| 90940 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے اپنی دو بیٹیوں کی شادی کر دی اوران کو جہیز کا سامان جتنا زیادہ سے زیادہ اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا تھا دے دیا۔ ان کے نام حق مہر میں مکان بھی لکھوادیا ۔جبکہ میرے چھ بیٹے ہیں جن کا کوئی ذریعہ معاش نہیں تھا، ایک کنال تین مرحلوں میں ہمارا گھر تھا ۔
بچے اپنے لیے کچھ نہ کچھ روزگار بھی کرتے رہے سارے علماء ہیں ، کوئی مستقل روزگار نہیں ہے، چھوٹے چھوٹے مکان بھی بنا لیے، سوائے ایک کے، تو میری چھ کنال زمین تھی ،میں نے ساری اپنے چھ بیٹوں کے نام کروا دی ؛کیونکہ مجھے ان کی اس وقت کی صورت حال کا پتہ تھا کہ یہ اپنے لیے ایک انچ زمین بھی نہیں خرید سکیں گے۔
اور میں اس پر 100 فیصد مطمئن ہوں کہ میں نے بیٹیوں کو محروم کرنے کے لیے اپنے بیٹوں کے نام زمین نہیں کروائی بلکہ اس لیے کروائی کہ یہ بچے اپنا مستقبل بنا سکیں گے اور مستقبل میں ان کے بچوں کے کام آئے گی، جبکہ میری بیٹیوں کے خاوند مالی لحاظ سے بہتر ہیں ۔جس وقت میں نے زمین اپنے بیٹوں کے نام کروادی ، اس وقت ان کی مالی حالت اچھی تھی ۔اور مجھے 100 فیصد تسلی تھی اور بیٹیاں بھی اس بارے میں ناراض نہیں تھیں نہ اب ہیں ۔لیکن میں نے بیٹوں سے کہہ دیا کہ آپ دس دس ہزار اپنی بہنوں کو دے دینا جس سے میرا دل مطمئن ہو جائے گا ۔
دریافت طلب امور:
1. کیا ایسا کرنےپر میں شرعی طور پر مجرم تو نہیں ہوں؟
2. کیا میں نے بیٹیوں کو جہیز کا سامان جتنا زیادہ سے زیادہ اپنی استطاعت کے مطابق دے سکتا تھا دے دیا ان کے نام حق مہر میں مکان کرا دیا تو کیا یہ زمین میں حصے کے بدلے کافی ہے؟
3. میں نے جو ہبہ تام کر دیا تھا سارے بیٹوں کو زمین حوالے بھی کر دی تصرف کا اختیار بھی دے دیا تو کیا اب اسے واپس لینا لازم ہے؟
4. میں نے بیٹوں سے کہہ دیا کہ آپ دس دس ہزار روپے اپنی بہنوں کو دے دینا میرا دل مطمئن ہو جائے گا تو کیا یہ کہنا شرعا درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعاً آپ عاقل بالغ ہیں، آپ اپنی صحت والی زندگی میں، یعنی مرض الموت میں مبتلا ہونے سے پہلےپہلے اپنے تمام منقولہ وغیر منقولہ مال و جائیداد کے تنہا مالک ہیں،اور اس میں ہر جائز تصرف کرسکتے ہیں، نيز آپ کی زندگی میں کسی بھی وارث کو آپ کی جائیداد وغیرہ میں سے حصہ مانگنے یا زندگی میں جائیداد كی تقسیم کے مطالبہ کا حق نہیں ہے۔ تاہم اگر آپ اپنی خوشی سے اپنی جائیداد زندگی میں تقسیم کرنا چاہیں تو تقسیم کرسکتے ہیں، لیکن یہ میراث نہیں کہلائے گی بلکہ آپ کی طرف سے ہبہ (گفٹ) شمار ہوگا، جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ:
سب سے پہلے آپ اپنی بقیہ زندگی کےاخراجات کے لیے جو کچھ رکھنا چاہیں رکھ لیں تاکہ بعد میں کسی کا محتاج نہ ہونا پڑے، نیز اگر آپ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو وہ بھی ادا کریں، اس کے بعد کم از کم آٹھواں حصہ اپنی بیوی کو دے دیں اور بقیہ مال میں سے اپنے سب بیٹوں اور بیٹیوں کو برابر برابر حصہ دے دیں ۔
اور اگر آپ میراث کے اصول کوسامنے رکھتے ہوئےمال کی تقسیم کرنا چا ہیں اورکل مال کا آٹھواں حصہ بیوی کو دے کر باقی مال میں سے ہر بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دگنا دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے، لیکن بیٹیوں کا حصہ اس سے کم کرنا بلا عذر درست نہیں، اسی طرح کسی کو محروم کرنے یا نقصان پہنچانے کی غرض سے اس کے حصہ میں کمی کرنا یااس کو جائیداد سے محروم کرنا بھی جائز نہیں ، البتہ اگر آپ بچیوں کو جہیز کی صورت میں کچھ دے چکے ہیں یا کسی بیٹے کو پہلے ہی کچھ دے چکے ہیں تو اب اُس مال کو موجودہ تقسیم کے حساب میں شامل کرسکتے ہیں تاکہ سب کے ساتھ انصاف ہوسکے، نیز اگر کسی وارث کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو اور اولاد میں سے کسی کے علم و تقوی ٰ ،خدمت اور احتیاج کی وجہ سے یا اس کی مالی حالت بہتر نہ ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ دے دیں تو یہ بھی جائز ہے۔
واضح رہے کہ مذکورہ تفصیل کے مطابق اولاد کے درمیان آپ اپنا مکان یا نقد رقم تقسیم کرسکتے ہیں، تاہم ہر ایک کو اس کے حصے پر قبضہ دینا ضروری ہے، اس کے بغیر یہ ہبہ درست نہیں ہوگا۔
:1زندگی میں اولاد کواپنی جائیداد ہبہ کرتے وقت تمام اولاد میں برابری کرنا زیادہ بہتر ہے،اولاد میں سے کسی کو محروم کرنا یا کسی کو بلاعذر کم حصہ دینا جائز نہیں ، لہذا اگر آپ اپنی اولاد کو زمین ہبہ کررہے ہیں تو آپ مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں کے مقابلے میں دگنا حصہ بھی دے سکتے ہیں ۔
:2 اگرآپ بیٹیوں کو جہیز کی صورت میں بھی کچھ مال دے چکے ہیں یا کسی بیٹے کو پہلے ہی کچھ دے چکے ہیں تو اب اُس مال کو موجودہ تقسیم کے حساب میں شامل کرسکتے ہیں ۔
:3جب آپ نے بیٹوں کو اپنی زمین ہبہ کر کے قبضہ بھی دے دیا ، اور ہر قسم کی تصرفات کا اختیا ر بھی دے دیا تو اب ہبہ مکمل ہوچکا ہے جس سے رجوع نہیں کیا جاسکتا ۔
:4 موجودہ تقسیم کے حساب میں آپ وہ مالیت جو اپنی بیٹیوں کو جہیز کی صورت میں دے چکے ہیں اس کو بھی شامل کرسکتے ہیں اور اسی طرح بیٹوں کو اُن کے لیے مذکورہ مالیت دینے کا کہنے میں بھی شرعا کوئی قباحت نہیں ہے۔
حوالہ جات
لما فی "سنن ابن ماجه":
مَنْ فَرَّ مِنْ مِيرَاثِ وَارِثِهِ، قَطَعَ اللَّهُ مِيرَاثَهُ مِنَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَة
و فی "حاشية ابن عابدين":
التركة فی الاصطلاح ما تركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال كما فی شروح السراجية.
وفی "درر الحكام فی شرح مجلة الأحكام":
كل يتصرف فی ملكه المستقل كيفما شاء أی أنه يتصرف كما يريد باختياره
أی لا يجوز منعه من التصرف من قبل أی أحد،هذا اذا لم يكن ذلك ضرر فاحش للغير
وفی "الفتاوى الهندية":
رجل وهب في صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع، كذا في فتاوى قاضي خان. وإن كان في ولده فاسق لا ينبغي أن يعطيه أكثر من قوته كي لا يصير معينا له في المعصية، كذا في خزانة المفتي
ولو كان ولده فاسقا وأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه، كذا في الخلاصة۔
وفی "بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع":
وينبغي للرجل أن يعدل بين أولاده في النحلى لقوله سبحانه وتعالى { إن الله يأمر بالعدل والإحسان} وأما كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين۔
وفی الفتاوى الهندية:
ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض۔
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص562):
لا بأس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة لانها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الاضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني، وعليه الفتوى.
صدام حسین بن ہدایت شاہ
دارالافتا ءجامعۃالرشید ،کراچی
۶ /محرم الحرام /۱۴۴۸ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | صدام حسین بن ہدایت شاہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


