03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جاؤ، تم میری طرف سے فارغ ہو “ کے الفاظ سے وقوع طلاق کا حکم
91192طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

اسلام و علیکم مفتی صاحب۔ میاں بیوی کی کسی معمولی گھریلو مسلئے (بیوی کے ٹیوشن پڑھانے)پر بحث چل رہی تھی جس نہیں کہیں بھی طلاق کا کوئی موضوع نہیں تھا۔شوہر اپنے گھر سے جانے،بیوی کو گاؤں بھیجنے کی بات کر رہے تھے۔اسی بحث سے جان چھڑانے کے لیے بیوی نے بول دیا آپکو جو فیصلہ کرنا ہے کریں۔(آپکو جانا ہے جائیں،مجھے بھیجنا ہے بھیجیں۔)ذہن میں کہیں بھی اس وقت طلاق کا کوئی خیال نہیں تھا۔ مقصد بحث سے جان چھڑانا تھا۔ اسی گرما گرمی میں شوہر نے بیوی کو یہ الفاظ کہے جاؤ تم میری طرف سے فارغ ہو۔یہ الفاظ شوہر نے بیوی کے بغیر اجازت ٹیوشن پڑھانے پر غصے اور ناراضگی میں کہے دل میں کہیں بھی طلاق کا کوئی ارادہ یا نیت نہیں تھی۔بیوی اسی وقت گھر چھوڑ کر آ گئ ۔شوہر سے کوی رابطہ نہیں رہا اور عدت گزر گئ۔ سوال یہ ہے مفتی صاحب کہ کنایہ الفاظ سے طلاق ہونے کی جو شرائط ہوتیں ہیں ان میں سے ایک شرط بھی اس وقت نہیں تھی۔نہ مذاکرہ طلاق تھا،نہ مطالبہ طلاق اور نہ شوہر کی نیت بیوی کو طلاق دینے کی تھی۔۔تو کیا اس ساری صورتحال میں طلاق واقع ہوی یا نکاح قائم ہے۔براے مہربانی راہنمائی فرمائیں۔جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جاؤ، تم میری طرف سے فارغ ہو" یہ لفظ طلاق کنائی کے الفاظ میں سے ہے، اور کنائی الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی شرط ہوتی ہے، لیکن اگر اس قسم کے کنائی الفاظ مذاکرۂ طلاق یا غصہ کی حالت میں بولے جائیں تو ان سے طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔ سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ شوہر نے یہ الفاظ غصے کی حالت میں کہے ہیں، لہٰذا مذکورہ صورت میں جب شوہر نے غصہ کی حالت میں کنائی الفاظ "جاؤ، تم میری طرف سے فارغ ہو" کہے تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو گئی۔ اس طرح دونوں کے درمیان نکاح اسی وقت ختم ہو گیا تھا۔
​چونکہ اب عدت کے ایام بھی گزر چکے ہیں، اس لیے عورت شرعاً اس بات میں آزاد ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی دوسرے مسلمان مرد کے ساتھ نکاح کر سکے۔ البتہ، اگر سابقہ میاں بیوی دوبارہ باہم ازدواجی حیثیت سے اکٹھے رہنے پر رضامند ہوں، تو شرعی گواہوں کی موجودگی میں، نئے مہر کے تعین کے ساتھ دوبارہ عقدِ نکاح کر کے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔

حوالہ جات

 الفتاوى العالمكيرية ، الفتاوى الهندية (1/ 374):

لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام والأحوال ثلاثة (حالة) الرضا (وحالة) مذاكرة الطلاق بأن تسأل هي طلاقها أو غيرها يسأل طلاقها (وحالة) الغضب ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية والقول قول الزوج في ترك النية مع اليمين وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع الطلاق في سائر الأقسام قضاء إلا فيما يصلح جوابا وردا فإنه لا يجعل طلاقا كذا في الكافي وفي حالة الغضب يصدق في جميع ذلك لاحتمال الرد والسب إلا فيما يصلح للطلاق ولا يصلح للرد والشتم.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 107):

خلية " " بريئة " " بتة " " بائن " " حرام "؛ لأن هذه الألفاظ كما تصلح للطلاق تصلح للشتم، فإن الرجل يقول لامرأته عند إرادة الشتم: أنت خلية من الخير، بريئة من الإسلام، بائن من الدين، بتة من المروءة، حرام أي مستخبث، أو حرام الاجتماع والعشرة معك.

وحال الغضب والخصومة يصلح للشتم ويصلح للطلاق فبقي اللفظ في نفسه محتملا للطلاق وغيره، فإذا عني به غيره فقد نوى ما يحتمله كلامه، والظاهر لا يكذبه فيصدق في القضاء ولا يصدق في حال ذكر الطلاق؛ لأن الحال لا يصلح إلا للطلاق؛ لأن هذه الألفاظ لا تصلح للتبعيد، والحال لا يصلح للشتم فيدل على إرادة الطلاق لا التبعيد ولا الشتم فترجحت جنبة الطلاق بدلالة الحال.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

21/محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب