| 71824 | نکاح کا بیان | جہیز،مہر اور گھریلو سامان کا بیان |
سوال
میری شادی سن ۲۰۱۹ء کو فرحان بن سہراب سے ہوئی،شادی کے چھ ماہ تک ازدواجی زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی اس کے بعد میرے شوہر نے مجھے تنگ کرنا شروع کردیا۔ایک سال بعد میرابیٹا پیداہوا اوراس کے بعد میرے شوہر نے مجھے گھر سے نکال دیا،اب سات مہینوں سے میں اپنے میکے میں ہوں میراشوہرنہ خود آتا ہے اور نہ میرا اور بچے کا نان نفقہ دے رہا ہے۔برادری والوں نے بارہا صلح کی کوشش کی مگر میرا شوہر کسی صورت مجھے رکھنے کو تیارنہیں اور طلاق دینے پر بضد ہے۔نکاح کے وقت میرا مہر ایک لاکھ روپے مقرر ہوا تھا جو کہ انہوں نے ادا نہیں کیا اور نا ہی مقررشدہ نان نفقہ ادا کررہے ہیں جوکہ نکاح نامہ کے مطابق تین ہزار روپے ماہانہ ہے۔
سوال:جہیز کے سامان کا حق دار کون ہے؟جبکہ وہ لڑکے کے پاس ہی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں والدین کی طرف سے جو بیٹی کو جہیز دیا جاتا ہے وہ اس کی ملکیت میں دے دیاجاتا ہے لہذا بیوی ہی اس کی اصل حقدار ہے،شوہر یا سسرال والوں کا اس میں کوئی حق نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 328)
رجل جهز لابنة له فمات قبل التسليم إليها وطلب بقية الورثة نصيبهم من الجهاز فإن كانت الابنة بالغة وقت التجهيز فلباقي الورثة نصيبهم هكذا ذكر وهو الصحيح؛ لأنها إذا كانت بالغة ولم يسلم إليها لا يصح القبض والملك بخلاف ما إذا كانت صغيرة حيث لا نصيب للباقين؛ لأنها إذا كانت صغيرة كان الأب قابضا لها، كذا في جواهر الفتاوى.
معاذ احمد بن جاوید کاظم
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
۲۲ جمادی الاولی ۱۴۴۳ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | معاذ احمد بن جاوید کاظم | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


