| 91589 | روزے کا بیان | نذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان |
سوال
ایک سال پہلے میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کے لیے بیٹھی تھی، لیکن والدہ کے انتقال کی وجہ سے مجھے درمیان میں اعتکاف توڑنا پڑا۔ شریعت کے مطابق اس کا کیا حکم ہے؟ کیا مجھے پورا اعتکاف دوبارہ کرنا پڑے گا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر رمضان المبارک میں مسنون اعتکاف کے دوران کوئی شرعی عذر پیش آ جائے جس کی وجہ سے اعتکاف توڑنا پڑے، تو شرعاً ٹوٹنے کی صورت میں ایک دن اور ایک رات کی قضا لازم ہے۔ یہ قضا چاہے رمضان کے دوران ہی کر لی جائے یا رمضان گزرنے کے بعد۔ اگر رمضان میں کی جائے تو رمضان کا اپنا روزہ ہی اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے، جبکہ رمضان کے بعد قضا کرنے کی صورت میں الگ سے روزہ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ بغیر روزے کے مسنون یا واجب اعتکاف ادا نہیں ہوتا۔
قضا کا طریقہ یہ ہے کہ سورج غروب ہونے سے پہلے مسجد میں داخل ہو جائے، اگلا پورا دن روزے سے رہے اور پھر اگلے دن سورج غروب ہونے کے بعد واپس آئے (خواتین یہی عمل اپنے گھر میں نماز کی مخصوص جگہ یعنی مسجد بیت میں انجام دیں)۔
البتہ اگر اعتکاف کسی مجبوری یا شرعی عذر کی وجہ سے ختم کیا گیا ہو تو اس پر کوئی گناہ نہیں ، لیکن اگر بغیر کسی عذر کے ختم کیا جائے تو انسان گناہ گار ہوگا اور قضا کے ساتھ توبہ و استغفار بھی لازم آئے گی۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں چونکہ سائلہ نے عذر شرعی کی وجہ سے اعتکاف توڑا ہے، اس لیے ان پر کوئی گناہ نہیں ،لیکن قضا شرعا واجب ہےاس لئے سائلہ پر ایک دن اور ایک رات کی قضا روزے کے ساتھ اعتکاف کرنا ضروری ہے۔
قضا کا طریقہ یہ ہے کہ (عید الفطر اور ۱۰ تا ۱۳ ذوالحجہ کے علاوہ) کسی بھی مناسب دن سائلہ اپنے گھر میں نماز کی مخصوص جگہ (مسجد بیت) میں قضا اعتکاف کی نیت سے بیٹھ جائے، اگلا پورا دن روزے سے رہے، اور پھر اسی دن غروب آفتاب (مغرب کی اذان) کے بعد اعتکاف ختم کر لے۔
حوالہ جات
و لو شرع فيه ثم قطع لا يلزمه القضاء في رواية الأصل، و في واية الحسن : يلزمه، و في الظهيرية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى : أنه يلزمه يوما".
(الفتاوى التتارخانية ، 2/414)
وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافاً واجباً، أما النفل فله الخروج؛لأنه منه لا مبطل، كما مر.
(قوله: وحرم إلخ) لأنه إبطال للعبادة وهو حرام ولا تبطلوا أعمالكم}[محمد: 33]، بدائع (قوله: أما النفل) أي الشامل للسنة المؤكدة ح.
قلت: قدمنا ما يفيد اشتراط الصوم فيها بناء على أنها مقدرة بالعشر الأخير ومفاد التقدير أيضاً اللزوم بالشروع تأمل، ثم رأيت المحقق ابن الهمام قال: ومقتضى النظر لو شرع في المسنون أعني العشر الأواخر بنيته ثم أفسده أن يجب قضاؤه تخريجاً على قول أبي يوسف في الشروع في نفل الصلاة تناوباً أربعاً لا على قولهما اهـ أي يلزمه قضاء العشر كله لو أفسد بعضه كما يلزمه قضاء أربع لو شرع في نفل ثم أفسد الشفع الأول عند أبي يوسف، لكن صحح في الخلاصة أنه لا يقضي إلا ركعتين، كقولهما، نعم اختار في شرح المنية قضاء الأربع اتفاقاً في الراتبة كالأربع قبل الظهر والجمعة وهو اختيار الفضلي وصححه في النصاب، وتقدم تمامه في النوافل، وظاهر الرواية خلافه وعلى كل فيظهر من بحث ابن الهمام لزوم الاعتكاف المسنون بالشروع، وإن لزوم قضاء جميعه أو باقيه مخرج علی قول يوسف، أما على قول غيره فيقضي اليوم الذي أفسده استقلال كل يوم بنفسه، وإنما قلنا أي باقيه بناء على أن الشروع ملزم كالنذر،وهو لو نذر العشر يلزمه كله متتابعاً، ولو أفسد بعضه قضى باقيه على ما مر في نذر صوم شهر معين.
والحاصل أن الوجه يقتضي لزوم كل يوم شرع فيه عندهما بناء على لزوم صومه بخلاف الباقي؛ لأن كل يوم بمنزلة شفع من النافلة الرباعية وإن كان المسنون هو اعتكاف العشر بتمامه تأمل".
) الدر المختاروحاشیۃ وابن عابدین،2/444)
" قوله: "بلا عذر معتبر" أي في عدم الفساد فلو خرج لجنازة محرمة أو زوجته فسد ؛ لأنه وإن كان عذراً إلا أنه لم يعتبر في عدم الفساد، قوله:"ولا إثم عليه به" أي بالعذر أي وأما بغير العذر فيأثم ؛ لقوله تعالى:وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ " .
(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح ،ص: 703)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/صفرا لمظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


