احصار کی تعریف:
احصار کے معنی لغت میں منع کرنے اور قید کرنے کے ہیں اور شرعاً حج یا عمرہ کا اِحرام باندھنے کے بعد کسی دشمن کے خوف یا مرض وغیرہ کی وجہ سے وقوفِ عرفہ اور طواف دونوں یا رکن عمرہ یعنی صرف طواف اداء کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا ہوجانے کو کہتے ہیں، جس شخص کو روکا جائے اس کو محصَر کہتے ہیں، )الغنیة: صـ: ۳۰۹۔۳۱۱(محصر کے معنی ہیں روکا گیا۔
احصار کن چیزوں سے متحقق ہوتا ہے؟
احصار کے اسباب مندرجہ ذیل ہیں،)الغنیة: صـ: ۳۰۹۔۳۱۱( حاجی یا معتمر کو ان میں سے کوئی امر پیش آگیا تو اس کو محصَر کہا جائے گا:
1:۔کسی دشمن کا روکنا، مسلمان ہو یا کافر۔
2:۔راستے میں کسی ایسے درندہ کا ہونا جس کو ہٹانے سے عاجز ہو۔
3:۔قید ہوجانا یا حاکم کا منع کرنا۔
4:۔ہڈی ٹوٹ جانا یا اتنا لنگڑا ہوجانا کہ چل نہ سکے۔
5:۔سفر کی وجہ سے مرض کی زیادتی کا خوف ہونا، خواہ اپنے غلبہ ظن سے ہو یا کسی مسلمان دیندار طبیب کے کہنے سے۔
6:۔عورت کے محرم یا شوہر کا راستہ میں مکہ مکرمہ سے مدت ِ سفر کی مسافت پر انتقال ہو جانا یا ابتداء ً ہی اِحرام باندھنے کے بعد محرم یا شوہر کا موجود نہ ہونا جبکہ مقامِ احرام سے مکہ مکرمہ تک مسافت ِ سفر کے برابر فاصلہ پر ہو۔
7:۔سفرِ خرچ کا ختم ہو جانا۔
8:۔سواری کا ہلاک ہو جانا، لیکن اگر پیدل چلنے پر قادر ہو تو محصر نہ ہوگا، البتہ اگر چلنے پر فی الوقت قادر تو ہے، لیکن ہلاکت کا اندیشہ ہے تو بھی محصر ہوگا۔
9:۔پیدل چلنے سے عاجز ہونا اور سواری کے خرچ پر قدرت نہ ہونا، صرف سفر خرچ پر قدرت ہونا۔
10:۔شوہر کا زوجہ کو عمرہ یا نفل حج سے روکنا جبکہ شوہر کی اجازت کے بغیر اِحرام باندھا ہو۔
جب کسی مرد یا عورت کو ان امور ِ مذکورہ میں سے کوئی امر اِحرام باندھنے کے بعد وقوفِ عرفہ سے پہلے پیش آجائے تو وہ محصر ہو جائے گا اور اگر وقوفِ عرفہ کے بعد پیش آئے تو وہ شرعاً محصر نہ ہوگا۔
شرعاً احصار کب معتبر ہوگا؟
مسئلہ: اگر قارن یا مفرد طواف اور وقوف دونوں سے روک دیا گیا ہو تو وہ محصر ہوگا جس کا حکم آگے آرہا ہے، اگر وقوف اور طوافِ زیارت میں سے کسی ایک پر قادر ہے تو وہ محصر نہ ہوگا، اگر وقوفِ عرفہ کر لیا اور طوافِ زیارت سے روک دیا گیا تو اس کا حج ہو گیا۔ بال منڈا کر اِحرام کھول دے، لیکن جب تک طواف نہ کرے گا عورت حلال نہ ہوگی اور طوافِ زیارت جب چاہے کر سکتا ہے، لیکن اگر ایامِ نحر گزرنے کے بعد کرے گا تو ایک دم تاخیر کا واجب ہو گا اور اگر صرف وقوف سے روکا گیا تو جب تک حج کا وقت باقی ہے عذر زائل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے، اگر عذر زائل ہو جائے تو وقوف کر کے حج پورا کرے، اگر عذر زائل نہ ہو اور حج فوت ہو جائے تو عمرہ کے افعال کر کے حلال ہو جائے۔
مسئلہ: اگر مکہ مکرمہ میں ہی محرم کو کوئی ایسا مانع پیش آجائے اور وقوفِ عرفات اور طوافِ زیارت دونوں نہ کر سکے تو وہ بھی محصر ہے، ورنہ نہیں۔ پھر اس کا حکم وہی ہے جو ابھی اوپر گزرا۔
محصر کیا کرے؟
جب کوئی شخص امورِ مذکورہ میں سے کسی اَمر کی وجہ سے شرعاً محصر ہو جائے یعنی وقوفِ عرفہ اور طوافِ زیارت دونوں سے روک دیا گیا تو اس امر کے زوال کا انتظار کرے اور مانع دور ہونے کے بعد اگر حج مل سکے تو حج کرے، ورنہ عمرہ کر کے حلال ہو جائے، اگر انتظار میں زیادہ دقت ہو اور جلد حلال ہو نا چاہتا ہو تو اسے چاہیے کہ اگر اس نے صرف حج یا صرف عمرہ کا اِحرام باندھا ہے تو کسی شخص کو ایک دم یا دم کی قیمت دے کر حرم بھیجے تاکہ وہ اس کی طرف سے حرم میں جا کر دَم ذبح کرے، اور تاریخ اور ذبح کا وقت متعین کردے، دم حرم بھیجنے کے بعد اسے اختیار ہے چاہے جس جگہ روکا گیا ہے وہیں ٹھہرا رہے یا اپنے مکان واپس آجائے یا اور کہیں چلا جائے۔( الغنیة: صـ: ۳۱۱)
محصر کب حلال ہوگا؟
محصر کے اِحرام سے حلال ہونے کے لیے بال کٹانا یا منڈانا شرط نہیں جس روز کا ذبح کا جو وقت مقرر کیا ہے اس روز کے وقت ِ مقرر پر صرف ذبح سے حلال ہو جائے گا، لیکن سر منڈانا مستحسن ہے۔ محصر اگر قارن ہے تو اس کو دو دم ذبح کرانے واجب ہیں، ایک اِحرامِ حج کا اور ایک اِحرامِ عمرہ کا، یہ تعیین و تخصیص ضروری نہیں کہ فلاں دم حج کا اور فلاں عمرہ کا، البتہ افضل ہے۔ اگر قارن نے صرف ایک دم ذبح کرایا تو قارن کا اِحرام اس وقت تک نہ کھلے گا جب تک دوسرا دم ذبح نہ کرائے گا۔( الغنیة: ص: ۳۱۳)
محصر نے وقت ِمقرر کے بعد ذبح سے پہلے اِحرام کی خلاف ورزی کرلی:
اگر وقت ِ مقررکے بعد ممنوعات ِ اِحرام میں سے کسی کا ارتکاب کر لیا، بعد میں پتہ چلا کہ ابھی ذبح نہیں ہوا تھا یا یہ معلوم ہوا کہ ذبح حرم میں نہیں ہوا بلکہ حل میں ہوا ہے تو جس جنایت کا ارتکاب کیا اس کی جزا لازم ہوگی، اگر کئی ممنوعات اِحرام کا ارتکاب کیا تب بھی ایک ہی کفارہ لازم ہو گا۔( الغنیة: ص: ۳۱۳)
وقت ِمقرر سے پہلے ذبح کر دیا:
ذبح کرنے والے نے جس وقت ذبح کا وعدہ کیا ہے اگر اس نے اس وقت سے ایک دو روز پہلے ذبح کر دیا تو جائز ہے۔ ( الغنیة: ص: ۳۱۲)
حل میں ذبح کر دیا:
دم احصار کے لیے ایامِ نحر میں ذبح کرنا شرط نہیں، حرم میں ذبح ہونا شرط ہے،۔ ( الغنیة: ص: ۳۱۲) اگر ذبح کے بعد معلوم ہوا کہ حرم میں ذبح نہیں ہوا بلکہ حل میں ہوا ہے تو دوسرا دم دوبارہ حرم میں ذبح کرنا ضروری ہو گا۔
اِحصار زائل ہونے کے بعد حج یا عمرہ کی قضا واجب ہے:
مسئلہ: جب محصر حرم میں ذبح کرانے کے بعد حلال ہو گیا تو جس چیز کے اِحرام سے حلال ہوا ہے احصار دور ہونے کے بعد اس کی قضا واجب ہو گی۔ اگر حج تمتع یا افراد سے حلال ہوا تھا تو قضا میں ایک حج اور ایک عمرہ کرنا واجب ہو گا اور اگر قران کے اِحرام سے حلال ہوا تھا تو اس پر قضا میں ایک حج اور دو عمرے واجب ہوں گے اور اس کو اختیار ہو گا کہ قران کرے اور ایک عمرہ بعد میں کرے یا حج علیحدہ اور دو عمرے علیحدہ علیحدہ کرے۔ یہ تفصیل اس وقت ہے جب احصار حج کے ایام گزر جانے کے بعد زائل ہوا۔ اگر احصار حج کا وقت گزرنے سے پہلے پہلے دور ہو جائے تو پھر اسی سال حج کر لینا چاہیے، اس صورت میں اگر حج تمتع یا افراد کا اِحرام باندھا تھا تو صرف حج ہی لازم ہوگا، عمرہ لازم نہ ہوگا۔ اور قران کا اِحرام باندھا تھا تو اب احصار زائل ہونے پر قران یعنی ایک ہی اِحرام سے حج و عمرہ لازم ہوگا، دوسرا عمرہ جو اِحرام کھولنے کی وجہ سے لازم ہوا تھا وہ لازم نہ ہوگا اور اگر عمرہ کے اِحرام سے حلال ہوا تھا تو صرف ایک عمرہ ہی کرنا ہو گا اور جس وقت چاہے عمرہ کر سکتا ہے۔(الدر المحتار: ۴/ ۸،۹)
محصر نے حج یا عمرہ کی تعیین نہیں کی تھی:
اگر کسی نے حج یا عمرہ کی تعیین کے بغیر اِحرام باندھا تھا اور پھر دمِ احصار حرم بھیج کر حلال ہوگیا تو استحساناً ایک عمرہ کرے اور اگر اِحرام کے وقت متعین کیا تھا لیکن بعد میں بھول گیا کہ حج کا تھا یا عمرہ کا تو اس کو صرف ایک ہی دم حلال ہونے کے لیے بھیجنا کافی ہو گا لیکن بعد میں احتیاطاً ایک حج اور عمرہ کرنا لازم ہو گا۔( الغنیة: ص: ۳۱۲)
نفل حج میں احصار کے سال ہی حج کیا ہو:
اگر حجِ نفل سے احصار کی وجہ سے حلال ہوا تھا تو اگر احصار کے سال ہی حج کر لیا تو قضاء کی نیت ضروری نہیں اور اگر اس سال نہیں کیا، بعد میں کیا تو قضا کی نیت واجب ہو گی۔( الغنیة: ص: ۳۱۳)
محصر فرض حج سے حلال ہوا تو:
مسئلہ: اگر محصر حج فرض سے حلال ہوا تھا تو اس کے لیے قضا کی نیت واجب نہیں۔ خواہ احصار کے سال حج کرے یا بعد میں، فرض حج اداء کرنے کی نیت کرنی چاہیے اور عمرہ بھی حج کے ساتھ جب ہی واجب ہو گا جب احصار کے سال حج نہ کیا ہو اور عمرہ بھی نہ کیا ہو،( الشامیة: ۴/ ۹)صرف ہدی ذبح کراکے حلال ہوا ہو، اگر عمرہ کے افعال کر کے حلال ہوا تھا تو قضاء میں عمرہ واجب نہ ہو گا۔
ہر محصر پر قضاء واجب ہے:
وجوبِ قضا ہر محصر پر ہوتا ہے، خواہ حج فرض ہو یا نفل، اپنا حج ہو یا حج بدل، حج صحیح ہو یا فاسد۔( الغنیة: ص: ۳۱۴)
دَم اِحصار بھیجنے کے بعد احصار زائل ہو گیا:
اگر احصار دَم بھیجنے سے پہلے ہی زائل ہو گیا اور حج مل سکتا ہے تو جانا واجب ہے، اسی طرح اگر دَم احصار روانہ کرنے کے بعد احصار زائل ہوا تو اب اگر اتنا وقت ہے کہ حج اور دم احصار دونوں مل سکتے ہیں، یعنی دم ذبح ہونے سے پہلے پہلے وہ ایام حج میں مکہ پہنچ سکتا ہے تو بھی جانا واجب ہے، اس صورت میں دَم احصار کے بارے میں اختیار ہے جو چاہے کرے، اب اس کا ذبح کرنا واجب نہیں اور اگر حج اور دَم دونوں ہی نہیں مل سکتے یا صرف دَم مل سکتا ہے، حج نہیں مل سکتا تو جانا ضروری نہیں، اختیار ہے کہ جائے یا نہ جائے اور اگر ہدی تو نہیں مل سکتی لیکن حج مل سکتا ہے تو حلال ہونا جائز ہے مگر حج کو جانا افضل ہے،( الغنیة: ص: ۳۱۴) اگر نہ جائے تو کچھ مضایقہ نہیں۔
معتمر کا احصار زائل ہو گیا:
عمرہ والے کا احصار اگر ہدی روانہ کرنے سے پہلے یا روانہ کر نے کے بعد ایسے وقت زائل ہو گیا کہ ہدی مل سکتی ہو تو جانا واجب ہے اور اگر ہدی نہیں مل سکتی تو جانا واجب نہیں اور عمرہ جب چاہے کر سکتا ہے کیونکہ اس کا کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔( الغنیة: صـ: ۳۱۵)
ایک احصار کے بعد دوسرا احصار:
اگر محصر نے دَم روانہ کر دیا اور اس کے بعد وہ احصار دور ہو گیا لیکن دوسرا احصار پیش آگیا، اب اگر وہ دم ابھی تک ذبح نہ ہوا ہو تو اگر محصر کو یقین ہو کہ اگر وہ دوسرا احصار پیش نہ آتا تو وہ دم احصار کو زندہ پا سکتا تھا تو اگر دوسرے احصار کے لیے پہلے دم کی نیت کر لی تو وہی دوسرے احصار کے لیے کافی ہو جائے گا اور اگر دوسرے احصار کی نیت نہیں کی اور وہ ہدی ذبح ہو گئی تو اب اس کے ذبح پر دوسرے احصار سے حلال ہونا جائز نہیں،( الشامیة: ۴/ ۱۰) دوسری ہدی بھیجنا ضروری ہو گا۔
دمِ احصار پر قادر نہ ہوتو؟
اگر محصر کے پاس نہ ہدی کا جانور ہے اور نہ اتنا روپیہ ہے کہ اس سے جانور خریدا جا سکے یا جانور اور روپیہ تو موجود ہے لیکن کوئی ایسا آدمی موجود نہیں جس کے ذریعہ سے جانور یا قیمت بھیج کر دَم ذبح کرائے تو مفتی بہ قول کے مطابق وہ اس وقت تک اِحرام نہیں کھول سکتا جب تک کہ حرم میں ذبح نہ کرائے یا مکہ مکرمہ جا کر عمرہ نہ کرے، جب تک ان دونوں کاموں میں سے ایک کام نہ کرے گا ہمیشہ محرم رہے گا۔
دم اِحصار کے عوض میں روزہ رکھنا یا صدقہ دینا کافی نہیں، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ سے ایک روایت ہے کہ اگر ہدی نہ ملے تو اس کی قیمت لگا کر اس کے بقدر مساکین کو صدقہ دیا جائے، ہر مسکین کو نصف صاع (سوا دو کلو) گندم یا اس کی قیمت صدقہ دے دی جائے، اگر صدقہ بھی نہ دے سکتا ہو تو ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے اور پھر حلال ہو جائے،(ا لتنویروشرحہ: ۴/ ۶،۷) ضرورتِ شدیدہ کے وقت اس پر عمل کی گنجائش ہے۔
بصورت ِ دیگر احصار دَم نہ بھیجنے کی شرط لگالی تھی:
اگر کسی نے اِحرام کے وقت یہ شرط کر لی تھی کہ اگر محصر ہو گیا تو دم احصار نہیں بھیجوں گا، ویسے ہی حلال ہو جاؤں گا، تب بھی دم احصار بھیجنا واجب ہے، البتہ امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس صورت میں قربانی بھیجنا لازم نہیں،( الشامیة: ۴/ ۶) بوقت ِ ضرورتِ شدیدہ اس پر عمل کیا جا سکتا ہے۔
قارن دوسرے دَم کے ذِبح پر حلال ہوگا:
قارن نے دو دَم کی قیمت بھیجی، مگر اس سے صرف ایک ہی دم خریدا گیا اور ذبح کیا گیا تو جب تک دوسرا دم ذبح نہ کیا جائے گا حلال نہ ہوگا۔( الشامیة: ۴/ ۷)
شوہر نے بیوی کو حج سے روک دیا:
اگر عورت نے شوہر کی اجازت کے بغیر حج نفل کا اِحرام باندھا، محرم ساتھ موجود تھا لیکن شوہر نے عورت کو جانے سے روک دیا تو وہ محصر ہو گئی اور شوہر کو حق ہے کہ فی الحال اِحرام کے ممنوعات میں سے کسی ممنوع چیز کا ارتکاب کروا کر اس کا اِحرام کھلوا دے، دم احصار کے ذبح ہونے تک انتظار نہ کرے، لیکن عورت پر ایک دم احصار اور ایک حج اور عمرہ واجب ہو گا۔ بخلاف حج فرض کے کہ اگر محرم ساتھ نہ ہو اور شوہر روک دے تو شوہر کو دمِ احصار کے ذبح ہونے سے پہلے اسے حلال کرنے کا اختیار نہیں، وہ بلا ہدی ذبح کیے حلال نہ ہوگی۔( الغنیة: ص: ۳۱۵)
مفتی محمد
رئیس دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی


