قرار دیا جائے گا،نیز   جائز حد سے زائدظالمانہ کسٹم ڈیوٹی سے بچنےکے لیے اگر رشوت دینا  ناگزیر ہوتو اس کی  گنجائش  ہے،مگر یہ رشوت کا مال    پھر بھی لینے والے کے لیے حرام ہی  ہوگا۔  

حوالہ جات

التفسير المظهري (10/ 337):  

والعصر(1)إن الإنسان لفي خسر(2)إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات وتواصوا بالحق و تواصوا بالصبر(3)...إلا الذين آمنوا وعملوا الصالحات ،فانهم اشتروا الاخرة القوية الباقية بالدنيا الفانية فربحت تجارتهم ،وتواصوا بينهم بالحق بالمعروف،قال الحسن وقتادة :بالقرآن، وقال مقاتل: بالايمان والتوحيد، وتواصوا بينهم بالصبر، وكف النفس عن المنكرات فالشهوات الغير المرضية لله تعالى، او بالصبر مطلقا على الطاعات والمصائب وترك المنكرات ،فالمراد بالأعمال الصالحة اما مطلقا،فهو عطف الخاص على العام للمبالغة،واما مقصورا على موجبات الكمال،فالمراد بالمواصات موجبات التكميل ،وما عدا ذلك موجبات خسر.

صحيح البخاري (3/ 172):

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه رضي الله عنه، قال: قال النبي ﷺ: «ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟» ثلاثا، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: «الإشراك بالله، وعقوق الوالدين - وجلس وكان متكئا فقال :- ألا وقول الزور»، قال: فما زال يكررها حتى قلنا: ليته سكت.

عمدة القاري شرح صحيح البخاري (12/ 32):

وفيه: الحيل في التخلص من الظلمة، بل إذا علم أنه لا يتخلص إلا بالكذب جاز له الكذب الصراح، وقد يجب في بعض الصور بالاتفاق ؛لكونه ينجي نبيا أو وليا ممن يريد قتله أو لنجاة المسلمين من عدوهم، وقال الفقهاء: لو طلب ظالم وديعة لإنسان ليأخذها غصبا، وجب عليه الإنكار والكذب في أنه لا يعلم موضعها.

فتح القدير للكمال ابن الهمام (8/ 408):

والمدعى عليه يدفعه لدفع الخصومة عن نفسه، وهذا مشروع أيضا؛ إذ المال وقاية الأنفس، ودفع الرشوة لدفع الظلم أمر جائز... قال الشراح: لا يقال: لا نسلم جواز دفع الرشوة لدفع الظلم؛ لأن قول النبي - ﷺ -: «لعن الله الراشي والمرتشي» عام. لأنا نقول: هذا الحديث محمول على ما إذا كان على صاحب الحق ضرر محض في أمر غير مشروع، كما إذا دفع الرشوة حتى أخرج الوالي أحد الورثة عن الإرث، وأما إذا دفع الرشوة لدفع الضرر عن نفسه فجائز للدافع، انتهى. واعترض بعض الفضلاء على الجواب؛ حيث قال فيه: إن المعتبر هو عموم اللفظ، وما الدليل على أنه محمول على ما ذكر غير مجرى على عمومه، انتهى.أقول: الدليل عليه ما ورد من النصوص في أن الضرورات تبيح المحظورات، منها قوله تعالى: {وما جعل عليكم في الدين من حرج} [الحج: 78] ولا شك أن في دفع الضرر عن نفسه دفع الحرج.

الفتاوى الهندية (6/ 150):

 قالوا: بذل المال لدفع الظلم عن نفسه وماله لا يكون رشوة في حقه، وبذل المال لاستخراج حق له على آخر يكون رشوة.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

   دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

    7/محرم /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب