| 68811 | جائز و ناجائزامور کا بیان | ہدیہ اور مہمان نوازی کے مسائل |
سوال
گاؤں دیہات میں جب بچہ یابچی کی ولادت ہوجاتی ہےتو عزیزواقارب بچےکوپیسےیاکپڑےوغیرہ دیتےہیں۔کیاوالدین اسےاپنےاستعمال میں یاکسی اور کودےسکتےہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بچوں کوجوتحائف دیےجاتےہیں،ان کی مختلف صورتیں ہیں:
1۔اگر وہ ایسی چیز ہےجوبچوں کے استعمال یاان کےضرورت کی ہےتو یہ ان بچوں کی ملکیت ہوگی۔ والدین کےلیےاس میں کسی قسم کاتصرف جائز نہیں ہے۔
2۔جوچیز بچوں کےاستعمال کےلیےخاص نہ ہو تواس میں عرف وعادۃ کااعتبار ہے،اگرعرف میں یہ تحائف بچے کےوالدین کودینامقصود ہوتےہیں توان چیزوں کامالک والدین ہوں گے۔پھر اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگروالدہ کے رشتہ داروں نےدی ہوں تووالدہ ان کی مالک ہے اور اگروالدکےرشتہ داروں نےدی ہوں تو اس کامالک والد ہے،وہ اس میں جوچاہےتصرف کریں۔
لہذا نابالغ بچےکوتحفےمیں ملے ہوئے کپڑےوالدین خود استعمال نہیں کرسکتے،کیونکہ یہ کپڑےبچےکی ملکیت ہوں گےاور جب بچے کی ملکیت ہوں گے تووالدین کےلیےخود لینایاکسی اور کودیناجائز نہیں ہے۔
حوالہ جات
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | متخصص | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


