| 91590 | روزے کا بیان | نذر،قضاء اور کفارے کے روزوں کا بیان |
سوال
مفتی صاحب! میری والدہ کے ذمہ کچھ روزے اور نمازیں باقی تھیں۔ کسی نے بتایا کہ ان کا فدیہ یا کفارہ ادا کیا جا سکتا ہے۔ شریعت کی رو سے اس کی کیا صورت ہے؟ کیا واقعی ان کی طرف سے فدیہ ادا کیا جا سکتا ہے؟ اگر ہاں، تو کس مقدار میں اور کس طریقے سے ادا کیا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگرسائلہ کی والدہ نے اپنی قضانمازوں اور روزوں کے فدیہ دینے کی وصیت کی ہو، تو مرحومہ کے ورثاء پر لازم ہےکہ ان کے چھوڑے ہوئے ترکہ کے ایک تہائی حصے میں سے یہ وصیت پوری کریں ، اور اگر انہوں نے وصیت نہیں کی ، لیکن ورثاء اپنی طرف سے مرحومہ کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں، میت پر احسان ہوگا۔
واضح رہے کہ ہر فرض روزہ ، نماز اور وتر کے بدلے ایک ایک فدیہ ہے ، اور ایک فدیہ کی مقدار تقریباً دو کلو گندم یا اس کی قیمت فقراء کو مالک بنا کر دے دی جائے ۔
حوالہ جات
"إذا مات الرجل وعليه صلوات فائتة فأوصى بأن تعطى كفارة صلواته يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر وللوتر نصف صاع ولصوم يوم نصف صاع من ثلث ماله وإن لم يترك مالا يستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى مسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا، كذا في الخلاصة.
وفي فتاوى الحجة وإن لم يوص لورثته وتبرع بعض الورثة يجوز ويدفع عن كل صلاة نصف صاع حنطة منوين، ولو دفع جملة إلى فقير واحد جاز."
(الفتاوی العالمگریہ، 1/125)
"روي عن النبي - صلى الله عليه وسلم - مفسرا أنه قال: «من مات وعليه قضاء رمضان أطعم عنه ولیه» وهو محمول على ما إذا أوصى أو على الندب إلى غير ذلك وإذا أوصى بذلك يعتبر من الثلث وإن لم يوص فتبرع به الورثة جاز وإن لم يتبرعوا لم يلزمهم، وتسقط في حق أحكام الدنيا عندنا. وعند الشافعي يلزمهم من جميع المال سواء أوصى به أو لم يوص."
(بدائع الصنائع ،، 2/103)
عبدالرحیم بن سید جنان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
11/صفرا لمظفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبد الرحیم بن سید جنان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


