| 91213 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
دستی گھڑی میں اگر کچھ حصہ سونے کا ہو تو کیا یہ پہننا جائز ہے یا نہیں؟ (18carat)جیسے رولیکس گھڑی جو سٹیل کی ہوتی ہے مگر کچھ حصہ سونے کا ہوتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس گھڑی کا کیس (ڈائل) سونے کا ہو، یا اس کا بیشتر حصہ سونے سے بنا ہو، مردوں کے لیے اس کا استعمال شرعاً جائز نہیں ہے۔
البتہ اگر گھڑی کا کیس سونے کا نہ ہو، بلکہ صرف اس کی چین (اسٹریپ) میں سونا استعمال کیا گیا ہو، تو اس صورت میں غلبہ کا اعتبار ہوگا۔ یعنی اگر کل گھڑی کے وزن کے اعتبار سے سونے کا وزن غالب ہے تو مردوں کے لیے ناجائز،ورنہ جائز ہے۔
حوالہ جات
السنن الكبرى للنسائي( رقم الحدیث: 9387)
أخبرنا علي بن الحسين الدرهمي قال: حدثنا عبد الأعلى، عن سعيد، عن أيوب، عن نافع، عن سعيد بن أبي هند، عن أبي موسى، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «أحل الذهب والحرير لإناث أمتي، وحرم على ذكورها»
الدر المختار(6/063):
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: وحل مسمار الذهب في حجر الفص.
فی الشامیۃ: (قوله وحل مسمار الذهب إلخ) يريد به المسمار ليحفظ به الفص ،تتارخانية .لأنه تابع كالعلم في الثوب فلا يعد لابسا له ،هداية.وفي شرحها للعيني: فصار كالمستهلك أو كالأسنان المتخذة من الذهب على حوالي خاتم الفضة، فإن الناس يجوزونه من غير نكير ويلبسون تلك الخواتم
الدر المختار مع رد المحتار(6/358)
قال العلامۃ الحصکفی رحمہ اللہ: ولا يتحلى الرجل بذهب وفضةمطلقا ،إلا بخاتم ومنطقة وحلية سيف منهاأي الفضة ،إذا لم يرد به التزين.
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالی : وأما التمويه الذي لا يخلص ،فلا بأس به بالإجماع :لأنه مستهلك ،فلا عبرة ببقائه لونا.
الفتاوی الھندیۃ(5/334)
قال جمع من العلماء رحمھم اللہ: وأما التمويه الذي لا يخلص، فلا بأس به بالإجماع.
احسان اللہ گل محمد
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
23/1/8144ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | احسان ولد گل محمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


