| 62249 | خرید و فروخت کے احکام | بیع صرف سونے چاندی اور کرنسی نوٹوں کی خریدوفروخت کا بیان |
سوال
ہمارے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں زیورات کی خریدوفروخت سے متعلق آپ کے جامعہ کے ایک مولانا صاحب نے دو پروگرام کروائے تھے، جس میں بہت سے سنار حضرات نے شرکت کی جس سے سنار کمیونٹی کو بہت فائدہ ہوا، جس کی بنیاد پر ہم نے مفتی عبدالرؤف سکھروی صاحب مدظلہم کی کتاب" زیورات کی خریدوفروخت" سو نسخے منگوانے کا آرڈر دیا اور ساتھ یہ بھی طے کیا کہ زیورات سے متعلق چند ایک مشہور اور اہم مسائل پینا فلیکس کی شکل میں ہر دکان پر لگوا دیے جائیں۔ اس سلسلے میں ہمارے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پائی جانے والی مروجہ صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ سوالات مرتب کیے گئے ہیں، از راہ کرم ان سوالات کے جوابات مختصر ، آسان اور عام فہم انداز میں دے کر ممنون فرمائیں، تاکہ ہر سنار اس کو سمجھ کر اس پر عمل کر سکے۔ یہ بھی واضح رہے کہ جامعۃ الرشید سے تصدیق شدہ یہ جوابات ہم دوسرے شہروں میں موجود سنار حضرات تک پہنچانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں، سوالات یہ ہیں:
سوال : سونے کے سادہ زیورات (جس میں نگینے وغیرہ نہیں لگے ہوتے) کی سونے کے بدلے خریدوفروخت کے شرعی طور پر درست ہونے کے لیے کون سی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سونے کے سادہ زیورات کی سونے کے بدلے خریدو فروخت دو شرطوں کے ساتھ جائز ہے: اول یہ کہ دونوں طرف سے سونےکی مقدار برابر ہو ۔ دوسری یہ کہ اسی مجلس میں خریدار اور فروخت کنندہ زیور اور سونا اپنے قبضہ(Delivery) میں لے لیں۔ ان میں سے اگر کوئی ایک شرط بھی نہ پائی گئی تو معاملہ سودی ہو جائے گا، جس کو ختم کرنا فریقین کے ذمہ لازم ہو گا۔
حوالہ جات
الجمع بين الصحيحين البخاري ومسلم (2/ 316):
عن أبي سعيد قال قال رسول الله {صلى الله عليه وسلم}: الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلاً بمثل يداً بيدٍ فمن زاد أو استزاد فقد أربى، الآخذ والمعطي فيه سواء۔
الهداية شرح البداية (3/ 61):
الذهب بالذهب وزنا بوزن وإن تفاضلا لم يجز لتحقق الربا ولا يجوز بيع الجيد بالرديء مما فيه الربا إلا مثلا بمثل لإهدار التفاوت في الوصف۔
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشید، کراچی
7/ جمادی الاخری 1439ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


