03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر مستند شجرہ نسب کی بنیاد پر سادات کی طرف نسبت کرنے کا حکم
90995نکاح کا بیاننسب کے ثبوت کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل کے بارے میں:

کسی گاؤں میں لگ بھگ ڈھائی سو سال سے ایک قوم آباد ہے، جن کے جدِ امجد کا نام "میاں رسول شاہ" ہے۔ یہ قوم شروع ہی سے "ملا" کے نام سے مشہور ہے، جن کے گزرے ہوئے بزرگوں میں بعض علماء اور گاؤں کے امامِ مسجد بھی رہے ہیں۔ ان کے علاقے کے علاوہ بعض دیگر علاقوں میں بھی اس نام (ملا) سے بعض قومیں جانی جاتی ہیں، جن میں بعض علماء اور امامانِ مسجد بھی ہیں مگروہ اپنے آپ کو سید نہیں کہتے۔

مذکورہ قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ ہم سید ہیں، ان میں بعض کے ناموں کے ساتھ شاہ یا سید کے سابقے یا لاحقے بھی ہیں، مگر نہ تو یہ قوم اپنے علاقے میں سید نام سے مشہور ہے، اور نہ ہی اس قوم کے لوگ آپس میں ایک دوسرے کو سید کہتے ہیں، اور نہ ہی ان کے گزرے ہوئے بزرگوں کے پاس کوئی شجرہ نسب تھا۔ بلکہ اگر ان سے قوم کے بارے میں کوئی پوچھے تو کہتے ہیں کہ: "ہم فلاں گاؤں کے ملا ہیں، البتہ ہم نے اپنے بزرگوں سے سنا ہے کہ ہم سید ہیں۔"

اس قوم کے بعض لوگ کہتے ہیں: "ہمارے بعض بزرگوں نے شجرہ نسب بنوایا تھا مگر ان سے گم ہو گیا تھا"، مگر اس بات پر ان کے پاس کوئی قوی دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ ان بزرگوں میں سے ایک سے — جو کہ کچھ عرصہ قبل فوت ہوا ہے — اس قوم کے ایک معتمد عالم نے پوچھا تھا، تو اس بزرگ نے جواب دیا تھا کہ: "اس بات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔" پوچھنے والا آج بھی زندہ ہے اور یہی بات کہتا ہے۔

اس قوم کے لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا جدِ امجد سیالکوٹ سے آیا تھا اور اس کے ساتھ اس کا دوسرا بھائی بھی تھا، جس نے اس علاقے سے کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک گاؤں میں رہائش اختیار کی تھی؛ اس کی اولاد آج بھی اس گاؤں میں "ملا" ہی کے نام سے مشہور ہے۔ مذکورہ قوم چونکہ اپنے علاقے میں "ملا" کے نام سے مشہور ہے، اس لیے اگر اہلِ علاقہ یا آس پاس کے لوگوں سے پوچھا جائے تو یہی کہتے ہیں کہ یہ ملا ہیں؛ اگر کوئی سید کہتا بھی ہے تو اس کے پاس بھی کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے، بلکہ اس قوم یا ان کے بعض بزرگوں ہی سے سنی سنائی بات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ یہ ایسا کہتے ہیں کہ ہم سید ہیں، مگر یہ بات شہرتِ عامہ نہیں رکھتی۔

اب کچھ عرصہ قبل اس قوم کے تین چار بزرگوں نے بہاولپور جا کر وہاں اوچ شریف میں مشہور بخاری سادات کے ایسے لوگوں سے شجرہ نسب بنوایا ہے جن کے مزاروں کی دیواروں پر یا تو "علی مشکل کشا" یا: لِي خَمْسَةٌ أُطْفِي بِهِمْ حَرَّ الْجَحِيمِ الْحَاطِمَة ... الخ لکھا ہوا ہے۔ نہ ان شجرہ بنوانے والوں کے پاس اپنے جدِ امجد کی کوئی تاریخ محفوظ ہے کہ اس نے کس عمر میں، کس سن میں اور کیوں اتنی دور ہجرت کی تھی، اور نہ ہی شجرہ بنا کر دینے والوں کے پاس کوئی تاریخ موجود ہے، بلکہ ان ہی مذکورہ بالا بزرگوں سے کچھ تفصیلات سن کر، اسے لکھ کر، دو تین لاکھ روپے لے کر شجرہ بنایا گیا ہے۔

اس قوم کے بعض علماء کہتے ہیں کہ: "اگر مورخین یا تاریخ سے باخبر علماء یا سنجیدہ عوام ہم سے اس شجرہ نسب کے بارے میں پوچھیں، تو ہم ان کو دلائل کی دنیا میں قطعاً مطمئن نہیں کر سکتے۔ کل قیامت میں اللہ کے سامنے جواب بھی دینا ہے، ہمارے پاس اس شجرہ نسب کی توثیق اور تصدیق پر کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے، اس لیے ہم اس شجرہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔"

اس قوم کے جدِ امجد کا نام علاقے میں "میاں رسول شاہ" ہے، مگر شجرہ میں "غلام رسول عرف میاں رسول" لکھا ہے۔ اگر ان تین چار بزرگوں سے پوچھا جائے تو کہتے ہیں کہ اس کا نام غلام رسول تھا، مگر اس بات پر ان کے پاس کوئی تاریخی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ قوم کے بزرگ بلکہ قوم کے سارے لوگ نسلاً بعد نسلٍ کہتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کا جدِ امجد سیالکوٹ سے آیا تھا، جبکہ شجرہ سیالکوٹ سے کئی سو کلومیٹر دور اوچ شریف سے بنوایا گیا ہے۔ اگر ان سے پوچھا جائے تو ان کے پاس "ہو سکتا ہے" کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے۔

سائلانِ قوم کا سوال:

  1. کیا ایسا شجرہ شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟

  2. اس قوم کے بعض علماء کا اس شجرہ سے انکار بجا ہے یا نہیں؟

  3. نیز شرعاً شجرہ نسب کے ثبوت کے لیے کیا شرائط ہیں؟

شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں مدلل جواب درکار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر کسی کے پاس نسل در نسل لکھا ہوا مستند شجرہ موجود ہو، یا علاقے میں تاریخی شہرت موجود ہو کہ یہ قوم سید ہے، تو دونوں صورتوں میں سید کہلانا درست ہے۔ شک یا تردد کی صورت میں ایسا انتساب شرعاً ممنوع ہے۔ اگر سوال میں درج معلومات درست اور مکمل ہیں، تو ان کی روشنی میں سید کہلانا درست نہ ہو گا۔ محض کسی سے شجرہ بنوا لینا نسب کے ثبوت کے لیے کافی نہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري - 6766

حدثنا مسدد ، حدثنا خالد هو ابن عبد الله ، حدثنا خالد ، عن أبي عثمان ، عن سعد رضي الله عنه ، قال : سمعت النبي صلى الله عليه وسلم ، يقول : " من ادعى إلى غير أبيه ، وهو يعلم أنه غير أبيه ، فالجنة عليه حرام " ، فذكرته لأبي بكرة فقال : وأنا سمعته أذناي ووعاه قلبي من رسول الله صلى الله عليه وسلم .

فتح القدير للكمال ابن الهمام (7/ 388):

قال: ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه إلا النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأشياء إذا أخبره بها من يثق بہ

قوله : (ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه أي لم يقطع به من جهة المعاينة بالعين أو السماع إلا في النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأمور إذا أخبره بها من يثق به من رجلين عدلين أو رجل وامرأتين، ويشترط كون الإخبار بلفظ الشهادة… وفي الفصول عن شهادات المحيط في النسب أن أنه فلان بن جماعة لا يتصور تواطؤهم على الكذب عند أبي حنيفة. وعندهما إذا أخبره عدلان أنه ابن فلان تحل الشهادة. وأبو بكر الإسكاف كان يفتي بقولهما وهو اختيار النسفي. 

ظہوراحمد

دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی

10 محرم الحرام 1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب