03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھنٹے کے حساب سے پانی دینے اور نقد رقم (اجرت) وصول کرنے کا شرعی حکم”
91246اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

( 6)بعض مالکان گھنٹہ کے حساب سے پانی دیتے ہیں اور ان سے نقد رقم وصول کی جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ درست ہوگا ؟ آپ صاحبان ان تمام طریقوں کے تفصیلی احکام سے آگاہ کریں کہ یہ پیچیدگی دور ہو، ممنون رہیں گے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں زمین کے اندر یا نہر سے "گھنٹے کے حساب سے" پانی نکال کر دینے اور نقد رقم وصول کرنے کا یہ طریقہ شرعاً پانی نکالنے والی مشینری (سولر سسٹم، موٹر یا ٹیوب ویل) کے "اجارہ" (کرائے داری) کا معاملہ ہے۔ اس طریقہ کار کا شرعی حکم درج ذیل ہے:

1. براہِ راست پانی نکال کر دینا (عقدِ اجارہ - جائز صورت): چونکہ پانی زمین کے اندر یا نہر میں موجود ہے اور مالکان مشینری چلا کر براہِ راست پانی دے رہے ہیں، اس لیے مشینری کو گھنٹے کے حساب سے کرائے پر دینا اور باہمی رضامندی سے نقد اجرت وصول کرنا بالکل جائز ہے۔ فقہاء کرام نے زمین سے پانی نکال کر دینے کو آلات (دورِ قدیم میں ڈول اور رسی، اور موجودہ دور میں سولر یا موٹر) کرائے پر دینے کے معاہدے (عقدِ اجارہ) سے تعبیر کیا ہے۔ چونکہ اس اجارہ میں مشینری کے استعمال کا وقت (گھنٹہ) اور اس کی اجرت (نقد رقم) دونوں متعین اور معلوم ہیں، اس لیے یہ معاملہ شرعاً بالکل درست ہے۔

2. ٹینکی میں جمع شدہ پانی دینا (استثنائی صورت - احراز اور عقدِ بیع): البتہ ایک استثنائی صورت یہ ہے کہ اگر مالکان براہِ راست مشین چلانے کے بجائے، پہلے سے اپنی ٹینکی یا حوض میں جمع کیا گیا (احراز شدہ) پانی فراہم کریں، تو چونکہ محفوظ کیا گیا پانی مالکان کی ذاتی ملکیت بن جاتا ہے، اس لیے اب یہ مشین کا اجارہ نہیں رہے گا، بلکہ خالصتاً پانی کا "عقدِ بیع" (خرید و فروخت) بن جائے گا۔ اس صورت میں پانی کو وقت (گھنٹے) کے حساب سے دینا شرعاً ناجائز (فاسد) ہو جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عقدِ بیع کے صحیح ہونے کے لیے بیچی جانے والی چیز (پانی) کی مقدار کا معلوم ہونا لازمی شرط ہے، اور گھنٹے کے حساب سے پانی دینے میں پانی کی مقدار مجہول (نامعلوم) رہتی ہے۔ اسے درست کرنے کے لیے گھنٹے کے بجائے مقدار (لیٹر یا گیلن) طے کرنی ہوگی۔البتہ اگر اس صورت میں وقت کے حساب سے بھی پانی دینے کا عرف ہواور نزاع کا باعث نہ ہو تو وقت کے حساب سے بھی دینے کی  گنجائش ہے۔

خلاصہِ کلام: پانی نکالنے والی مشینری (سولر سسٹم وغیرہ) کو گھنٹے کے حساب سے کرائے پر دینا اور اس کی نقد اجرت وصول کرنا "عقدِ اجارہ" ہونے کی بنا پر شرعاً جائز ہے۔ البتہ اگر پہلے سے ٹینک میں محفوظ شدہ پانی ہو تو اسے گھنٹے کے حساب سے دینا درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 121):

لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.

«المحيط البرهاني» (6/ 361):

«فإذا أخذه وجعله في جرة، أو ما أشبهها من الأوعية، فقد أحرزه فصار أحق به، فيجوز بيعه

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 294):

«أي لا يصح البيع إلا بمعرفة قدر المبيع والثمن ووصف الثمن إذا كان كل منهما غير مشار إليه أما المشار إليه فغير محتاج إليهما؛ لأن التسليم والتسلم واجب بالعقد فهذه الجهالة مفضية إلى المنازعة فيمتنع التسليم والتسلم وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز أطلق في معرفة القدر فشمل المبيع والثمن فلا بد من معرفة القدر فيهما.

«مجلة الأحكام العدلية» (ص79):

«(المادة 405) الإجارة في اللغة بمعنى الأجرة وقد استعملت في معنى الإيجار أيضا وفي اصطلاح الفقهاء بمعنى بيع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص81):

«(المادة 421) : الإجارة باعتبار المعقود عليه على نوعين: النوع الأول: عقد الإجارة الوارد على منافع الأعيان ويقال للشيء المؤجر عين المأجور وعين المستأجر أيضا وهذا النوع ينقسم إلى ثلاثة أقسام: القسم الأول: إجارة العقار كإيجار الدور والأراضي. القسم الثاني: إجارة العروض كإيجار الملابس والأواني. القسم الثالث إجارة الدواب. النوع الثاني: عقد الإجارة الوارد على العمل وهنا يقال للمأجور أجير كاستئجار الخدمة والعملة واستئجار أرباب الحرف والصنائع هو من هذا القبيل. حيث إن إعطاء السلعة للخياط مثلا ليخيط ثوبا يصير إجارة على العمل كما أن تقطيع الثوب على أن السلعة من عند الخياط استصناع.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص83):

«(المادة 433) : تنعقد الإجارة بالإيجاب والقبول كالبيع.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص86):

«(المادة 450) : يشترط أن تكون الأجرة معلومة.»

«(المادة 456) تكون المنفعة معلومة في نقل الأشياء بالإشارة وبتعيين المحل الذي ينقل إليه. مثلا: لو قيل للحمال انقل هذا الحمل إلى المحل الفلاني تكون المنفعة معلومة لكون الحمل مشاهدا والمسافة معلومة.»

   محمدسعید خان آفریدی

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  29 /محرم الحرام/1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب