دوسال پہلے گھرکے خاندانی معاملات میں میرے شوہر نے اپنےبھائی اوربھابھی کے سامنے یہ قسم کھائی تھی کہ اگرمیری بیوی نے یہ بات کسی کوبتائی تووہ اس گھرکی بہو اوران بچوں کی چاچی نہیں رہے گی (اپنے بھتیجا،بھتیجی کی طرف اشارہ کرکے) اورتهوڑی دیربعد میرے پاس آکرانہوں نے مجھ سے یہ کہاکہ اگرتم نے یہ بات کسی کوبتائی تومیں اپنے بھائی اوربھابھی کویہ بات کہہ کرآیاہوں،اس لئے تم اس بات کاذکر کسی سے نہ کرنا،کیونکہ میں نے اپنے نکاح کی قسم کھائی ہے،کچھ عرصہ قبل غصہ کی حالت میں مجھ سے یہ بات اپنی بہن کے سامنے نکل گئی جس کی قسم شوہرنے کھائی تھی،اس صورت میں ہم دونوں میاں بیوی طلاق توواقع نہیں ہوئی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اق واقع ہونے کے لئے ایسالفظ کاہوناضروری ہے جس میں طلاق والےمعنی کی صلاحیت پائی جاتی ہواوراایسے الفاظ انشاء کے صیغہ میں بولناضروری ہے،چونکہ مذکورہ الفاظ مستقبل کے ہیں اورانشاءکے الفاظ نہیں ہیں ،اس لئے صورت مسؤولہ میں شرط کے پائے جانے کے باجودطلاق واقع نہیں ہوگی ۔