03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
آنلائن دوکان سے خریداری کرنے کاحکم
71565خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

ایک شخص آن لائن دکان کھولتا ہے جس کی چیزوں کو لوگ دنیا بھر سے لے سکتے ہیں،اور جس کی دکان جتنی زیادہ نمایاں ہوتی ہے اتنی زیادہ اس کی سیل ہوتی ہے۔نمایاں ہونے کے لیے اسے اپنی دکان کی مارکیٹنگ کرنی ہوتی ہے،وہ یہ کرتا ہے کہ کچھ ایجنٹس سے رابطہ کرتا ہے جو اس کی دکان کی مارکیٹنگ کرتے ہیں،دکاندار ایجنٹ کو پہلے ہی بتادیتا ہے کہ وہ کس حد تک اور کتنے بجٹ تک مارکیٹنگ کر سکتا ہے۔ مارکیٹنگ کا طریقہ یہ ہے کہ ایجنٹ کسٹمرز کو دکان کا آنلائن ایڈریس بتاتا ہے،اس کے بعد کسٹمر دکان سے جاکر چیز خریدتا ہے، اکثر تو کسٹمر اپنے پیسوں سے ہی پہلے چیز لے لیتا ہے لیکن کبھی کبھی کسٹمرکو پیسے بھی دیے جاتے ہیں تاکہ وہ جاکر اس دکان سے چیز خرید لے اور پھر اس چیز کو دکان دار کی طرف سے گفٹ سمجھ کر رکھ لے۔ پہلے خریدنے کی صورت میں کسٹمر دکان سے چیز خرید کر اپنے پاس ۷ دن تک استعمال کرتا ہے ،اس کے بعد اگر اسے چیز اچھی لگی ہو تو وہ  اس دکاندار کی چیز کی تعریف کرتا ہے تاکہ اسے دیکھ کر اور بھی لوگ اس دکان سے خریداری کریں۔ اور اگر اسے چیز پسند نہ آئے یا وہ ایکسچینج کرواناچاہتا ہو یا واپس کروانا چاہتا ہو تو وہ اس دکان کی چیز واپس کرواسکتا ہے جس سے دکان کی ریٹنگ بھی گر جائے گی اور اس کی سیل بھی متأثر ہوگی، اس حوالے سے دکاندار کسی بھی قسم کی زبردستی کسٹمر سے نہیں کرسکتا۔کسٹمر کی تعریف  اگر آنلائن ویب سائیٹ ایمازون کو صحیح لگتی ہے تو وہ اس تعریف یا تبصرے کو لائیو نشر کر دیتی ہے جس سے اس تعریف یا تبصرے کو دنیا بھر سے لوگ دیکھ سکتے ہیں اور اس سےدکان کی سیل میں اضافہ بھی ہوگا، اس کے بعد دکاندار ایجنٹ کے ذریعے خریدار کو اس کی پوری خریداری کی قیمت اس کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کردیتا ہے اور اپنی دکان کی خریدی ہوئی چیز اسے تحفہ اور ہدیہ کے طور پر دےدیتا ہے۔بعض اوقات آن لائن ویب سائیٹ کے اس تعریف یا تبصرے کو لائیو نہ کرنے پر یا اسے ڈیلیٹ کرنے پر بھی دکاندار ایجنٹ کے ذریعے کسٹمر کو صرف اس کی ریٹنگ پر ہی خریداری کی رقم واپس کر دیتا ہے۔ اس ساری مارکیٹنگ کی ڈیل دکاندار ایجنٹ سے کرتا ہے یا ایک ایجنٹ دوسرے ایجنٹ سے کرتا ہے جس کی ایجنٹ کو ایک مقررہ رقم ملتی ہے۔

سوال:اب سوال یہ ہے کہ کیا گاہک کا اس طرح مفت اشیاء لینا جائز ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ صورت میں یہ معاملہ جائز ہے اور گاہک کا اس طرح مفت اشیاء لینا بھی جائز ہے کیونکہ دکاندار کا خریداری کی قیمت وصول نہ کرنا یا خریداری کے بعد اسے واپس کردینا اپنے حق کو ساقط کرنا ہے جو کہ ازروئے شرع جائز ہے۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 247)

إذا حط البائع من ثمن المبيع أو وهب منه للمشتري قبل القبض أو أبرأه من بعضه إبراء إسقاط فإن الحط والهبة والإبراء  تلتحق بأصل العقد فيصبح تمام المبيع مقابلا لباقي الثمن المسمى ويظهر ذلك في الشفعة والاستحقاق (هندية).

الفتاوى الهندية (3/ 173)

وإذا حط كل الثمن أو وهبه أو أبرأه عنه فإن كان ذلك قبل قبض الثمن صح الكل ولكن لا يلتحق بأصل العقد وإن كان بعد قبض الثمن صح الحط والهبة ولم يصح الإبراء هكذا في المحيط

معاذ احمد بن جاوید کاظم

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

معاذ احمد بن جاوید کاظم

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب