03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کریڈٹ کارڈ کی واجب الاداء رقم قسطوں پر ادا کرنے کا حکم
71444سود اور جوے کے مسائلانشورنس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کریڈٹ کارڈ کا استعمال کرتا ہے، اور وقت پر بل بھی ادا کرتا ہے۔

اب وہ کریڈٹ کارڈ کے ذریعےسے خریداری کرتا ہے، تو اس کے نتیجے میں  جو رقم بینک کو ادا کرنی اس کے ذمے   ہے ،اس کے بارے  میں بینک یہ آفر کرتا ہےکہ خواہ اسے grace periodکے اندر اندر ادا کر دو، خواہ  اس کی قسطیں بنوا لو۔ قسطوں کی  صورت میں  اگر وہ تین ماہ کے لیے قسطیں بنوائے  تو بینک تین فیصد اپنے اخراجات کے طور پر وصول کرتا ہے، اگر چھ ماہ کے لیے بنوائے تو چھ فیصد،اور  اگر ایک سال کے لیے بنوائے تو بارہ فیصد مزید وصول کرتے ہیں،اور یہ رقم بینک  اپنے اخراجات کی مد میں لیتا ہے، تو کیا اس طرح قرض لیا جاسکتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کریڈٹ کارڈ کا اجراء اس شرط کےساتھ ہوتا ہے کہ   ایک خاص مدت کے اندر واجب الاداء رقم  کی ادائیگی نہ کی گئی تو اس پر سود ادا کرنا ہوگا۔ لہذا اس شرط پر معاملہ ہونے کی وجہ سے  معاملہ درست نہ ہوا، اس وجہ سے کریڈٹ کارڈ کا استعمال عام حالات میں درست نہیں۔ تاہم انتہائی مجبوری کی حالت میں اس شرط کے ساتھ اس کا استعمال جائز ہے کہ اسے نقد رقم نکالنے کے لیے استعمال نہ کیا جائے،اور واجب الاداء رقم گریس پیریڈ کے اندر اندر ادا کی جائے۔

صورت مسئولہ میں کریڈٹ کارڈ کے ذریعے خریداری کے نتیجے میں آپ بینک کے مدیون ہو گئے  اور بینک دائن ہوا، اور دائن کو اختیار ہوتا ہےکہ وہ اپنا دین قسطوں کی صورت میں مؤجل کر سکتا ہے۔ البتہ قسطوں کی صورت میں وصول کی جانے والی  تین ، چھ یا بارہ فیصد اضافی رقم اگر واقعۃ حقیقی اخراجات کی مد میں وصول کی جاتی ہے تو جائز ہے، ورنہ یہ جرمانہ اور سود ہے ۔ چنانچہ یہ اضافہ نہ کسٹمر کے لیے ادا کرنا جائز ہے نہ بینک کے لیے وصول کرنا درست ہے۔

حوالہ جات

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 73)

الثانية: ما أبيح للضرورة يقدر بقدرها

بحوث في قضايا فقهية معاصرة (ص: 208)

تكليف المستقرضين بأداء رسم الخدمة:لا مانع من أن يطالب البنك مستقرضية بأداء مبلغ مقابل التكلفات الإدارية التي تحملها في تقويم المشروعات, ومتابعة تنفيذها, ما دام ذاك المبلغ لا يجاوز التكلفات الفعلية الواقعة في ذلك المشروع خاصة.فإن كان من الممكن تحديد هذه التكلفات بدقة, فهو الأنسب والأوفق بأحكام الشريعة فإنه لا غبار على جوازه.

وإن لم يكن تحديد التكلفات الفعلية بالنسبة إلى كل مشروع خاصة, فمن الجائز أيضا أن يطالبهم البنك لا بالتكاليف الواقعية فحسب، بل بعمولة الإجراءات الإدارية التي يقوم بها البنك قبل دفع القرض أو بعده, ما دامت هذه العمولة لا تجاوز أجر المثل على مثل هذه الأعمال, فإن الذي لا يجوز مطالبة الربح أو الأجر عليه، هو عمل القرض بنفسه, أما الأعمال الإدارية بالنسبة لذلك القرض, فلا يجب شرعا أن تكون مجانية.وحينئذ يسع للبنك أن يطالب المستقرضين بنسبة مئوية من قيمة القرض تغطي التكاليف وعمولة الإجراءات الإدارية, ما دامت هذه النسبة المئوية تمثل أجرة المثل على تلك الأعمال الإدارية حقيقة, ولا تتخذ حيلة لكسب الفوائد على القروض نفسها.ونظير ذلك ما ذكره الفقهاء أن القاضي والمفتي لا يسع لهما مطالبة الأجر من الخصم, أو المستفتي, ولكن يجوز لهما أن يطالباه بأجرة كتابة الفتوى, أوكتابة الوثائق, والمحاضر والسجلات, مادامت هذه الأجرة لا تجاوز أجر المثل على مثل هذه الأعمال, ولا تتخذ حيلة لإكتساب الأجرة على الإفتاء والقضاء نفسهما.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 157)

 (ولزم تأجيل كل دين) إن قبل المديون ويصح تعليق التأجيل بالشرط فلو قال لمن عليه ألف حالة إن دفعت إلي غدا خمسمائة فالخمسمائة الأخرى مؤخرة عنك إلى سنة فهو جائز كذا في الذخيرة

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 227)

وكما أنه يجوز تأجيل الثمن وتقسيطه حين عقد البيع كذلك يجوز تأجيله وتقسيطه بعد العقد ويصبح الأجل لازما وعلى هذا إذا باع إنسان من آخر مالا على أن يدفع الثمن معجلا ثم أجل البائع الثمن بعد البيع إلى أجل معلوم أصبح التأجيل لازما (انظر المادة 248) .

ذاہب حنان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

02/01/2022

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ذاہب حنان بن محمد رمضان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب