03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قربانی کے گوشت کے بدلے کھانے پینے کی چیز خریدنے کا حکم
91187قربانی کا بیانقربانی کے مستحبات اور قربانی کے جانور سے انتفاع کا حکم

سوال

في الهندية ﻭﻻ ﻳﺤﻞ ﺑﻴﻊ ﺷﺤﻤﻬﺎ ﻭﺃﻃﺮاﻓﻬﺎ ﻭﺭﺃﺳﻬﺎ ﻭﺻﻮﻓﻬﺎ ﻭﻭﺑﺮﻫﺎ ﻭﺷﻌﺮﻫﺎ ﻭﻟﺒﻨﻬﺎ اﻟﺬﻱ ﻳﺤﻠﺒﻪ ﻣﻨﻬﺎ ﺑﻌﺪ ﺫﺑﺤﻬﺎ ﺑﺸﻲء، ﻻ ﻳﻤﻜﻦ اﻻﻧﺘﻔﺎﻉ ﺑﻪ ﺇﻻ ﺑﺎﺳﺘﻬﻼﻙ ﻋﻴﻨﻪ ﻣﻦ اﻟﺪﺭاﻫﻢ ﻭاﻟﺪﻧﺎﻧﻴﺮ ﻭاﻟﻤﺄﻛﻮﻻﺕ ﻭاﻟﻤﺸﺮﻭﺑﺎﺕ، وفيها أيضا ﻭﻟﻮ اﺷﺘﺮﻯ ﺑﻠﺤﻢ اﻷﺿﺤﻴﺔ ﺟﺮاﺑﺎ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ، ﻭﻟﻮ اﺷﺘﺮﻯ ﺑﻠﺤﻤﻬﺎ ﺣﺒﻮﺑﺎ ﺟﺎﺯ، ﻭﻟﻮ اﺷﺘﺮﻯ ﺑﻠﺤﻤﻬﺎ ﻟﺤﻤﺎ ﺟﺎﺯ ﻗﺎﻟﻮا: ﻭاﻷﺻﺢ ﻓﻲ ﻫﺬا ﺃﻧﻪ ﻳﺠﻮﺯ ﺑﻴﻊ اﻟﻤﺄﻛﻮﻝ ﺑﺎﻟﻤﺄﻛﻮﻝ ﻭﻏﻴﺮ اﻟﻤﺄﻛﻮﻝ ﺑﻐﻴﺮ اﻟﻤﺄﻛﻮﻝ، ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺑﻴﻊ ﻏﻴﺮ اﻟﻤﺄﻛﻮﻝ ﺑﺎﻟﻤﺄﻛﻮﻝ، ﻭﻻ ﺑﻴﻊ اﻟﻤﺄﻛﻮﻝ ﺑﻐﻴﺮ اﻟﻤﺄﻛﻮﻝ ﻫﻜﺬا ﻓﻲ اﻟﻈﻬﻴﺮﻳﺔ ﻭﻓﺘﺎﻭﻯ ﻗﺎﺿﻲ ﺧﺎﻥ. کیا ان دونوں بیانات میں کوئی تضاد ہے؟ اگر ہے تو اصح کون ہے کیا قربانی کی گوشت سے طعام و غیرہ خرید کر سکتا ہے

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ قربانی کے اجزاء سے متعلق عباراتِ فقہاء رحمہم اللہ  میں اختلاف کی وجہ روایت کا اختلاف ہے۔ البتہ اصح قول اور روایت کے مطابق حکم یہ ہے کہ قربانی کے اجزاء میں سے جو اجزاء کھائے جاتے ہیں، ان کا تبادلہ کھانے کے قابل اشیاء (جیسے اناج وغیرہ) سے جائز ہے، اور غیر خوردنی اشیاء (جیسے مشکیزہ وغیرہ) سے جائز نہیں۔ اور قربانی کی کھال وغیرہ (یعنی جو اجزاء کھائے نہیں جاتے)، ان کا حکم اس کے برعکس ہے؛ ان کا تبادلہ استعمالی اشیاء سے جائز ہے، اور خوردنی اشیاء سے جائز نہیں ۔اس حکم  کی وجہ یہ ہے کہ قربانی کی کھال اور گوشت دونوں کا حکم یہ ہے کہ یا تو ان کو صدقہ کر دیا جائے یا ان سے نفع اٹھایا جائے، چونکہ ،ان دونوں  سے نفع اٹھانے کی نوعیت مختلف ہے۔ کھال سے نفع اٹھانے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے دباغت دے کر قابلِ استعمال بنایا جائے یا کسی اور اسی طرح کی قابل استعمال  چیز سے بدل لیا جائے، جبکہ گوشت کا اصل تعلق اور فائدہ کھانے سے ہے۔ لہٰذا، گوشت کو یا تو خود کھا لیا جائے یا اس کا تبادلہ کھانے کی ہی کسی دوسری جنس سے کر لیا جائے، دونوں صورتوں میں اس سے نفع اٹھانے (کھانے)کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 328):

في القنية: اشترى بلحمها مأكولا فأكله لم يجب عليه التصدق بقيمته استحسانا۔

البناية شرح الهداية (12/ 53):

قال: ويتصدق بجلدها؛ لأنه جزء منها،أو يعمل منه آلة تستعمل في البيت كالنطع والجراب والغربال، ونحوها؛ لأن الانتفاع به غير محرم، ولا بأس بأن يشتري به ما ينتفع بعينه في البيت، مع بقائه استحسانا، وذلك مثل ما ذكرنا؛ لأن للبدل حكم المبدل، ولا يشتري به ما لا ينتفع به إلا بعد استهلاكه كالخل والأبازير، اعتبارا بالبيع بالدراهم، والمعنى فيه أنه تصرف على قصد التمول.

وقال محمد: والقياس في الكل سواء معناه أنه لا يجوز بيع الكل؛ لأنه خرج من جهة التمول. وقال شيخ الإسلام خواهر زاده في " مبسوطه ": وأما اللحم فالجواب فيه كالجواب في الجلد، إن باعه بالدراهم تصدق بثمنه، وإن باعه بشيء آخر ينتفع به كما في الجلد.

الفتاوى العالمكيرية،الفتاوى الهندية (5/ 301):

ولو اشترى بلحم الأضحية جرابا لا يجوز، ولو اشترى بلحمها حبوبا جاز، ولو اشترى بلحمها لحما جاز قالوا: والأصح في هذا أنه يجوز بيع المأكول بالمأكول وغير المأكول بغير المأكول، ولا يجوز بيع غير المأكول بالمأكول، ولا بيع المأكول بغير المأكول هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان.

فتاوی تاتارخانیہ:

٢٧٧٦٢ : - وفي الظهيرية ولو اشترى بجلد الاضحية شيئاً من الحبوب لا يجوز، ولو اشترى بلحمها حلوباً وكذلك لو اشترى بلحمها لحماً جاز، وفي رواية عن محمد جواز الكل، والاصل في هذا الفصل أنه يجوز بيع غير الماكول بغير المأكول، وبيع الماكول بالماكول ولا يجوز بيع غير الماكول بالماكول، ولا بيع الماكول بغير الماكول.

محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

27/محرم الحرام /1448ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب