| 91546 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے نانا ابو کا انتقال سنہ 1990ء میں ہوا۔ نانا ابو کی میری والدہ سمیت 6 بیٹیاں اور ایک بیٹا (یعنی ہمارے ماموں محمد مشتاق) ہیں۔ نانا ابو کی جائیداد میں سے تقریباً 10 مرلہ زمین ہمارے علاقے کے بازار میں موجود تھی، یعنی کمرشل زمین تھی۔ ماموں کے اپنی بہنوں کے ساتھ تعلقات مثالی رہے؛ غمی، خوشی میں لین دین اور دیگر معاملات بھی برادرانہ و رشتہ داری کے طریقہ کار کے مطابق ہوتے رہے۔سنہ 2014ء میں ماموں نے اپنی بہنوں سے نانا ابو کی ملکیتی زمین اپنے نام پر انتقال کروا لی، اور کسی بہن کو نہ جائیداد کا کوئی حصہ دیا، نہ انتقال کے وقت کوئی لین دین کیا۔ میری والدہ سمیت دیگر بہنوں کا دعویٰ یہ ہے کہ ماموں نے یہ زمین ان سے زبردستی انتقال کروائی تھی۔ وہ اس طرح کہ ہماری نانی اس وقت زندہ تھیں، ماموں نے ہماری نانی سے کہا کہ: ”اپنی بیٹیوں کو کہو مجھے زمین اتار کر دیں، ورنہ میں آپ کے جنازے میں انہیں نہیں چھوڑوں گا، نیز میری رشتہ داری اس سے ہو گی جو زمین انتقال کر کے دے گی۔“ نانی نے اپنی بیٹیوں کو کہا کہ: ”یہ مزاج کا سخت ہے، آپ کو میرے جنازے پہ نہیں چھوڑے گا، لہٰذا اسے زمین انتقال کر کے دو۔“ چنانچہ چھ بہنوں نے 2014ء میں زمین انتقال کر کے دے دی۔واضح رہے کہ پٹوار خانے میں انتقال کے خانے میں بیع (خرید و فروخت) کا انتقال درج ہے، اور ایک انتقال میں لکھا ہے کہ 50 ہزار بہنوں کو دے دیے، اور دوسرے انتقال میں 40 ہزار دینے کا لکھا ہوا ہے، جبکہ حقیقتِ حال یہ ہے کہ یہ محض کاغذی خانہ پوری تھی۔ ماموں نے جائیداد کے عوض کچھ لین دین نہیں کیا۔ بہنوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ: ”ہمیں اس زمین کے اس درجہ قیمتی اور کمرشل ہونے کا علم نہ تھا“، نیز بہنوں کا یہ دعویٰ بھی ہے کہ ماموں نے کہا تھا: ”میں اس زمین کو نہیں بیچوں گا، بلکہ اپنے استعمال اور کرایے کے لیے رکھوں گا، جب بھی میں نے بیچی تو میں آپ کو حصہ دوں گا۔“ بہنیں قرآن پر ہاتھ لگانے اور قسم اٹھانے کو تیار ہیں۔دوسری طرف ماموں ان سب دعووں کا انکار کر رہے ہیں، اور وہ بھی قرآن پر ہاتھ لگانے کو تیار ہیں کہ: ”میں نے انہیں جنازے کی کوئی دھمکی نہیں دی، رشتہ داری ختم کرنے کی کوئی دھمکی نہیں دی، نہ یہ کہا کہ جب بیچوں گا تو حصہ دوں گا۔“ اور ماموں کا دعویٰ یہ ہے کہ: ”میری ان بہنوں نے اپنی رضامندی سے مجھے زمین انتقال کر کے دی ہے، لہٰذا ان بہنوں کا معاملہ ختم ہو چکا ہے۔“اب ہوا یہ ہے کہ 2025ء میں ماموں نے یہ زمین اپنے بیٹے حیدر علی کے نام ہبہ کر دی، اور حیدر علی نے آگے اس زمین کو ساڑھے پانچ کروڑ روپے میں 2025ء کے آخر میں فروخت کر دیا۔ جب بہنوں کو زمین کی فروختگی کا علم ہوا، تو انہوں نے اپنے بھائی (یعنی ہمارے ماموں محمد مشتاق) سے مطالبہ کیا کہ: ”آپ ہمیں ہمارا حصہ ادا کریں۔“ ماموں نے کہا کہ: ”تم نے رضامندی سے دی تھی۔“ وہ کہہ رہی ہیں کہ: ”نہیں! آپ نے جنازے کی دھمکی سے اتروائی تھی اور کہا تھا کہ جب بیچوں گا تو حصہ دوں گا۔“اب یہ تنازعہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ محلے کے امام مسجد (مولوی صاحب)، مفتی و قاضی صاحب اور دیگر رشتہ داروں کے ذریعے ماموں کو سمجھایا گیا کہ آپ زمین کی حصہ داری کے بقدر رقم بہنوں کو دے دیں۔ مسجد کے امام صاحب نے کہا کہ: ”ساری رقم نہ ہو (جیسے 70 لاکھ بنتا ہے)، تو آپ آدھی یا 20 لاکھ دے دیں“، لیکن ماموں رضامند نہیں۔اس صورتحال میں ایک اہم بات یہ بھی واضح رہے کہ نانا ابو کے انتقال کے بعد اس زمین کا مکمل قبضہ ماموں محمد مشتاق کے پاس رہا۔ انہوں نے اس زمین پر دکانیں تعمیر کیں اور ان دکانوں کا کرایہ 25 سال وصول کرتے رہے۔ بہنوں کو تقسیمِ وراثت کرتے ہوئے کوئی قبضہ نہیں دیا گیا، نہ ہی بہنوں کو اپنی ملکیت کا تعین تھا (یعنی کسی بہن کو اپنی ملکیت الگ متعین کر کے نہیں بتائی گئی)، نہ کسی بہن کا کوئی قبضہ تھا، ساری جگہ پر قبضہ ماموں کا تھا، اور 2014ء میں اسی حالت میں پٹوار خانے میں انتقال کروا دیا گیا۔اب شرعی نقطہ نگاہ سے آپ یہ رہنمائی کریں کہ:1) کیا بہنوں کو قرآن و سنت کے مطابق حصہ ملے گا یا نہیں؟ 2) کیا ماموں (اگر فی بہن حصہ 70 لاکھ بنتا ہے) رقم ادا نہ کر کے شرعی اعتبار سے بری الذمہ ہیں، یا کوئی گرفت ہو گی؟ 3) کیا قبضہ نہ ہونے اور ملکیت متعین نہ ہونے سے، شرعی اعتبار سے وراثتی تقسیم یا کاغذی انتقال معتبر ہوتا ہے؟ 4) کاغذات میں بیع کا انتقال درج ہے کہ 50/40 ہزار کے عوض بہنوں نے بیچ دی، جبکہ موقع پر ایک روپیہ بھی جائیداد کے عوض کے طور پہ نہیں دیا گیا؛ کیا اس طرح شرعی نقطہ نگاہ سے انتقال یا وراثتی تقسیم درست ہے؟ 5) ماموں کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ: ”میں نے ان کو عید کے کپڑے دیے، مختلف مواقع پر نقد رقوم دیں، مکانوں کی تعمیر میں ان کی مدد کی، ان کی بیٹیوں بیٹوں کی شادی میں لاکھ، دو لاکھ روپے دیے۔“ کیا اس قسم کے برادرانہ و سماجی تعاون سے ماموں محمد مشتاق وراثتی حقوق سے بری الذمہ ہو گئے؟ 6) کیا بہنوں کو اب 70 لاکھ روپے پورا حصہ ملے گا، یا جائیداد واپس ہو گی، یا کچھ بھی نہیں ملے گا؟ شرعی اعتبار سے مکمل وضاحت فرما دیں۔ زمین ساڑھے پانچ کروڑ کی فروخت ہوئی ہے، نانا ابو کے انتقال کے وقت چھ بیٹیاں، ایک بیٹا اور ایک بیوہ موجود تھیں، تو حصہ کتنا بنے گا؟ 7) ماموں کا ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ: ”میں نے دکانیں تعمیر کروائی ہیں، تب جگہ اتنی مہنگی بکی ہے“، جبکہ بہنوں کا کہنا ہے کہ: ”جو دکانیں تعمیر کی ہیں، تو 25 سال دکانوں کے کرایے بھی تو ماموں کھاتے رہے۔“ کیا شرعی اعتبار سے اس زمین پر ماموں کے دکانیں تعمیر کرنے سے بہنوں کے حصے پر فرق پڑے گا؟ 8) نیز ماموں کے بقول پاکستانی قانون کے مطابق معاملہ ختم ہو چکا اور بہنوں کو اب دعویٰ کا حق حاصل نہیں (حالانکہ دو چار وکلاء نے عدالتی ریلیف کے متعلق آگاہ کیا کہ بہنوں کو ریلیف مل سکتا ہے، جبکہ ماموں کہتے ہیں قانوناً معاملہ ختم ہو چکا)۔ کیا پاکستانی قانون اگر بالفرض معاملے کو ختم قرار دے، تو کیا شرعی اعتبار سے قرآن و سنت کے مطابق ماموں بری الذمہ ہوں گے یا پکڑ ہو گی؟ کیونکہ ماموں کا ایک دعویٰ یہ بھی ہے کہ: ”میں نے راولپنڈی ایک مفتی صاحب سے پوچھا ہے، انہوں نے کہا آپ بری الذمہ ہیں۔“ تو کیا واقعی ماموں شرعی اعتبار سے بری الذمہ ہو گئے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں ماموں جائیداد کی بیع و شراء کے مدعی ہیں، جبکہ بہنیں اس کی منکر ہیں اور صرف زمین کے انتقال کی معترف ہیں ۔تو اس مسئلے کا حتمی فیصلہ تو عدالت یا پنچایت (جرگہ)کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے ۔
شرعا حکم یہ ہے کہ اگر واقعتاً بہنوں نے40 یا 50ہزار کے عوض زمین ماموں کو بیچ دی تھی، تو ایسے میں وہ صرف 40 یا 50 ہزار جو طے شدہ ثمن تھا اسی کی مستحق ہیں، اگر پہلے ماموں نےوہ ادا نہیں کیا، تو اب اس پر لازم ہو گا کہ یہ رقم ادا کرے ۔لیکن اگر واقعہ یہ ہو کہ دونوں فریقوں کے درمیان کوئی خرید و فروخت نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف انتقال نامہ بنا تھا ، تو ایسے میں اس جا ئیدادمیں بہنوں کا شرعی حصہ برقرار رہے گا ،لہذا یہ جائیداد موجودہ قیمت کے حساب سے بہنوں اور بھائیوں کے درمیان میراث کےشرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی اوراس میں سے بہنوں کوبھی ان کا حصہ ملے گا۔
شرعی حصوں کی تفصیل یہ ہے کہ تمام شرعی حقوق کی ادائیگی کے بعد جائیداد کی جو رقم بچ جائے، اس کے کل آٹھ (8) برابر حصے بنا کر اس میں سے دو (2) حصے ماموں کو دئے جائیں گے ، جبکہ بقیہ چھ (6) حصوں سے چھ بہنوں میں سے ہر ایک کو ایک حصہ ملے گا ۔
چونکہ دونوں فریق ایک دوسرے کی بات پر متفق نہیں ہیں، لہٰذا اس مسئلے کے حل کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ایک ایسی پنچایت جس میں شرعی مسائل سے واقف کم از کم ایک ماہر مفتی بھی ہوکے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا جائے ۔پنچایت ماموں سے اسکے دعوی پر گواہ طلب کرے گی،اگر وہ خرید و فروخت پر شرعی گواہ پیش کر دیں، تو ماموں کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اگر ماموں اپنے دعوے پر گواہ پیش کرنے سے قاصر رہیں، تو ان کے مطالبے پر پنچایت بہنوں سے خرید و فروخت نہ ہونے پر قسم لے گی۔ اگر بہنیں اس بات پر قسم کھا لیں گی کہ انہوں نے اپنا حصہ نہیں بیچا، تو خرید و فروخت کا دعویٰ خارج ہو جائے گا اور وراثت میں بہنوں کا حق برقرار رہے گا۔ اور اگر بہنیں قسم کھانے سے انکار کر دینگی ، تو ان کے اس انکار کو دعوے کا اقرار یا اپنے حق سے دستبرداری تسلیم کرتے ہوئے، ماموں کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے گا۔
باقی ماموں محمد مشتاق صاحب نے اپنی بہنوں کے بچوں کی شادیوں، عید پر کپڑے دلانے اور دیگر تحفے تحائف دینے پر جو بھی اخراجات کیے، چونکہ ان کا مقصد یہ رقم اپنی بہنوں سے واپس لینا یا ان کے حصے سے کاٹنا نہیں تھا، اور نہ ہی ان کے درمیان ایسا کوئی معاہدہ ہوا تھا، اس لیے ان کا یہ عمل خالصتاً ہمدردی اور احسان پر مبنی تھا۔اس لیے ان اخراجات میں وہ شرعا متبرع شمارہونگے ۔ لہٰذا، ان کے اس اچھے سلوک اور خاندانی تعاون کو بنیاد بنا کر بہنوں کو ان کے جائز حق ( وراثتی حصے) سے محروم کرنا ہرگز جائز نہیں ہے۔
جہاں تک مشترکہ زمین پر دکانیں بنانے کا تعلق ہے، تو اصولی طور پر ماموں محمد مشتاق کو دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر اس زمین پر دکانیں تعمیر کرنے کا حق حاصل نہیں تھا؛ کیونکہ اس کے لیے تمام ورثاء کی رضامندی ضروری تھی۔ تاہم، جب انہوں نے یہ تعمیرات کیں تو اس وقت بہنوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا اور خاموش رہیں۔ شرعی لحاظ سے ان کی یہ خاموشی دلالتاً رضامندی شمار ہوگی۔ چونکہ ماموں محمد مشتاق نے ان دکانوں کا استعمال 'بتاویلِ ملک' (اپنی ملکیت سمجھ کر) کیا ہے، اس لیے اب ان سے گزشتہ سالوں کے کرایہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔
البتہ، ان تعمیرات کی وجہ سے زمین کی مالیت (مارکیٹ ویلیو) میں جو اضافہ ہوا ہے، جائیداد کی تقسیم کے وقت ماموں محمد مشتاق اس اضافے کے بقدر رقم وصول کرنے کے حقدار ہیں۔
حوالہ جات
النساء: 11
يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة فلها النصف.
قال الله تعالي : ولهن نصف ماتركتم إن لم يكن لكم ولدفإن كان لكم ولد فلهن الثمن مماتركم(النساء12)
﴿وَمَن يَعصِ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُۥ يُدخِلهُ نَارًا خَٰلِدٗا فِيهَا وَلَهُۥ عَذَاب مُّهِين ﴾ [النساء: 14]
أخرجہ مسلم في صحيحہ: .( 5/58)
(رقم الحديث1610)من حدیث سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من اقتطع شبرا من الأرض ظلما، طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين.
الجامع الصحيح سنن الترمذي 3 / 17:
عن سلمان بن عامر يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال :"إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فالماء فإنه طهور وقال الصدقة على المسكين صدقة وهي على ذي الرحم ثنتان صدقة وصلة۔۔۔
.(تكملۃ ردالمحتار علی الدرالمختار،كتاب الدعوی،باب التحالف،ج11ص678)
الارث جبري لا يسقط بالاسقاط۔
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 447):
التركة تتعلق بها حقوق أربعة: جهاز الميت ودفنه والدين والوصية والميراث. فيبدأ أولا بجهازه وكفنه وما يحتاج إليه في دفنه بالمعروف.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (7/ 193):
«المدعي من إذا ترك ترك والمدعى عليه بخلافه) أي المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها والمدعى عليه من يجبر على الخصومة إذا تركها.
«بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع» (6/ 225):
وأما حجة المدعي والمدعى عليه فالبينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه لقوله عليه الصلاة والسلام «البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه» جعل عليه الصلاة والسلام البينة حجة المدعي واليمين حجة المدعى عليه والمعقول كذلك لأن المدعي يدعي أمرا خفيا فيحتاج إلى إظهاره وللبينة قوة الإظهار لأنها كلام من ليس بخصم فجعلت حجة المدعي واليمين۔
«المبسوط» للسرخسي (17/ 32):
«وأيهما حلف برئ منهما وأيهما نكل عن اليمين لزمه دعوى صاحبه لأن نكوله قائم مقام إقراره لما ادعاه صاحبه»
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 180):
المادة (1173) - (إذا بنى أحد الشركاء لنفسه في الملك المشترك القابل للقسمة بدون إذن الآخرين ثم طلب الآخرون القسمة تقسم فإن أصاب ذلك البناء حصة بانيه فبها، وإن أصابت حصة الآخر فله أن يكلف بانيه هدمه ورفعه)
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 315):
الاحتمال الرابع - إذا عمر أحد الشريكين المال المشترك بدون إذن شريكه على أن يكون ما عمره لنفسه فتكون التعميرات المذكورة ملكا له وللشريك الذي بنى وأنشأ أن يرفع ما عمره من المرمة الغير المستهلكة. انظر شرح المادة (529) ما لم يكن رفعها مضرا بالأرض ففي هذا الحال يمنع من رفعها.
حاشية ابن عابدين،رد المحتار - ط الحلبي» (6/ 268):
(بنى أحدهما) أي أحد الشريكين (بغير إذن الآخر) في عقار مشترك بينهما (فطلب شريكه رفع بنائه قسم) العقار (فإن وقع) البناء (في نصيب الباني فبها) ونعمت (وإلا هدم) البناء، وحكم الغرس كذلك بزازية.
محمد ابراہیم قریشی بن عبدالرزاق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
11/صفر المصفر /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرہیم قریشی بن عبد الرزاق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


