جیسا کہ ابتداء میں یہ تفصیل گزر چکی ہے کہ رسول اللہﷺنے مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ مقامات مقرر فرمادیے ہیں جہاں پہنچ کر حرم یا مکہ مکرمہ میں داخل ہونے والے کے لیے بغیر اِحرام کے آگے بڑھنا جائز نہیں۔ ان جگہوں کو مواقیت کہتے ہیں، یہ مواقیت مکہ معظمہ سے دور ہیں۔
پھر ان مواقیت سے اندر مکہ معظمہ کے چاروں طرف کچھ حدود مقرر ہیں، یہ حرم کی حدود ہیں۔ ان جگہوں میں علامات بنی ہوئی ہیں، حدودِ حرم کا فاصلہ ہر جانب مختلف ہے۔ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ جاتے ہوئے مقامِ تنعیم پر حرم کی حد بنی ہوئی ہے۔ پہلے یہ جگہ مکہ مکرمہ سے تین میل تھی، اب شہر مکہ وہاں تک پہنچ گیا ہے۔ جدہ کی طرف حد حرم دس میل پر ہے اور طائف، عراق اور یمن کی طرف سات میل اور جعرّانہ کی طرف نو میل ہے۔
مواقیت سے باہر پوری دنیا ’’آفاق‘‘ کہلاتی ہے، اس کے رہنے والے کو آفاقی کہتے ہیں اور مواقیت اور حدودِحرم کے درمیان جو جگہ ہے اس کو حِل کہتے ہیں اور اس کے رہنے والوں کو حلی یا اہلِ حل کہتے ہیں اور حدودِ حرم کے اندر رہنے والوں کو اہلِ حرم کہتے ہیں۔
بلا اِحرام میقات سے آگے جانا:
آفاق سے آنے والوں کو شرعاً میقات سے اِحرام کے بغیر گزرنا ممنوع ہے۔
جو شخص میقات سے بلااِحرام گزر گیا وہ گنہگار ہوگا اور میقات کی طرف لوٹنا واجب ہوگا۔ اگر لوٹ کر میقات پر نہیں آیا اور میقات کے بعد ہی اِحرام باندھ لیا تو ایک دَم واجب ہوگا اور اگر میقات پر واپس آکر اِحرام باندھا تو دَم ساقط ہوجائے گا،(1) چاہے کسی بھی میقات پر واپس آکر اِحرام باندھے۔
میقات سے گزرنے کے بعد اِحرام باندھا:
اگرمیقات سے کوئی شخص اِحرام کے بغیر گزر گیا اور آگے جاکر اِحرام باندھ لیا اور مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے میقات پر واپس آگیا اور میقات پرآکر تلبیہ پڑھ لیا تب بھی دَم ساقط ہوجائے گا اور اگر مکہ مکرمہ میں داخل ہوگیا اور طواف شروع کرنے سے پہلے میقات پر واپس آکر تلبیہ پڑھ لیا تب بھی دَم ساقط ہوجائے گا۔( فی التنویر وشرحہ: ۳/ ۴۔۷۔۷۰۷)
میقات کے بعد اِحرام باندھ کر عمرہ یا حج کے کچھ افعال کر لیے:
اگر میقات سے اِحرام کے بغیر گزر گیا اور پھر آگے جاکر اِحرام باندھ لیا اور میقات پر واپس نہیں آیا اور عمرہ کرلیا تو دَم ساقط نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر حج یا عمرہ کے افعال شروع کرنے کے بعد میقات پر واپس آیا (یعنی عمرہ میں حجرِ اَسود کا اِستلام کرنے اور تلبیہ موقوف کرنے کے بعد یا طواف کا ایک چکر پورا کر کے آیا یا حج میں وقوفِ عرفہ کر کے دوبارہ میقات پر آیا) تو ان صورتوں میں بھی دَم ساقط نہ ہوگا۔( شرح التنویر: ۳/ ۷۰۶۔۷۰۷)
میقات واپسی پر تلبیہ کا حکم:
علامہ شامی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میقات کے بعد اِحرام باندھنے والا واپس آنے کی صورت میں اگر میقات سے تلبیہ پڑھ کر نہ جائے تو صرف میقات پر آنے سے دَم ساقط نہ ہوگا، بلکہ تلبیہ پڑھ کر میقات سے دوبارہ گزرنا ضروری ہوگا،( الدرالمختار: ۳/ ۷۰۶،۷۰۷)واضح رہے کہ یہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ کا مذہب ہے، صاحبین کے نزدیک اس صورت میں صرف میقات پر سے ہو کر گزرنا کافی ہے، تلبیہ پڑھے یا نہ پڑھے۔
کئی بار میقات سے بلا اِحرام گزر گیا:
میقات کے باہر سے آنے والا جسے آفاقی کہتے ہیں اگر حرمِ مکہ میں یا مکہ مکرمہ میں اِحرام کے بغیر داخل ہوجائے تو اس پر حج یا عمرہ کرنا واجب ہوجاتا ہے، اگر کئی مرتبہ اِحرام کے بغیر داخل ہوا ہو تو ہردفعہ کے لیے ایک حج یا عمرہ لازم ہوگا۔ (فی التنویر وشرحہ: ۳/ ۷۱۱)حج کا موقع تو سال بھر میں ایک ہی مرتبہ آتا ہے اور حج کے زمانہ میں حاضر ہونا قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے آسان بھی نہیں رہا، لہٰذا سہولت اس میں ہے کہ جتنی مرتبہ حرم میں یا مکہ مکرمہ میں اِحرام کے بغیر داخل ہوا ہے اتنی بار قضا کی نیت سے عمرہ کرلے۔
فائدہ:
میقات سے اِحرام کے بغیر گزرنے اور حرم یا مکہ میں داخل ہونے کی وجہ سے جو عمرہ یا حج اور دم لازم ہیں، اگر اس کے لیے مستقل عمرہ یا حج نہ کیا جائے بلکہ کوئی بھی حج یا عمرہ (خواہ فرض ہو، نفل ہو، نذر ہو، قضاء ہو) اس کے بعد ادا کیا جائے تو یہ اس حج و عمرہ کی جگہ کافی ہے جو حرم اور مکہ میں بغیر اِحرام کے داخل ہونے کی وجہ سے لازم ہوا تھا، نیز اگر نذر یا قضاء یا فرض حج کسی میقات سے اِحرام باندھ کر ادا کیا جائے تو اس کی وجہ سے وہ دم بھی ساقط ہو جائے گا جو بلا اِحرام میقات عبور کرنے کی وجہ سے لازم ہوا تھا، البتہ اگر کسی میقات سے نہیں بلکہ حل یا حرم کے اندر سے اس کے لیے اِحرام باندھا جائے تو پھر وہ دم دینا پڑے گا جو بلا اِحرام میقات عبور کرنے کی وجہ سے لازم ہوا تھا۔( فی التنویر وشرحہ: ۳/ ۷۱۱)( الغنیة: صـ: ۶۲)
میقات سے گزرا مگر حرم یا مکہ نہیں گیا:
کوئی شخص میقات سے اِحرام کے بغیر حرم یا مکہ جانے کی نیت سے گزر گیا لیکن حرم نہیں گیا تو اس پر بلا اِحرام میقات عبور کرنے کی وجہ سے دَم تو لازم ہے، لیکن اس پر حج یا عمرہ بھی لازم ہے یا نہیں؟
صاحب ِ بدائع اور صاحب ِ بحر کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس پر بھی حج یا عمرہ (جو مرضی ہو) کرنا لازم ہے جیسا کہ حرم میں داخل ہونے والے پر لازم ہے، لہٰذا احتیاط اسی میں ہے کہ اس صورت میں کم اَز کم عمرہ اداء کیا جائے۔( الغنیة: صـ: ۶۳)
اس صورت میں وہی تفصیل ہے کہ اگر کسی میقات سے عمرہ کا اِحرام باندھ کر جائے گا تو بلا اِحرام میقات عبور کرنے کی وجہ سے لازم ہونے والا دم بھی ساقط ہو جائے گا، اگر کسی میقات سے نہیں بلکہ حل سے اِحرام باندھ کر عمرہ ادا کرے گا تو یہ دم دینا پڑے گا۔
اہل حل پر اِحرام لازم نہیں:
جولوگ اہلِ حل ہیں ان کو حرم میں اور مکہ معظمہ میں اِحرام کے بغیر داخل ہونا جائز ہے، اگر کوئی شخص آفاق سے آئے اور میقات سے گزرے اور اس کا ارادہ حِل میں کسی جگہ جانے کا ہو تو وہ بھی اہلِ حِل میں شمار ہوگا اور اب وہ بھی اِحرام کے بغیر مکہ مکرمہ جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے سے اس پر کوئی جزا لازم نہ ہوگی۔البتہ حل والے لوگ اگر عمرہ یا حج کی غرض سے حرم میں جانا چاہیں تو پھر اِحرام باندھنا ضروری ہے۔( الدرالمختار: ۳/ ۵۵۳،۵۵۴)
اہل حل و اہل حرمِ کہاں سے اِحرام باندھیں؟
حِل کا رہنے والا اگر عمرہ کرنا چاہے تو حِل سے ہی اِحرام باندھے اور حل کا رہنے والا جو شخص حرم میں ہو اور اسے عمرہ کرنا ہو تو حدودِحرم سے باہر آکر اور حج کے لیے حرم ہی سے اِحرام باندھے۔( التنویر: ۳/ ۵۵۴)
مدینہ جانے والوں پر اِحرام لازم نہیں:
جو شخص آفاق سے آئے اور اس کا ارادہ مکہ مکرمہ سے پہلے مدینہ منورہ جانے کا ہو، وہ میقات سے اِحرام کے بغیر گزر سکتا ہے، اب جب مدینہ منورہ سے عمرہ کے لیے آئے تو ’’بِیر علی‘‘ سے اِحرام باندھے۔( الدرالمختار: ۳/ ۵۵۱،۵۵۲)
اہل آفاق کا جدہ سے اِحرام باندھنا:
بہت سے لوگ خالص حج یا عمرہ ہی کی نیت سے آفاق سے آتے ہیں اور میقات سے اِحرام نہیں باندھتے، جدہ آکر اِحرام باندھتے ہیں، ان پر دَم واجب ہوجاتا ہے، ایسے حضرات میقات پر یا اس سے پہلے اِحرام باندھیں۔( الدرالمختار: ۳/ ۵۵۱،۵۵۲)اگر مکہ مکرمہ جانے سے پہلے جدہ میں ایک دو دن ٹھہرنا ہو تو اِحرام کی حالت ہی میں وقت گزاریں۔
مفتی محمد
رئیس دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی


